میانمار، آمریت کے خلاف مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 16 افراد ہلاک

ینگون:میانمار میں فوج نے آمریت کے خلاف جاری مظاہروں کے شرکا پر فائرنگ کے 16 افراد کو ہلاک کردیا۔ یکم فروری کو فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین ینگون، منڈالے اور دیگر قصبوں کی سڑکوں پر نکل آئے۔

میانمار کے جرنیلوں کی جانب سے مسلح افواج کا دن منایا اور ساتھ ہی مظاہرین کے لیے انتباہ جاری کیا کہ انہیں باہر نکلے پر ‘سر اور پیٹھ میں گولی’ لگ سکتی ہے۔

معزول قانون سازوں کی قائم کردہ فوج مخالف گروپ سی آر پی ایچ کے ترجمان ڈاکٹر ساسا نے ایک آن لائن فورم کو بتایا کہ ‘آج کا دن مسلح افواج کے لیے شرم کا دن ہے’۔انہوں نے کہا کہ فوجی جرنیلوں نے 300 سے زائد بے گناہ شہریوں (مظاہرین) کی ہلاکت کے بعد مسلح افواج کا دن منایا۔

یانگون ڈالا کے نواحی علاقے میں پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے ہجوم پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 4 افراد ہلاک ہوگئے۔نیوز پورٹل نے بتایا کہ کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔

دارالحکومت نیپائٹاو میں ‘آرمڈ فورسز ڈے’ کے موقع پر فوجی پریڈ کی صدارت کرنے کے بعد سینئر جنرل من آنگ ہیلنگ نے بغیر کوئی ٹائم فریم دیے ہوئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔سرکاری فوج نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات میں کہا کہ ‘فوج جمہوریت کے تحفظ کے لیے پوری قوم کے ساتھ کھڑی ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے عوام کی حفاظت اور ملک بھر میں امن کی بحالی کے لیے بھی کوشش کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین پر ہونے والے کریک ڈاؤن میں اب تک 328 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

سرکاری ٹیلی وژن کی جانب سے جمعہ کی شام کو ایک انتباہ جاری کیا گیا کہ ‘آپ (عوامن) کو حالیہ اموات کے تناظر میں حالات کو سمجھان چاہیے کہ آپ کے سر اور کمر میں گولی لگنے کا خطرہ ہوسکتا ہے’۔انتباہ نے خصوصی طور پر یہ نہیں کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو دیکھتے ہی مارنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں