بڑی زبانیں بولنے والے کم بولی جانے والی زبانوں کا استحصال کررہے ہیں، عبدالخالق ہزارہ

کوئٹہ:ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئر مین وصوبائی مشیر برائے کھیل وثقافت،سیاحت،آثار قدیمہ وامور نوجوانان عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ مادری زبان کو محبت،امن،رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کا ذریعہ بنا کر اقوام کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنا یا جاسکتا ہے ہم نے بڑی محنت اور کوششوں کے بعد خطے کی چھوٹی اور معدوم ہوتی ہوئی کئی زبانوں کو مشکلات ومسائل سے ا ٓگاہی حاصل کی ہے یہ بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ بڑی زبانیں بولنے والے اپنی زبانوں کی ترویج کیلئے چھوٹی وکم بولی جانے والی زبانوں کا استحصال کر کے اس کی بقاء کو خطرات سے دو چار کررہی ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے کیبلاغ ہزارگی کے زیر اہتمام عالمی یوم مادری زبان کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے کیبلاغ ہزارگی کے صدر محمد علی نورانی ودیگر نے بھی خطاب کیا عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ ہر زبان کی اپنی مخصوص آواز لہجہ اور تلفظ ہوا کرتی ہے اور اس لہجے،تلفظ اور آواز کی شناخت کے ذریعے ہم ایک دوسرے تک اپنا مدعا درست طور پر پہنچا کر اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ہزارگی زبان اس خطے کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک زبان ہے جسے ہزارہ قوم کے تمام قبائل بولتے اور اسی زبان کے ذریعے اپنا مافی الضمیر بنا کرتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ بڑی زبانیں بولنے والی اقوام نے ہماری زبانوں کو بھی ہماری قومیت کی طرح نفرت اور بغض کی نگاہوں سے دیکھا اور انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح ہزارگی زبان کو بھی ہزارہ قوم کی طرح ختم کیا جائے مگر یہ ان کی بھول تھی کیونکہ نہ ہزارہ قوم ختم ہوا اور نہ ہی ہزارگی ختم ہوئی بلکہ ہر نسل نے اپنے بزرگوں کی دیگر امانتوں کی طرح زبان کی امانت کو بھی سنبھال کر رکھا اور اسے دوسری نسل کو منتقل کرنے کی ذمہ داری ادا کی انہوں نے کہا کہ جدید سائنسی دور میں جہاں ٹیکنالوجی کی زبانیں بھی سائنسی،انگریزی،جرمن،جاپانی،چائنیز اور دیگر بڑی زبانوں میں موجود ہے وہی اس کی وجہ سے چھوٹی زبانیں بولنے والوں کیلئے نت نئے چیلنجز پیداہوتے جارہے ہیں ہمیں اپنی نئی نسل کی توجہ ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے آبا واجداد کی زبانوں کو ت حفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات سے بھی پورا فائدہ حاصل کرسکیں اس وقت زندگی کے تمام شعبوں پر ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی اثر انداز ہوگئی ہے زندگی کے تمام امور حتیٰ کہ اب تعلیم کے میدان میں بھی جدید ٹیکنالوجی کو ہی ذریعہ صدیوں تک پسماندگی ہمارا مقدر ہوگی پارٹی رہنماء نے کہا کہ اگر شہید چیئر مین حسین علی یوسفی کے دور میں کیبلاغ ہزارگی رسم الخط بنا کر اسے پیش کرتا تو سب سے زیادہ خوشی شہید یوسفی کو ہوتی کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ق ومی زبان،ادب،ثقافت،رسم ورواج کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ہمیں دکھ ہیے کہ ہم انہیں ان کی زندگی میں ہزارگی رسم الخط کا تحفہ نہ سے سکیں مگر ان کے ارمانوں اور خوابوں کی تکمیل کیلئے کوئی دقیقہ نروگذاشت نہیں کرینگے یہ اعزاز کیبلاغ ہزارگی کے دوستوں کو جاتا ہے کہ انہوں نے انتھک محنت اور جستجو کر کے ہزارگی رسم الکط بنا یا اور اسی کے ذریعے اب وہ قوم کی ادبی،ثقافتی اور تحریری ختم کرتے ہوئے ہزارہ قوم کواقوام عالم میں شناخت دے رہی ہے اس رسم الکط سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے وہ مثبت تنقید اور تعمیری سوچ کے ساتھ اپنے مشورے بھی دیں تاکہ رسم الخط کی خامیوں کو دور کیا جاسکیں مگر یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ہزارگی زبان کے متبادل کے طور پر فارسی پادری کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا اگر چہ فارسی اور دریزبانوں میں وسیع علمی اور تحقیقی دفاتر موجود ہے مگر اس کمی کو ہم قت کے ساتھ پر کریں گے انہوں نے کیبلاغ ہزارگی کی علمی،ادبی،ثقافتی اورقومی خدمت کی بھر پور تعریف کی اور انہیں اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں