برٹش بلوچستان اور تاریخی پشتون اضلاع (کوئٹہ، پشین، لورالائی، ژوب، چمن، ہرنائی، زیارت) کا اپنا الگ جغرافیائی وجود ہے،محمود خان اچکزئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز)کوئٹہ میں جاری پشتون قومی جرگہ میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی ،چیئرمین پشتونخواہ میپ محمود خان اچکزئی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا یہ جرگہ بنوں قومی جرگے کے فیصلوں کا تسلسل ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، نواب اور قبائلی مشران سر جوڑ کر قومی لائحہ عمل بنائیں یہ جرگہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پوری پشتون قوم کے بقا کا جرگہ ہے، ہم واضح کرتے ہیں کہ پشتونوں کا یہ قومی جرگہ کسی بھی طور پر بلوچوں کے خلاف نہیں، بلوچ ہماری طرح اپنی تاریخی سرزمین پر آباد ہیں، دونوں قوموں کے درمیان کوئی دشمنی یا جنگ نہیں، پشتون اور بلوچ صدیوں سے ہمسائے ہیں، ہم ہر معاملے پر برادرانہ بات چیت اور امن چاہتے ہیں، پاکستان پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سب کا سانجھا ملک ہے، کوئی آقا اور کوئی غلام نہیں، آئین اور قانون کے مطابق تمام قومیتوں کو ان کے حقوق اور برابری ملنی چاہیے، برٹش بلوچستان اور تاریخی پشتون اضلاع (کوئٹہ، پشین، لورالائی،ژوب، چمن، ہرنائی، زیارت) کا اپنا الگ جغرافیائی وجود ہے، کوئٹہ سمیت پشتون پٹی میں اراضی پر غیر قانونی قبضے اور ڈیمارکیشن کے مسائل فوری حل کیے جائیں، بازئی قبیلے اور دیگر پشتون اقوام کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر زبردستی قبضے کسی صورت قبول نہیں، ہماری پہاڑیاں لیتھیم، سونا، چاندی، تانبا اور نایاب معدنیات سے بھری پڑی ہیں، ایک ایک کلو لیتھیم اور معدنیات لاکھوں ڈالرز کی ہیں، مگر ہمارے عوام کو بھوکا رکھا جا رہا ہے، اتنے بے پناہ قدرتی خزانوں کے باوجود ہمارے باصلاحیت نوجوان دبئی میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، پشتونوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جس کا ذکر رگ وید اور قدیم ترین تاریخ میں موجود ہے، سکندرِ اعظم سے لے کر برطانوی سامراج تک، ہمارے آباو¿ اجداد نے ہمیشہ اپنی خودداری اور دھرتی کا دفاع کیا، احمد شاہ بابا اور میرویس خان نیکہ نے ہمیشہ عدل، انصاف اور خود مختاری کا درس دیا، اقوام عالم، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور اقوام متحدہ خطے کی اصل صورتحال کا نوٹس لیں، افغانستان پر پہلے روس اور پھر امریکہ و نیٹو نے جنگیں مسلط کر کے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا، دنیا نے اپنی پراکسی جنگوں سے ہمارے ہنستے بستے ملک کو برباد اور بارود کا ڈھیر بنا دیا، پشتون ہرگز دہشت گرد نہیں، وہ ایک مہمان نواز، انسان دوست اور پرامن قوم ہیں، مسجدوں اور حجروں میں مسافروں کو روٹی اور پناہ دینے والے کلچر کو بدنام کیا گیا، زیارت سانحہ سمیت پے در پے ہونے والے خونریز واقعات اور بدامنی کا مستقل خاتمہ ضروری ہے، سڑکوں پر آئے روز کی تلاشیوں، چیک پوسٹوں اور عام شہریوں کی بے عزتی کے سلسلے بند کیے جائیں، بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں، پشتون قوم کا آخری راستہ بھی سیاسی مذاکرات اور اتحاد ہی ہے، گرینڈ جرگے کے ذریعے عالمی برادری، ہمسایہ ممالک اور ریاست کے سامنے متفقہ مطالبات رکھے جائیں گے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ہر کارکن قوم کے متفقہ فیصلوں پر جان دینے کو تیار ہے، موجودہ کٹھن حالات میں پشتونوں کے جان و مال اور عزتیں شدید خطرات سے دوچار ہیں، تمام سیاسی و قبائلی اختلافات بھلا کر پوری قوم کو ایک عظیم ‘گرینڈ جرگہ’ بلانا ہوگا، آمو دریا سے لے کر اباسین تک کی سرزمین تاریخی، جغرافیائی اور قدرتی طور پر ہماری ہے، ہماری زمین سونا، چاندی، گیس، اور لیتھیم جیسے بے بہا وسائل سے مالا مال ہے، وسائل کی فراوانی کے باوجود ہمارے نوجوان دبئی اور خلیجی ممالک میں مزدوری پر مجبور ہیں، دنیا کے تمام انسان حضرت آدم اور حوا کی اولاد ہیں، زبان اور نسل کی بنیاد پر کوئی برتر نہیں، پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان کوئی جنگ یا تنازع نہیں، ہم پرامن ہمسایگی چاہتے ہیں، بلوچوں کی اپنی تاریخی سرزمین ہے اور پشتونوں کی اپنی، کوئی کسی کا آقا یا غلام نہیں، خطے کی صورتحال پر امریکہ، چین، روس اور تمام عالمی طاقتوں کو ہمارا واضح پیغام ہے، ہماری سرزمین کو مزید عالمی پراکسی جنگوں اور خون ریزی کا میدان نہ بنایا جائے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری افغانستان اور پشتون خطے میں امن کے قیام کی ضمانت دیں، چار دہائیوں کی جنگوں نے ہمیں تباہ کر دیا، اب ہم بندوق کی بجائے سیاسی شعور سے حقوق لیں گے، ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے، صرف اپنی سرزمین کے وسائل پر اپنا جائز اور آئینی حق مانگتے ہیں، اب ہمارے مستقبل کے فیصلے بند کمروں میں نہیں، بلکہ پشتون قوم کے اس گرینڈ جرگے میں ہوں گے۔


