میرے لیے لاپتہ افراد کا مسئلہ کشمیر اور فلسطین مسئلے سے اہم ہے، چیف آف ساراوان
کوئٹہ:سابق وزیراعلیٰ بلوچستان وچیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاہے کہ آئین میں تمام اداروں کا حدود اور فرائض متعین ہیں،آئین کے ماورا اقدامات اور عمل کے فقدان سے ملک مسائل کا گڑھ بن گیاہے،موجودہ ماحول اور باہر سے لوگوں کو ٹکٹ دینے سے عام تاثر پایاجارہاہے کہ سینیٹ الیکشن میں خرید وفروخت کا سلسلہ جاری ہے،میرا ووٹ جمعیت علماء اسلام کوجائیگا وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جس کو کہیں گے میں انہی کو ووٹ دوں گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ نواب محمداسلم رئیسانی نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ ملک میں اپنی بالادستی چاہتا ہے حالانکہ آئین میں سب کے حدود اور فرائض کاتعین کردیاگیاہے مداخلت کے اقدامات آئین سے ماورا اقدامات ہے،آئین پرعملدرآمد نہ ہونے سے ہی ملک مسائلستان بن گیاہے،وفاقی اکائیوں میں ہر دن ایک نئی جماعت ابھر کر سامنے آجاتی ہے لیکن اس بار سیاسی جماعت کی بجائے مختلف گروپس کو سرگرم رکھیں گے اس سے حقیقی سیاست ختم ہوگی،اگر تمام ادارے اپنے حدود میں رہ کر کام کرینگے تو ملک کا پہیہ چلے گا بدقسمتی سے دنیا میں ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا انہوں نے کہاکہ بلوچستان فیڈریشن کا اکائی جس میں بلوچ وپشتون سیاسی جماعتیں صوبائی،قومی اور سینیٹ میں نمائندگی رکھتے ہیں کو بلوچستان کے حقیقی مسائل پر آواز بلند کرناچاہیے وہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو،پی ڈی ایم نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر آواز بلند کی ہے جن میں سرداراخترجان مینگل،ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، محمودخان اچکزئی ہو یا اے این پی،میں چاہتاہوں کہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے میں لاپتہ افراد کامسئلہ شامل ہوناچاہیے یہ بہت اہم مسئلہ ہے،صوبائی خودمختاری کامسئلہ ہو،ایٹمی پروگرام ہو یا کشمیر کامسئلہ ان سب مسائل میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ لاپتہ افراد کاہے پاکستان میں جہاں لاپتہ افراد کامسئلہ ہے وہ کشمیر،فلسطین سمیت دنیا کے تمام مسائل سے میرے لئے اہم ہے،اس مسئلے کو مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،سینیٹ الیکشن میں عبدالقادر ہو یا پھر جام کمال کا سالا بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہیں ٹکٹ دیاگیاہے ایوان بالا میں برابری کی بنیاد پر تمام وفاقی اکائیوں کی نمائندگی ہے،موجودہ ماحول پر افسوس ہوتاہے اس لئے میں نے جمعیت علماء اسلام کا ساتھ دیاہے،پی ڈی ایم کی تشکیل اور پھر جب استعفیٰ مانگے گئے تو آزاد حیثیت سے میں نے اپنی استعفیٰ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن کو بھیج دیں،2008ء کے بعد جمعیت علماء اسلام سے اتحاد رہا حالات دیکھے عام تاثر یہ پایاجارہاہے کہ خرید فروخت جاری ہے،جمعیت علماء اسلام کو ووٹ دوں گا پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جس کو ووٹ دینے کا کہا گیا میرا ووٹ انہی کو ملے گا۔


