صحافیوں نے بدترین آمریت اور جمہوریت میں بھی اظہار رائے کہ آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا، پی ایف یو جے
کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان فیڈرل یونین آف جنرنلسٹ کے صدر ، سیکرٹری جنرل و سینئر صحافی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا کہ صحافیوں نے بد ترین آمریت اور جمہوریت میں صحافتی اقدار اور اظہار رائے کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا نہ آئندہ مصلحت اختیار کرینگے ۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے لانگ مارچ کا آغاز کریں گے جو کراچی سے ہوتا ہوا اسلام آباد پارلیمینٹ ہاﺅس تک پہنچے گا اور وہاں دھرنا دینگے اور تب تک دھرنا دیا جائے گا جب تک ہم اپنی تحریک میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر قانون دان علی احمد کرد ایڈووکیٹ،پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ زوالفقار، سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاءالرحمن، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک ، پشتونخوامیپ کے رہنماءعبدالرحیم زیارتوال، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر جان محمد بلیدی، تحریک انصاف کے ڈاکٹر منیر بلوچ، جمعیت کے صوبائی ترجمان دلاور خان کاکڑ، بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی، انسانی حقوق کے کارکن ظہور احمد شاہوانی ایڈووکیٹ، ایڈیٹرز کونسل کے انور ساجدی، راحت ملک ، بی این پی کے سید ناصر علی شاہ، محمد قاسم گاجیزئی، بی این پی عوامی کے محی الدین بلوچ ، بلوچستان یونین آف جنرنسلٹ کے صدر سلمان اشرف نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں ایف یوجے ، بی یو جے اور کوئٹہ پریس کلب کے زیراہتمام میڈیا کی آزاد ی اور مسائل کے حل کیلئے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینئر قانون دان علی احمد کرد ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان میں سوچنے ظلم نا انصافیوں کے خلاف اٹھنے والے آواز کچلنے کی کوشش کرنے والے اپنے عزائم میں ناکام ہوئے ہیں اور آج بلوچستان کے لوگوں کو سوچنےاوربولنے سے کوئی نہیں روک سکتا صوبے میں آگاہی سیاسی سوچ کا جو مہراب ہے وہ پروان چڑھا ہے انہوں نے کہاکہ صوبے میں چرواہا اور ریڑھی بان بھی سیاسی حوالے سے اس خطے اور ملک کے دیگر لوگوں سے زیادہ باخبر ہیں اور اپنی سوچ رکھتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہر خاندان کے لوگوں کے چہروں پر ان کے لوگوں کے خون کے چھینٹے نظر آئیں گے ۔ ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی شخص لاپتہ ہے پانچواں آپریشن ہورہا ہے اب ان سلسلوں کو بند ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ قیدو بند کے صعبوتوں اور جبر سے لوگوں کو آئینی اور حقوق کی جدوجہد سے نہیں روکا جاسکتا بلکہ زیادتیوں سے سوچ اور فکر پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے پارلیمینٹ اور سینیٹ میں گونگے لوگوں کی اکثریت ہے ملک میں نہ تو ایگزیکٹو پارلیمینٹ اور عدلیہ نہیں ہے سپریم کورٹ محظ چار معزز ججز صاحبان پر مشتمل ہے باقی سب نوکری کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ جج انصاف کرنے کے لئے ہوتا ہے نوکری کرنے کے لئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں تبدیلی کا واحد ذریعہ تحریر تقریر اور میڈیا کا فورم ہے جس کے ذریعے تبدیلی لائی جاسکتی ہے کیونکہ قلم تلوار کے اوپر ہاوی ہوتا ہے ۔ میڈیا جب تک آزاد نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کریگا۔انہوں نے کہاکہ پی ایف یو جے نے ملک میں بڑے نام پیدا کئے جنہوں نے آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہاکہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے میڈیا کی آزادی کیلئے شروع ہونے والا لانگ مارچ کامیابی سے ہمکنار ہوگا یہاں کہ لوگ اپنے جذبات اور احساسات رکھتے ہیں وہ اس تحریک میں میڈیا کے شانہ بشانہ ہونگے جب عدلیہ کی بحالی کیلئے بلوچستان سے تحریک چلی تو دنیا نے دیکھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ صحافی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں سول سوسائٹی وکلاءنمائندوں کو بلانے کا مقصد مکالمے کی فضاءکو پروان چڑھانا تھا انہوں نے کہاکہ میڈیا کو درپیش مسائل سے یہاں کے لوگ بخوبی آگاہ ہیں ہم نے کئی مرتبہ مختلف فورمز پر اس کا ذکر کیا ہے می©️ڈیا کی وجہ سے اچھائیاں اور خامیاں اور حکومت کی کارکردگی لوگوں کے سامنے آرہی ہے اور لوگ میڈیا سے اخذ کررہے ہیں کہ ملک میں کیا اچھا اور برا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں وکلاءتنظیموں اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرا دنے ہمیں یقین دلایا ہے کہ پی ایف یو جے کے زیر اہتمام اپریل کے پہلے ہفتے میںکوئٹہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں وہ ہمارے شانہ بشانہ ہونگے جو کہ ایک نیک شگون ہے ۔ انہوںنے کہاکہ امید ہے اس تحریک میں سیاسی جماعتیں نہ صرف ہمارے ساتھ ہونگی بلکہ ہماری تحریک کا حصہ بنیں گی ۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین و مشیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے آزاد میڈیا کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاکہ میڈیا آزاد ہوگا تو ہم ترقی کے منازل طے کریں گے اور اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔ تاہم اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اپنی سوچ اور نظریے کو دوسروں پر مسلط کرکے قوموں کے درمیان دوریاں پیدا کریں، نفرت اور تعصب کو ہوا دینے کا سبب بنیں ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ماضی کے نسبت صوبے کے حالات کافی بہتر ہوئے ہیں ان حالات سے سب سے زیادہ ہزارہ قوم متاثر ہوئی ہم اپنے لوگوں کے جنازے اٹھائے ۔ تاہم اب صوبہ کی بہتری کی جانب گامزن ہے انہوں نے کہاکہ اس بات می کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کو بحرانوں کا سامنا ہے اور ملک دشمن عناصر کی کوشش ہے کہ ان میں مزید اضافہ ہو اور صوبہ میں جو فالٹ لائن ہے دشمن کی کوشش ہے کہ انہیں استعمال کرتے ہوئے اپنے عزائم حاصل کرنے میں کامیاب ہوں ۔ ایسے میں ہمارے کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باہمی رابطے اور افہام اور تفہیم سے جو خامیاں ہیں انہیں دور کریں ۔ پی ایف یو جے کے جنرل سیکرٹری ناصر زہری نے بلوچستان کے صحافیوں نے اپنے فرائض کے انجام دہی میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور تمام تر مشکلات اور نا مساعد حالات کے باوجود آزادی صحافت کا نام اٹھائے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستانی میڈیا اس وقت تاریخ کی بد ترین بحران سے گزر رہا ہے 8000سے زائد صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالا گیا ہے تنخواہوں میں کٹوتیاں کی گئی ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنے سرواﺅل کی جنگ لڑ رہے ہیں ایسے میں پی ایف یو جے نے ملک کے تمام لوگوں تک جانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے تاکہ مکالمہ کریں اور جس بحرانی صورتحال سے دوچار ہیں اس سے نکلنے کا کوئی نتیجہ اخذکرے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں ادارتی صفحات کو کنٹرول کیا گیا ہے اشتہارات کی پالیسی کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے میڈیا ہاﺅس کے چھ ارب روپے حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں انہوںنے کہاکہ گزشتہ سات دہائیوں کا اگر احاطہ کیا جائے تو پہلی مرتبہ لیاقت علی خان نے میڈیا پر پابندی لگائی اس کے باوجود کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اگر پریس آزاد ہوگا توریاست ترقی کی ترف جائیگی اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ اور ملک پسماندگی کی طرف جارہا ہے ۔ سماج سے مکالمے کو ختم کیا گیا ہے جہاں مکالمہ نہیں ہوگا وہاں قومیں ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہاکہ صحافیوں نے بد ترین آمریت اور جمہوریت میں صحافتی اقدار اور اظہار رائے کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا نہ آئندہ مصلحت اختیار کرینگے انہوںنے کہاکہ پی ایف یو جے نے سترہ مارچ کو اسلام آباد میں قومی سیمینار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اپریل کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے لانگ مارچ کا آغاز کریں گے جو کراچی سے ہوتا ہوا اسلام آباد پارلیمینٹ ہاﺅس تک پہنچے گا اور وہاں دھرنا دینگے اور تب تک دھرنا دیا جائے گا جب تک ہم اپنی تحریک میں کامیاب نہیں ہوتے۔انہوںنے کہاکہ صحافیوں کو ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت تنخواہیں دی جائیں اور دیگر مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ صدر کوئٹہ پریس کلب رضا الرحمن نے کہاکہ آزادی صحافت سیاسی جماعتوں کی منشور کا حصہ ہے مگر بد قسمتی سے جو بھی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں وہ اپنے اس حصے پر عملدرآمد کرانے کو بھول جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کیلئے صحافیوں نے کوڑے کھائے، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں آج سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیتے ہوئے اخلاقی اور عملی حمایت کریں اور مجھے یقین ہے کہ بلوچستان میں آزادی صحافت کے لئے چلنے والی تحریک پایہ¾ تکمیل کو پہنچ کر کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ چوبیس کروڑ عوام کی آواز ہے صحافی ہمارا ساتھ دیں انہیں لانگ مارچ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ حکومت اور میڈیا مالکان کے گٹھ جوڑ سے میڈیا کارکنوں کو مشکلات درپیش ہیں معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے انہوں نے کہاکہ حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں جن لوگوں کو سلیکٹ کرکے ایوان بالا میں بھیجا گیا ہے کیا وہ صوبے کی نمائندگی کرسکیں گے۔ وزیراعظم آج ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں ناکامی پر انکا بوریا بستر گول ہو جائے گا۔ پشتونخوا میپ کے رہنماءو سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان جاری جنگ میں اگر فتح جمہوریت کی ہوئی تو میڈیا کو آزادی ملے گی انہوں نے کہاکہ جب تک پارلیمینٹ با اختیار اور سپریم نہیں ہوگا مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ان سازشوں کے خلاف آواز بلند نہ کرنا بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس ریاست کے شہری ہیں اور یہاں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں اور قومی واحدتوں کے درمیان رشتہ بھی اسی آئین کے تحت قائم ہے عدلیہ انتظامیہ میڈیا اور پارلیمینٹ کو آزاد کیا جائے انہوں نے صحافیوں کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم مارچ میں لانگ مارچ کرنے جارہی ہے ہم پہلے سے ہی اسلام آباد میں موجود ہونگے جہاں کوئٹہ سے آنے والے صحافیوں کے لانگ مارچ کا استقبال کرینگے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر جان محمد بلیدی نے کہا کہ کہنے کو تو میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے مگر یہاں ستونوں کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کی آزادی پارلیمینٹ کی آزادی جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی سے منسلک ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ جمہوری حکومت میں میڈیا جن حالات سے گزر رہی ہے شاید ہی کبھی ہو۔ ٹی وی پروگرام میں اینکروں کو کہا جاتا ہے کہ آج کے پروگرام کا موضوع یہ ہے اور فلانے لوگ اس میں شامل ہونگے ایسا تو آمریت میں بھی نہیں ہوا۔ ملک میں پارلیمینٹ موجود ہے مگر ملک کو این سی او سی چلا رہا ہے ۔ صوبے کے ریجنل اخبارات کے ساتھ بھی زیادتی ہورہی ہے۔ تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں انہوں نے کہاکہ میں نہیں سمجھتا کہ میڈیا ہاﺅسز کو معاشی مسائل کا سامنا ہے مگر اس کے باوجود بڑی تعداد می صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالا جارہا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر منیر بلوچ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی اور ہم سمجھتے ہیں کہ صحافی بننا کوئی آسان بات نہیں یہ نڈر لوگوں کا لشکر ہے بہت سے صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی میں شہید اور غازی ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے تسلسل سے نہ چلنے کے باعث صحافت کی آزادی پروان نہ چڑھی ملک میں جمہوریت کو پنپنے دیا جائے صحافت کی آزادی یقینی ہوگی ۔ ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہاکہ بلوچستان حکومت آزادی اور اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بہت سے منصوبے شروع کئے ہیں میڈیا اور جرنلزم کے طلباءکو تدرس و تدریس میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت اپنے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے صحافیوں کے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گی ۔ سینئر قانون دان و انسانی حقوق کے کارکن ظہور شاہوانی نے کہاکہ صوبے کے لوگوں کو پہلے اپنی حیثیت سمجھنی چاہئے کہ ہماری حیثیت دیگر صوبوں کے مقابلے میں کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں سیاسی جماعتیں این جی اوز بن گئی ہیں جب سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو انکی ترجیحات کچھ اور ہوتی ہیں اور جب حکومت میں آتی ہیں تو انکی ترجیحات تبدیل ہوجاتی ہیں۔ یہاں ایک ہی ٹریڈ چل رہا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور ملک کے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور میڈیا کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہونگے۔ ایڈیٹر کونسل کے صدر انور ساجدی نے کہا کہ مائند سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان کے لوگوں کو وہ سہولیات حاصل نہیں جو دیگر صوبے کے لوگوں کو حاصل ہے ہمیں سہولیات نہیں چاہئے گزشتہ ستر سالوں سے بھی سہولیات نہیں ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں یہاں کے لوگوں کو جینے کا حق دیا جائے احترام اور حیثیت دی جائے اس فیڈریشن کے برابر کا شہری سمجھا جائے یہاں کے لوگ غلامی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ریجنل اخبارات اپنی زیست و مرگ کی جنگ لڑرہے ہیں ان اخبارات اسے ہزاروں لوگوں کا روزگار منسلک ہے تاہم کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل مابت کاکا میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے مگر جمہوریت اور جمہوری ادارے کمزور ہوں تو وہاں میڈیا کیسے خود مختار ہوسکتی ہے ۔ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہم شاید ایک دو قدم آگے بڑھ سکیں موجودہ دور میں میڈیا کے ذریعے چیزیں عام ہوگئی ہیں جس کے لئے صحافیوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔جمعیت کے صوبائی ترجمان دلاور کاکڑ نے بھی صحافیوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صحافی وہ آواز ہے جو سر اٹھاکر جینا چاہتے ہیں بولناچاہتے ہیں مگر یہاں بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے مصلحت اختیار کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم اپنے ارتقاءکے عمل سے گزررہا ہیںبدلتے حالات نے یہاں کے اقدار اور روایات پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ملک کے سیاسی و معاشی فیصلے مغربی آقاﺅں کے تابع ہیں اور ان کے اشوروں پر ہوے ہیں ۔ انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کے جمعیت علماءاسلام صحافیوں کے لانگ مارچ میں ان کے شانہ بشانہ ہوگی ۔


