1970 میں ملک کے 43 فیصد حصے کو بلوچستان کا نام دینا گوادر کو بھی اس میں شامل کرنا بڑا بلنڈر تھا، فواد چوہدری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ1970 میں بلوچستان کو صوبے کی موجودہ انتظامی حدود میں شامل کرنا حکومتِ پاکستان کا ایک بڑا بلنڈر تھا۔ ا±س وقت بلوچستان کا نام ایک ایسے خطے کے لیے استعمال کیا گیا جو تاریخی طور پر کبھی ایک ہی انتظامیہ کے تحت نہیں رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کی انتظامی تاریخ ایک جیسی نہیں رہی اور انہیں ایک ہی صوبائی انتظام کے تحت لانا ایک اہم سیاسی و انتظامی غلطی تھی۔ مکران کبھی کوئٹہ میونسپلٹی کا حصہ نہیں رہا، جبکہ گوادر بھی تاریخی طور پر بلوچستان کے ساتھ نہیں تھا۔ ان کے بقول پاکستان نے گوادر 1958 میں عمان سے خریدا، اس لیے اسے صوبے میں شامل کرنے کے بجائے وفاقی علاقہ بنایا جانا چاہیے تھا۔ گوادر کو بلوچستان کا حصہ بنانے اور صوبے کی موجودہ انتظامی ساخت تشکیل دینے جیسے فیصلوں کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ”آج اسی بلنڈر کی وجہ سے بلوچستان میں شورش شروع ہوئی ہے۔“واضح رہے کہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق گوادر عمان کے زیرِ انتظام رہا اور 8 ستمبر 1958 کو پاکستان نے اسے عمان سے حاصل کیا۔ بعد ازاں اسے بلوچستان میں شامل کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں