دو جرمن ریاستوں میں انتخابات، میرکل کی جماعت مشکل میں
جرمنی کی دو ریاستوں میں آج اتوار 14 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رواں سال کو انتخابات کا ایک ’غیر معمولی‘ سال قرار دیا جا رہا ہے ۔
کرسچن ڈیموکریٹ لیڈر انگیلا میرکل 15 سال سے زیادہ عرصے سے جرمنی کی چانسلر چلی آ رہی ہیں۔ اس سال ستمبر میں وفاقی پارلیمانی انتخابات کے بعد غالباً وہ بطور چانسلر اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ رواں برس کے اختتام تک جرمنی کا سیاسی منظر نامہ کیا رُخ اختیار کرے گا اس بارے میں کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا تاہم ایک امر واضح ہے، وہ یہ کہ جرمنی کی قدامت پسند سیاسی قوتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کی ساکھ کمزور ہوئی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ 2021 ء میں جرمنی میں چھ ریاستوں کے علاوہ وفاقی انتخابات بھی منعقد ہونا ہیں۔
جرمنی کی دو وفاقی ریاستوں باڈن ورٹمبرگ اور رائن لینڈ – پلاٹینیٹ میں آج ریاستی انتخابات کے لیے صبح سویرے سے پولنگ اسٹیشنز کھول دیے گئے۔ رائے دہی کا حق رکھنے والے 11 ملین ووٹروز میں سے نصف نے میل کے ذریعے ووٹ ڈالا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کورونا کی وبا ہے۔
اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ غیر قانونی مہاجرین اس بلاک میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کر دی جائے۔ اس پارٹی کا اصرار ہے کہ ایسے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے، جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
2021ء کو انتخابات کا ایک ‘غیر معمولی‘ سال قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سال چھ ریاستوں کے علاوہ وفاقی انتخابات بھی منعقد ہونا ہیں۔ آج مذکورہ دو ریاستوں میں منعقد ہونے والے انتخابات اس لیے بھی نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں کہ ان کے نتائج پر غالباً اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ 2021 ء کے آخر میں انگیلا میرکل کے چانسلر شپ سے سبکدوش ہونے کے بعد ان کا جانشین کون ہوگا۔دو جرمن ریاستوں میں انتخابات، میرکل کی جماعت مشکل میں


