مغربی بلوچستان کل اور آج
تحریر: جیئند ساجدی
سیاسیات کے بانی میکا ولی کے مطابق حکمرانی کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں یا تو رعایا کے دل میں محبت پیدا کرکے حکمرانی کی جائے یا پھر ان کے دل میں خوف پید اکی جائے یا پر ان کے دل میں خوف پیدا کرکے۔کامیاب حکمران کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ محبت او ر خوف دونوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن میکاولی کے مطابق اگر محبت اور خوف میں حکمران کو کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتو وہ محبت کی بجائے رعب اور خوف پر انحصار کر کے حکومت کرے۔اگر ایرانی حکومت کی مغربی بلوچستان میں حکومت کرنے کے طرز کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایرانی حکمرانوں نے ہمیشہ مغربی بلوچستان میں بزور طاقت حکمرانی کرنے کوترجیح دی۔امریکہ سے تعلق رکھنے والے لکھاری سیلگ ہیری سن نے سرد جنگ کے دوران مشرقی اور مغربی بلوچستان کے سیاسی حالات پر مبنی ایک کتاب تحریر کی تھی۔ کتاب تحریر کرنے کے دوران سیلگ ہیری سن نے متعددپاکستانی و ایرانی بلوچ رہنماؤں اور پاکستانی و ایرانی حکومتی عہدیداروں کے انٹرویوز بھی کئے تھے۔ان انٹرویوز کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ”متعدد انٹرویوز کے بعد مجھے یو محسوس ہوا کہ بلوچ اور پنجابی اشرافیہ کے درمیان اتنا نسلی تعصب نہیں جتنا کے بلوچ اور فارسیبانوں کے درمیان ہے۔اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بلوچ اور پنجابی اشرافیہ کا مسئلہ صرف 30سال پرانہ ہے جبکہ بلوچ اور فارسیبانوں کا مسئلہ تقریباً 2ہزار سال پرانہ ہے۔مختلف ادوار میں یہ دونوں (بلوچ اور فارسیبان) ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں۔بلوچ فارسیبانوں کو بزدل سمجھتے ہیں اور نسلی اعتبار سے انہیں خود پر حکمرانی کے قابل نہیں سمجھتے جب کہ فارسبان سماجی اور ثقافتی طور پر خود کو اپنے عرب اور بلوچ ہمسایوں سے اعلیٰ سمجھتے ہیں وہ بلوچوں کو عربوں کی طرح وحشی حیوان سمجھتے ہیں اور فارسیبانوں کی بلوچستان میں حکومت کو بلوچوں کی خوش قسمتی سمجھتے ہیں“۔
سیلگ ہیری سن کی باتوں کی تصدیق چند ایرانی دانشوروں کی بلوچوں کے متعلق لکھی گئی تحریروں سے ہوتا ہے انہی ایرانی دانشوروں کی تحریروں کو پنجاب ٹیسٹ بک بورڈ کے لکھاریوں نے حرف بہ حرف کاپی پیسٹ کر کے پنجاب میں نصاب تعلیم کی کتابیں چاپی ہیں۔ جس میں بلوچوں کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ”دریائے سندھ کے مغرب کے طرف ایک وحشی قبیلے رہتا ہے جو قافلوں کو لوٹتا ہے یہ اکثر آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور بیرونی حملوں کے وقت متحدہو جاتے ہیں“ایرانی دانشوروں کی طرح بلوچ دانشوروں نے بھی ایرانیوں (فارسیبانوں)سے اپنی حقارت کا اظہار اپنی تحریروں میں کیا ہے اور ایرانی بادشاہ نوشیروان عادل پر بلوچ نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔موجودہ مغربی بلوچستان کو کا باقاعدہ ایران کا حصہ برطانیہ نے 1871ء میں بنایا۔ اس وقت وہاں مقامی حکمرانی ناروئی قبیلے کی تھی جو برائے نام ریاست قلات کے ماتحت تھے لیکن عملی طور پر آزاد تھے۔عنایت اللہ بلوچ اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ جب برطانیہ نے مغربی بلوچستان کو ایران کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے مقامی بلوچ حکمرانوں نے اس فیصلے پر برطانوی حکومت کو یہ کہتے ہوئے نظر ثانی کرنے کو کہا کہ بلوچ اور فارسیبان کہیں عرصے سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں اوران کا ایک ہی ریاست میں رہنا مشکل ہے لہذا ان کو ریاست قلات کا حصہ سمجھا جائے یہ برطانیہ کا باجگزار ریاست تسلیم کیا جائے۔برطانوی سرکار کے افسر جے رمسے بلوچ اور فارسیبانوں کے درمیان نفرت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ“بلوچستان کہنے کی حد تک ایرانی گورنر جو کرمان میں بیٹھتا ہے اس کے زیر انتظام میں آتا ہے لیکن 15سال ہوگئے ہیں کہ اس نے اس خطرناک زمین پر پاؤں تک نہیں رکھا وہاں لوگ اسے اجنبی سجھتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں اور یہ بھی وہاں کے مقامی لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔
