بلوچستان میں 18لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں،مصطفی کمال

؎کوئٹہ : پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، 18لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں یہاں کے اکثر لوگ کراچی میں علاج کراتے ہیں جبکہ دوسری جانب پانی کے ٹینکیوں سے پیسے نکلتے ہیں،،آنے والا دور پاک سرزمین پارٹی کا ہے، یہاں راتوں رات وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہیں، کراچی میں ہماری کوششوں کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال بہتری ہوئی، الطاف حسین راکا ایجنٹ ہے، لوکل گورنمنٹ نظام مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ ائیرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔مصطفی کمال نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی نے کوئٹہ میں یوم تاسیس کے موقع پر تاریخی جلسہ کیا، ہم نے ہمیشہ ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی ہے کراچی میں ہماری 5سالہ کوششوں کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں تعلیم،صحت اور صاف پانی جیسے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے صوبے میں 18لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث اکثر لوگ کراچی میں اپنا علاج کراتے ہیں جبکہ دورویہ سڑکیں نہ ہونے سے آئے روزحادثات میں نوجوان زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ایک طرف عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تو دوسری جانب سے پانی کے ٹینکیوں سے پیسے برآمد ہوتے ہیں بدقسمتی سے یہاں راتوں رات وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکمران جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں لاپتہ افراد یاد آتے ہیں۔ مصطفی کمال نے کہا کہ جہاں محرومیاں زیادہ ہوتی ہے وہاں دہشت گردی بھی ہوتی ہے یہاں انڈیا دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین را کے ایجنٹ ہیں اور انہوں نے مودی سے سیاسی پناہ مانگی بلکہ ان کے دیگر ممالک کے ایجنسیوں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور پاک سرزمین پارٹی کا ہے اور برسراقتدار آکر وہ ظلم روکنے کے لئے اقدامات اٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں