لکپاس کسٹم ہاﺅس میں آتشزدگی سے ٹرانسپورٹروں کا 9 ارب روپے کا نقصان، حکومتی امدادی پیکج کا اعلان کریں، تاجران و ٹرانسپورٹرز
کوئٹہ ( آن لائن) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ ، آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر نواب مینگل ، آل کوئٹہ تفتان رخشان ڈویژن بس یونین کے مرکزی صدر حاجی ملک شاہ جمالدینی سمیت دیگر رہنماﺅں نے حکومت سے لکپاس کسٹم ویئر ہاﺅس میں آتشزدگی سے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور لوگوں کے تحویل میں لئے گئے اربوں روپے کے مال اور گاڑیوں کے جلنے کی تحقیقات کرکے اس میں ملوث عناصر کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں اپنے دیگر ساتھیوں عمران اللہ ترین ، سعد اللہ اچکزئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ لکپاس کسٹم ویئر ہاﺅس میں آتشزدگی کا واقعہ قابل مذمت عمل ہے جس میں سینکڑوں گاڑیاں اور ان میں لوڈ سمیت تحویل میں لیا گیا اربوں روپے کا سامان جس میں کوچز، ٹرک، بوزر، مزدا ٹرک، ٹینکر ٹرالر اور چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل ہیں۔ واقعہ کی تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور زیر التواءکا کیسز کو فوری طور پر نمٹایا جائے انہوں نے دعویٰ کیا کہ آتشزدگی واقعہ میں ٹرانسپورٹروں کا 9ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور آتشزدگی میں بہت سے سوالات اور خدشات پیدا کئے ہیں لوگوں میں تاثر پایا جاتا ہے کہ پہلے مبینہ طور پر اربوں روپے مالیت کا قیمتی سامان غائب کیا گیا ہے پھر اس کی چوری چھپانے کیلئے آتشزدگی کا واقعہ رچایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ آتشزدگی اور کسٹم حکام کی نا اہلی نے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی ٹرانسپورٹ کو جلاکر راکھ کردیا گیا اور 8 مئی سے 10 مئی تک لکپاس کسٹم ویئر ہاﺅس میں ڈیوٹی دینے والے آفیسران کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور آتشزدگی متاثرین کو فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے اور امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ لوگوں کی داد رسی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ 300 لیٹر ڈیزل رکھنے پر گاڑیاں ضبط کرلی جاتی ہے اسی طرح سولر پینل، سمر سیبل ، پمپس، الیکٹرونک اشیاءدوسرے شہروں سے کوئٹہ منتقل کرنے پر انہیں سمگلنگ کے نام پر ضبط کیا جاتا ہے جن کا ریکارڈ اور رسیدیں قانونی دستاویزات کسٹم حکام کو پیش کی جاتی ہے لیکن وہ کیسز کو جان بوجھ کر التواءکا شکار بناتے ہیں اتنا بڑا سانحہ ہونے پر تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے آج تاجر برادری اور شہری سوال پوچھنے حق بجانب کہ آتشزدگی کے اتنے بڑے اسکینڈل میں کون ملوث ہے اور ہونے والے نقصانات تخمینہ لگاکر تاجروں کو معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ ان کی داد رسی ہوسکے۔