مغربی بلوچستان کے مقامی لوگوں نے کبھی بھی خود کو ایران کا حصہ نہیں سمجھا اور ایران کے اندرونی شورشوں کا ہمیشہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ 1928ء میں دوست محمد بارانزئی نے ایران میں ہونے والی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھا کر مغربی بلوچستان کی آزادی کا اعلان کیا اور خود کو شاہ بلوچستان کا لقب دیا۔دوست محمد بارانزئی نے برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ وہ ان کی حکومت کو تسلیم کرے لیکن برطانیہ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ان کے روس کے ساتھ تعلقات ہیں۔1928ء میں رضا شاہ قجر (گجر)خاندان کی حکومت ختم کرکے ایران کے بادشاہ بنے اور مغربی بلوچستان میں دوست محمد بارانزئی کی حکومت ختم کرنے کے لئے مغربی طیاروں کو استعمال کیا۔یہ ایران کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ وہاں کے حکومت نے فضائی بمباری کا استعمال کیا ہو۔جامعہ کوئن مہری لندن کی پروفیسر مونستاریٹ گیرینیو لکھتی ہیں جب کسی قوم کے خلاف بے لوث طاقت اور ظلم کی انتہا ہوتی ہے تو اکثر اس وقت ان قوموں کے قومی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔غالباً رضا شاہ کی بمباری اور ان سے قبل قجر حکمرانوں کے ظلم وستم نے مغربی بلوچستان کے بلوچوں کے قومی شعور میں اضافہ کیا ہوگا۔رضا شاہ کے بعد محمد رضا شاہ پہلوی ایران کے بادشاہ بنے وہ مغربی بلوچستان کے حوالے سے ماضی کے تمام فارسیبان حکمرانوں کی نسبت زیادہ حساس تھے۔انہوں نے بلوچ شناخت کو ختم کرنے کے لئے کافی اقدامات کئے انہوں نے بلوچی زبان پر سرکاری محکموں اور تعلیمی اداروں میں پابندی عائد کردی۔عوامی جگہوں پر بلوچی لباس پر بھی پابندی عائد کی۔بلوچستان کی سرحدیں بگاڑ کر ڈیمو گرافک تبدیلیاں لانے کی کوشش کی تھی۔بلوچستان کاایک حصہ انہوں نے صوبہ خراسان میں شامل کردیا جب کہ ایک حصہ کرمان میں۔سیستانی ودیگر فارسیبانوں کو بلوچستان میں آباد کیا۔بلوچستان کا نام تبدیل کر کے انہوں نے بلوچستان وسیستان رکھا بعد میں انہوں نے اسے تبدیل کر کے سیستان وبلوچستان رکھ دیا۔صوبہ کے بڑے عہدوں پر فارسیبان افسران کو تعینات کیا اور بلوچوں کو معاشی اور تعلیمی حوالے سے پیچھے رکھا۔ان ناانصافیوں کی وجہ سے مبارکی قبیلے کے سربراہ داد شاہ نے ایرانی حکومت سے بغاوت کی اور شاہ کی سپاہیوں پر مغربی بلوچستان بھر میں حملے کرتا تھا۔داد شاہ کی کارروائیوں سے تنگ آکر ان کی سرکی قیمت شاہ ایران نے 10لاکھ امریکی ڈالر رکھ دی تھی۔1959ء میں داد شاہ ایرانی فورسز کے حملے میں مارے گئے۔ ایرانی سرکار نے داد شاہ کو معمولی ڈاکو کہا جب کہ بلوچ دانشوروں کے لئے وہ ایک قومی ہیروبن گئے۔
داد شاہ کے بعد وہاں کے قومی تحریک ریڈیو کراچی کے سابقہ ملازم جمعہ خان نے داد شاہ سے متاثر ہو کر چلا ئی۔کہا جاتا ہے کہ انہیں متعدد عرب ممالک خصوصاً عراق اور یاسر عرفات کی تنظیم فلسطین لبریشن آرگنائزیشن(PLO)کی حمایت بھی حاصل تھی۔جمعہ خان کی بنائی گئی تنظیم رضا شاہ پہلوی کی فورسز کا مقابلہ کرتی رہی جس کی وجہ سے وہ بلوچستان کو لے کر اور حساس ہوگئے۔شاہ ایران نہ صرف مغربی بلوچستان کو لے کر احساس تھے بلکہ مشرقی بلوچستان کے حوالے سے بھی کافی حساس تھے۔1970ء میں جب مشرقی بلوچستان میں قوم پرست جماعت نیپ کی حکومت کی تو شاہ ایران نے پاکستانی مقتدرہ اور ذوالفقار علی بھٹو کو نیپ کی حکومت برطرف کرنے کی تجویز دی۔بھٹو نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ شاہ نے انہیں نیپ کی حکومت برطرف کرنے کے لئے دھمکی آمیز لہجے کا بھی اختیار کیا اور یہ مشورہ دیا کہ بلوچ قوم پرستوں کی حکومت نہ صرف ایران کے لئے خطرہ ہے بلکہ پاکستان کے لئے بھی بڑا خطرہ ہے۔بھٹو نے مزید کہا کہ نیپ کی حکومت برطرف ہونے کے بعد جو شورش بلوچستان میں برپا ہوئی اس کو کچلنے کے لئے رضا شاہ پہلوی نے جتنی مالی اور دفاعی مدد کا وعدہ کیا تھا انہوں نے اس سے کہیں زیادہ کمک فراہم کی تھی۔
”بزرگ بلوچ رہنماء غوث بخش بزنجو اس حوالے سے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”ہماری حکومت کے دوران ایرانی بلوچستان میں شورش چل رہی تھی اور شاہ شورش کو کچلنے کے لئے بے ایمانہ طاقت کا استعمال کررہا تھا۔ ایرانی بلوچستان کے بلوچوں پر شاہ کے ظلم کے خلاف بلوچستان بھر میں اور کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں احتجاج کیاگیا۔کراچی کے ایرانی ہوٹلوں میں شاہ کی تصویریں بھی پھاڑ دی گئیں۔ان واقعات کے بعد بڑی تعداد میں نیپ اور بی ایس او کے کارکنان گرفتار ہوئے بھٹو لوگوں کے ان جذبات سے بخوبی واقف تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہماری حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے رضا شاہ پہلوی کی ہمشیرہ شہزادی اشرف پہلوی کو کوئٹہ مدعو کیا میرے اور سردار عطاء اللہ مینگل کی یہی رائے تھی کہ بھٹو نے جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت شہزادی کو کوئٹہ مدعو کیا تھا تا کہ کوئی نا خوشگوار واقعہ مرتب ہوجائے اور بھٹو کو جواز ملے کے وہ نیپ کی حکومت کو برطرف کردے۔ شہزادی کی آمد سے قبل میں نے نیپ اور بی ایس او کے کارکنان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور بلوچستان کی مہمان نوازی کی روایات کی پاسداری کریں“۔
شاہ کی بلوچستان کے حوالے سے حساسیت کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بنگلہ دیش الگ ملک بنا تو شاہ نے نیو یارک ٹائم کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ اگر پاکستان مکمل طور پر دولخت ہوجائے تو ہم پورے پاکستانی بلوچستان کو اپنے زیر انتظام میں لے لینگے۔انقلاب ایران کے بعد جب آیت اللہ خمینی حکومت میں آئے تو ان کا روایہ بلوچوں کے متعلق شاہ سے مختلف نہ تھا بس فرق یہ تھا کہ سیکولر فارسیبان حکمران کی جگہ علماء فارسیبانوں نے لی اور داد شاہ کی جگہ مالک ریکی نے لی جو ایرانی سرکار کے خلاف مزاحمت کرتے رہے کچھ روز قبل گولڈ سمتھ لائن پر ایک سانحہ رونما ہوا جس میں پاسداران انقلاب کی فائرنگ سے 37بلوچ تاجر قتل ہوئے اس کے بعد مغربی بلوچستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جس کو قابو کرنے کے لئے مغربی بلوچستان بھر میں ایرانی فورسز کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گزشتہ کہیں عرصوں سے ایرانی حکمرانوں کے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی آج بھی ایرانی سرکار میکاولی پالیسی کے تحت بلوچستان میں حکومت کو ترجیح دیتی ہے اس نوعیت کے ظلم سے مغربی بلوچستان کے لوگوں کے قومی شعور میں مزید اضافہ ہوگا اور آئندہ آنے والے کہیں برسوں تک وہ مین سٹریم ایران میں ضم نہیں ہونگے اور کردوں کی طرح اپنی جداگانہ حیثیت بر قرار رکھیں گے۔مغربی بلوچستان کے لوگوں کی آخری امید شاید یہ ہے کہ ایران کے دشمن دنیا میں بہت زیادہ ہیں غالباً عالمی طاقت امریکہ اور اس کی پروکسی نیٹو اور عرب ممالک کسی دن ایران پر عراق اور یوگوسلاویا کے طرز کا حملہ کرینگے جس کے بعد مغربی بلوچستان کو امریکہ حمایت یافتہ ایرانی حکومت کے اندر نیم خود مختار حیثیت یا مکمل آزادی دی جائے گی۔


