شاہراہوں پر مال بردار ٹرک نذر آتش کیے جا رہے ہیں اگر کوئی فریق ملوث نہیں تو پھر یہ واقعات کون کر رہا ہے؟ محمود خان اچکزئی

کوئٹہ(یو این اے )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان اس وقت انتہائی نازک اور خطرناک حالات سے گزر رہے ہیں، جبکہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور امن و امان کے مسائل کے حل کے لیے آئین کی بالادستی، جمہوری عمل اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں نواب ایاز خان جوگیزئی، عبدالرحیم زیارتوال، رف لالا، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور دیگر رہنماوں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک اور صوبے کی موجودہ صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہوچکی ہے، پاکستان پورے خطے میں سب سے بڑے بحران کا شکار ہے اور بلوچستان میں حالات مزید پیچیدہ ہیں، جہاں عوام بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔محمود خان اچکزئی نے مسلح افواج اور ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ پارلیمنٹ کے لیے نمائندوں کے انتخاب کا حق صرف عوام کو دیا جائے اور عوام جسے منتخب کرنا چاہیں اسے پارلیمنٹ میں جانے دیا جائے۔ انہوں نے 2024 کے عام انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں افواج منتخب حکومتوں کے ماتحت کام کرتی ہیں اور ریاستی امور عوامی نمائندوں کے ذریعے ہی چلائے جاتے ہیں، ماضی میں سوویت یونین نے طاقت کے ذریعے نظام چلانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ ٹوٹ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے لیکن یہاں کے عوام غربت اور بے روزگاری کا شکار ہیں، پاکستان کھربوں ڈالر کے قرضوں تلے دب چکا ہے، تاہم یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان قرضوں سے بلوچستان اور دیگر محروم علاقوں کو کتنا فائدہ پہنچا۔ انہوں نے نئے صوبوں اور اضلاع کے قیام کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کرسکتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے بلوچ اور پشتون عوام کو بھائی قرار دیتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔اپوزیشن لیڈر نے چمن اور دیگر سرحدی علاقوں میں تجارت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ سرحدی تجارت ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ تھی لیکن مختلف پابندیوں کے باعث عوام مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں، اگر سرحدی راستے اور بارڈر کھولنے کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سخت احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہوں پر آئے روز مال بردار ٹرک نذر آتش کیے جا رہے ہیں اور اگر اس میں کوئی فریق ملوث نہیں تو پھر یہ واقعات کون کر رہا ہے؟ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عدلیہ کمزور ہوچکی ہے جس کی وجہ سے عوام کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، ملک میں قتل و غارت گری اور بدامنی کے واقعات میں اضافے پر حکومت کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں