بلوچ قوم پرست پارٹیوں کو گزرے ہوئے اختلافات اور تلخ حقیقت کو بھلا کر زہر کا پیالہ پینا ہو گا، میر اسراراللہ خان زہری

خضدار (نمائندہ انتخاب)بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری سے انکی رہائش گاہ ڈیفنس کراچی میں بی این پی عوامی خضدار کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری منیراحمد زہری سابق تحصیل صدر رئیس علی حسن موسیانی ودیگر کی ملاقات۔ملاقات میں پارٹی معاملات و دیگرایشوز پر بلوچستان میں تین بلوچ قوم پرست پارٹیوں کے انضمام کے بارے میں تجزیہ نگار کے دعوے کو زیر باعث لائے گئے اس موقع پر قائد بی این پی عوامی سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری نے ضلع خضدار کے سابق ضلعی و تحصیل عہداران و سینئر پارٹی ورکرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی عوامی بلوچ قوم پرست پارٹیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد کرنے کیلئے روزاول سے کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں بدقسمتی سے ہر کوئی اپنی انا کی جنگ میں بلوچ قوم کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں مخلص نظرنہیں آرہے ہیں ماضی کے تلخ تجربات نااتفاقی سے سبق نہیں سیکھا ماضی میں جس طرح بلوچ قوم پرست پارٹی کو تہس نہس کیاگیا ہے جس کے توڑ میں ایک ہاتھ نہیں بلکہ کئی ہاتھ زیر استعمال لائے گئے اس میں ایک کا بھی ہاتھ صاف نہیں ہے اسکا ذمہ دار ایک فرد کو ٹھہرانا سیاسی شبعدہ بازی قوم کو تاریکی میں مزید لے جانے کی ناکام کوشش ہوسکتی ہے بلوچ قوم پرست پارٹیوں کو گزرے ہوئے اختلافات اور تلخ حقیقت کو بھول جانا چاہیے اس زہر کے پیالہ کو پینے میں سب کو کردار ادا کرنا ہوگاماضی کے قوم کو نااتفاقی سے جو نقصانات ہوئے ہیں آج تک وہی زہر ایک دوسرے پر سب اگل رہے ہیں اور ایکدوسرے کے قریب ہونے میں خوف محسوس طاری ہوری ہے بلوچ قوم آج جس پستی اور نقصانات کی طرف جارہے ہیں یہ ہم سب کی آنکھوں دیکھا حال ہیایک سوال کیجواب میر اسراراللہ خان زہری نے کہا کہ گزشتہ روز ایک تجزیہ نگار کی بلوچستان کے تین قوم پرست پارٹیوں کے حوالے سے دعوی کسی بھی حد تک درست ہوسکتا ہے مگرآج یہ اتحاد واتفاق ابھی تینوں قوم پرست پارٹیوں کے لیڈر شپ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایکدوسرے کے کتنی قریب آسکتے ہیں وہ قریب آکر بات چیت کی ڈائیلاک کوکہاں سے شروع کریں گے بلوچ قوم پرست پارٹیاں واقعی بلوچ قوم کے ساتھ مخلص ہیں وہ اس انضمام کے متعلق ماضی کے اختلافات ناراضگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بہترین پلیٹ فارم کا انتخاب کرنے کیلئے متحد ہو جائیں گے اور بلوچ قوم کے قومی شناخت ساحل وسائل کے دفاع کیلئے ایوان بالا میں ایک قوت کی حیثیت سے قدم رکھکر اپنے قومی حقوق حاصل کرسکیں گے وگرنہ آج بھی ماضی کی طرح رونا دھونا ہمارے نصیب سے جدا نہیں ہوسکے گی آخر میں قائد بی این پی عوامی میراسراراللہ خان زہری نے کہا کہ بی این پی عوامی کے کارکنان جماعتی بیناد پر اتحاد واتفاق کو برقرار رکھیں اور تنظیم کاری کو تیز کرنے کیلئے ضلع کے تمام تحصیلوں خصوص سٹی خضدار کے تحصیل کو تشکیل دینے کیلئے بہترین اقدامات کئے جائیں اور پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے اپنا رول اداکرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں