گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران میں بس سروس کی عدم فراہمی، طلباءشدید مشکلات کا شکار، جنوبی خاران میں نئے کالج کے قیام کا مطالبہ ،بساک خاران زون

خاران (مانیٹرنگ ڈیسک)گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران میں طلباءکی آمد و رفت کے لئے بس سروس نہ چلائے جانے کے باعث طلباءشدید پریشانی کا شکار ہیں۔ خاران شہر جغرافیائی اعتبار سے کافی طویل ہے، جس کی وجہ سے طلباءکے لیے پیدل کالج پہنچنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ کالج خاران کے شمالی وسط میں واقع ہے، جبکہ شہر کے دور دراز علاقوں سے یہاں تک پیدل پہنچنے میں چار سے پانچ گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔وڈھ، گزی روڈ ایریا، گدان ہوٹل ایریا، نوروز آباد کراس، کلان، حاجی شامیر بور ایریا، بازار، سراوان روڈ ایریا، ڈیری فارم اور سیاہ پٹ ایریا سمیت متعدد علاقوں کے طلباءکو اس مشکل کا سامنا ہے، اور یہ محض خاران شہر کے جنوبی حصے کی صورتحال ہے۔ باقی ماندہ علاقوں کے طلباءکی مشکلات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ کالج انتظامیہ کی نااہلی اور عدم توجہی کے باعث طلباءبروقت اپنی کلاسز میں شرکت نہیں کر پا رہے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے اور طلباءکے تعلیمی مستقبل پر براہِ راست منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔دوسری جانب ضلع خاران آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا شہر ہے، جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلباءمیٹرک کا امتحان پاس کرتے ہیں، مگر محض ایک ہی ڈگری کالج ہونے کی وجہ سے یہ تمام طلباءشدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک کالج پر اتنی بڑی آبادی کا بوجھ نہ صرف فاصلے اور آمد و رفت کے مسائل کو جنم دیتا ہے بلکہ داخلوں، نشستوں کی کمی اور تعلیمی معیار پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ضلع خاران کے جنوبی حصے کے وسط میں ایک نیا ڈگری کالج قائم کیا جائے، تاکہ اس علاقے کے طلباءکو دور دراز کا سفر طے کئے بغیر اپنے ہی قریب تعلیم کے حصول کا موقع میسر آ سکے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔ہم حکومتِ بلوچستان، محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور کالج انتظامیہ سے پ±رزور درخواست کرتے ہیں کہ:گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران میں طلباءکے لئے اس کے مستقل بس سروس کا فوری انتظام کیا جائے۔ضلع خاران کے جنوبی علاقے میں آبادی کے تناسب سے ایک نیا ڈگری کالج قائم کیا جائے۔ہم اس مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام اس معاملے پر فوری کارروائی کریں گے تاکہ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران اور ضلع بھر کے طلباءکا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے اور یہ ادارے آنے والی نسلوں کے لئے روشن مستقبل کی علامت بن سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں