اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ

سینیٹ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نے ملکی سیاست کو ایک نئی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سلو موشن میں چلنے والی روایتی سیاست اچانک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی۔اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر مستعفی ہوں اور نئے انتخابات کااعلان کریں اس لئے کہ قومی اسمبلی نے ان کے خلاف عدم اعتماد کردیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے مستعفی ہونے کی بجائے دوسرا آئینی راستہ اختیار کرنے کافیصلہ کیا ہے اور ہفتے کو دوپہر سوا 12 بجے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کر لیاہے۔وزیر اعظم اس اجلاس میں اعتماد کا ووٹ لیں گے۔حکومتی ذرائع کو امید ہے کہ وہ 180ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔157ووٹ پی ٹی آئی کے ہیں اور 23ووٹ اتحادیوں کے ہیں۔ایک مزید ووٹ بھی مل سکتا ہے جو ایسے ایم این اے کا ہے جس نے 2018میں عمران خان کو ووٹ دیا تھا لیکن 3مارچ کوانہوں نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا۔ اعتماد کا ووٹ لینے کافیصلہ کرنے میں وزیر اعظم نے ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی۔3مارچ کی رات سینیٹ کی مذکورہ سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کی جیت کا اعلان ہوا،4مارچ کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے انتخابی عمل کی خرابیوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے corrupt practices روکنے میں ناکامی کی شکایت کی۔انہوں نے اوپن بیلٹ کے لئے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مزیدکہا کہ سینیٹ کے انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہوگئی ہے لہٰذاقانون سازی کی رفتار تیز ہوجائے گی اور حکومت ملک سے کرپشن کے خاتمے سمیت معاشی ترقی کا وعدہ پوراکرے گی۔ انہوں نے کہا وہ ملک کو گومگو کی کیفیت میں نہیں رکھنا چاہتے، میرے خطاب کے 40گھنٹے بعد صورت حال واضح ہوجائے گی۔ اپوزیشن کے لب و لہجے سے نظر آتا ہے جیسے وہ اس اقدام کی توقع نہیں کر رہی تھی۔اپوزیشن کے کسی رہنما نے قومی اسمبلی سے اعتماد لینے کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم نہیں کیا۔ شاید پی ڈی ایم سمجھتی تھی کہ وزیر اعظم اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک لانے کی دھمکی سے مرعوب ہو جائیں گے اورمذاکرات کی میز پربیٹھنے کی راہ نکل آئے گی۔سیاست اسی امید کے گرد گھومتی ہے،سیاستدانوں کو تھکنے نہیں دیتی،ایک اقدام کی ناکامی کے بعد انہیں دوسرے اقدام کی کامیابی کا یقین دلاتی ہے۔کچھ دن پہلے تک سب کی نظریں 3مارچ کے اجلاس پر لگی تھیں اب یہ تاریخ 5مارچ ہو گئی ہے۔قوموں کی زندگی وقت کی اہمیت کے باوجودیہ مدت نہ ہونے کے برابر ہے۔وزیر اعظم عمران خان روایتی سیاست دان نہیں، والدہ کی بیماری نے انہیں کینسر اسپتال تعمیر کرنے کی طرف راغب کیا، یہ مہنگا منصوبہ تھا، اس کے لئے اربوں روپے درکار تھے، وہ خود کہتے ہیں پہلا ایک کروڑ جمع کرنے میں انہیں دوسال لگے، اس کامیابی نے انہیں میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں عالمی معیار کی یونیورسٹی تعمیر کرنے اور چلانے کا حوصلہ دیا۔ دونوں اداروں سے مستفید ہونے والوں میں 70فیصد (مریض اور طلباء)غریب ہیں انہیں یہ سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔اپوزیشن نے اس تناظر میں عمران خان کا تجزیہ نہیں کیا۔ انہیں ناتجربہ کار ہونے طعنہ دیتی رہی۔اور یہ آس لگا لی کہ بہت جلد عمران خان وزیراعظم ہاؤس کی اکتا دینے والی مصروفیات سے اکتا کر یا اپنی نااہلی کے باعث اپنی پرانی زندگی میں واپس لوٹ جائیں گے۔مگر حالات بتا رہے ہیں ہیں کہ اپوزیشن کے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کیانی نے پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صدر مملکت وزیر اعظم کیبھیجی گئی سمری پر جو آرڈر تحریر کریں گے اس میں لکھاہوگاکہ وزیر اعظم عمران خان امور مملکت سنبھالنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور انہیں ایوان کا اعتماد حاصل نہیں رہا اس لئے انہیں اعتمادکا ووٹ لینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ سابق وزیر اعظم کے منہ سے ایسی گفتگوسن کر پی پی پی کے معاملہ فہم ورکرز کو خوشی نہیں ہوئی، اس قسم کے عامیانہ تبصروں کے لئے دوسروں پر انحصار کریں، اپنے سابق وزیر اعظم ہونے کا بھرم قائم رکھیں۔یادرہے کہ 5مارچ کا منظر قوم کو اس لئے دیکھنے کو ملا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 3مارچ کو حکومت کوایک بڑا سرپرائز دیا تھا۔ اب گیند ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے ان ہی اراکین کے پاس پہنچ گئی ہے جو سرپرائز کا اصل کردار ہیں۔اگر 3مارچ کا سرپرائز اپنی تمام تر رعنائیوں اور لطافتوں کے ساتھ برقرار رہاتو اپوزیشن کو ایک بھرپور جشن کا پورااستحقاق ہوگا۔اور کسی وجہ سے اراکین قومی اسمبلی نے اس مرتبہ بھی 164 کو 174 سے بڑے عددمیں تبدیل کر دیاتو یہ کرشماتی عمل اپوزیشن کو بہت مہنگا پڑے گااور آنے والے ہفتوں میں اپوزیشن کو زمینی حقائق کا کافی حدتک اندازہ ہوجائے گا۔ابھی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکلا، 3شرائط کی تکمیل باقی ہے۔اپوزیشن کو معلوم ہونا چاہیئے کہ عالمی سطح پر corrupt practices کی مانگ میں قابل قدر حد تک کمی آئی ہے۔ اب عالمی منڈی کی ترجیحات ماضی جیسی نہیں رہیں۔امریکہ اپنے تزویراتی پارٹنر کو مشورہ دے رہا ہے کہ اپنے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے طے کرو۔اپوزیشن 11سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی پارٹیا ں شامل ہیں۔اپنے طویل تجربے اور سیاسی بصیرت کی روشنی میں نئے سیاسی تقاضوں سے آنکھیں بند نہ کی جائیں۔بالفرض اگر حکومت 174(یااس سے زائد) ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی تب بھی اپوزیشن کو مٹھائیاں تقسیم کرنے میں عجلت نہیں دکھانی، اگلے حکومتی اعلان کاا نتظار کرنا چاہیے۔ ممکنہ اعلان پارلیمنٹ کی تحلیل ہو سکتا ہے۔واضح رہے نئے انتخابات پرانے انتخابی قوانین کے تحت نہیں ہوں گے اور نئے انتخابات کے انعقاد سے پہلے وائرل ہونے والی ویڈیوز کے کرداروکٹری کا نشان بنانے کی بجائے اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہوں گے۔ہوا کا رخ دیکھ کر اتار چڑھاؤ کا درست اندازہ کرنے والے نجی محفلوں میں ایسی ہی منظر کشی کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں