اسماءجتک کیس ،خضدار انجیرہ میں چھاپہ متعدد افراد گرفتار اسلحہ اور گاڑیاں برآمد

خضدار(بیورورپورٹ) خضدار، ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس قلات رینج وزیر خان ناصرنے کہا ہیکہ 4 اگست کو شہزاد سٹی خضدارمیں اسماجتک کے والد اسکول ٹیچر ماسٹر عنایت اللہ جتک کے قتل کے واقعے میں ہماری پولیس کی پوری ٹیم بشمول آر او خضدار،ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ملزمان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارنے گئی چھاپے کے دوران ملزمان کے گھر سے بھاری مقدار میں ممنوعہ اسلحہ منشیات اور دیگر سامان برآمد کیاگیا برآمد ہونے والے اسلحے میں ایل ایم جی راکٹ لانچرکلاشنکوف اور دیگر رائفلیں شامل ہیں اس کے علاوہ ملزمان کے موبائل فون اور اہم دستاویزات بھی قبضے میں لی گئی ہیں ڈی آئی جی کے مطابق کاروائی کے دوران 6 مشکوک افرادکو گرفتارکیاگیاہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے کہ ان کا تعلق اس قتل اور دیگر مقدمات سے ہے یا نہیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ مرکزی ملزم ظہور جمالزئی اور اس کا گروہ مختلف تھانوں میں درج تقریباً 10 مقدمات میں مطلوب ہے جن میں 302 کے مقدمات بھی شامل ہیں ظہور جمالزئی کو ایک کیس میں غیر حاضری کی بنیاد پر سزائے موت بھی ہو چکی ہے لیکن وہ اب تک گرفتار نہیں ہوسکاہےڈی آئی جی نے کہا کہ پولیس کو انٹیلی جنس اداروں اور خضدار کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائےڈی آئی جی نے کہاکہ ملزم کے گھر میں ایک تہہ خانہ بھی موجود تھا جہاں سے زنجیریں برآمد ہوئیں اطلاعات ہیں کہ وہاں لوگوں کو پکڑ کر باندھا جاتا تھا تاہم اس وقت وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھےڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ چند ماہ قبل پولیس نے ایک گینگ گرفتار کیا تھا جس سے ریکوری بھی ہوئی تھی لیکن عدالت سے ضمانت کے بعد وہ دوبارہ سرگرم ہوگئے تھےاورانہیں دوبارہ حراست میں لے کر تفتیش کی جارہی ہے آخر میں ڈی آئی جی نے کہا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق میڈیا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں