ماضی سے سبق حاصل کرنا گناہ ہے
تحریر: انورساجدی
آج سے 50سال پہلے یعنی 25 مارچ 1971 کو تاریخ میں ایک بدقسمت اور المناک دن کی حیثیت سے اس لئے یاد کیا جائے گا کہ اس روز ملک کی اکثریتی جماعت کو اقتدار کی منتقلی کی بجائے ایک فیصلہ کن فوجی آپریشن کا اغاز کیا گیا۔ سب سے پہلے نام نہاد صدر اورچیف مارشل ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے پورے ملک میں مکمل سنسر شپ نافذ کردی تاکہ مغربی پاکستان کے عوام مشرقی پاکستان کے حالات سے بے خبر رہیں۔ سنسر شپ وہ ہتھیار ہے جو ہر ایکشن یا جنگ سے پہلے استعمال کیا جاتا ہے۔ یحییٰ خان نے اپنے اعلان سے روگردانی کرتے ہوئے 25 مارچ کو پارلیمنت کے افتتاحی اجلاس کی بجائے طاقت کا استعمال کیا۔ اس سے قبل پیپلز پارتی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اکثریتی جماعت عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن سے طویل مذاکرات کئے تھے جو ناکام ہوگئے تھے۔ مذاکرات کے اختتام پر بھٹو نے ڈھاکہ میں اعلان کیا کہ شیخ مجیب 6نکات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جبکہ 6نکات صوبائی خود مختاری سے آگے کی کوئی چیز ہے جسے تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھٹو کراچی کے لئے روانہ ہوئے کیونکہ انہیں مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے آگاہ کردیا تھا کہ شیخ مجیب کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے لہٰذا آپ فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے ڈھاکہ چھوڑ دیں۔ بھٹو جب 26 مارچ کو کراچی پہنچے تو انہوں نے مشہور اور متنازعہ بیان جاری کیا ” خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا“۔ بھٹو جیسے تاریخ کے استاد کو معلوم نہیں تھا کہ اکثریت کے خلاف طاقت کے استعمال سے ملکوں کی سلامتی محفوظ نہیں رہتی بلکہ خطرے میں پڑ جاتی ہے یا ختم ہوجاتی ہے۔
بھٹو کی کراچی پرواز کے بعد 25 مارچ کی درمیانی شب کو جنرل راﺅ فرمان علی نے فوج کو شیخ مجیب کی گرفتاری کا حکم دیا، مسلح دستوں نے دھان منڈی پہنچ کر پہلے ایک راکٹ داغا، اس کے بعد انہوں نے خوف پھیلانے کےلئے دستی بم پھینکے،چند سپاہی کود کر گھر کے اندر گئے جہاں شیخ مجیب اپنی موت کا انتظار کررہے تھے لیکن فوجیوں کو حکم تھا کہ شیخ کو زندہ گرفتار کرنا ہے تاکہ انہیں نشان عبرت بنایا جاسکے۔ جب فوجی شیخ کے گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی اہلیہ، بیٹوں اور دیگر اہل خانہ کو ایک کمرے کے اندر بند کردیا تھا۔ فوجیوں کو دیکھ کر انہوں نے پوچھا کہ مارنا ہے یا گرفتار کرنا ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ گرفتارکرنا ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے اپنا پائپ اور تمباکو لینے کی اجازت ہے، انہوں نے کہا کہ لے آﺅ، شیخ اندر گئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے، اس کے بعد شاید ہماری ملاقات نہ ہو۔ شیخ کو گرفتار کرنے کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس لے جایا گیا جہاں انہیں اقتدار منتقل کیا جانا تھا لیکن انہیں ایک کمرے کے اندر بند کردیا گیا، تھوری دیر بعد انہیں چائے پیش کی گئی، شیخ نے ایک روز قبل شہرہ آفاق پلٹن میدان میں متحدہ پاکستان کے اکثریتی لیڈر کی حیثیت سے آخری خطاب کیا تھا اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے حالات قابو سے باہر ہوگئے تھے۔ دسمبر 1970 کے انتخابات سے لے کر شیخ مجیب کی گرفتاری تک جو حالات تھے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مغربی پاکستان کی مقتدرہ کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ بنگالی اکثریت کو کسی صورت میں اقتدار حوالے نہیں کرنا ہے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا ہو۔
سب کو یاد ہوگا کہ بھٹو نے پنجاب اسمبلی کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ جو بھی رکن اسمبلی ڈھاکہ جائے گا میں اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا۔ بھٹو نے شیخ مجیب کی اکثریت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ” ادھرہم ادھرتم“ کا نعرہ بھی بلند کیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھٹو پر الزام لگا تھا کہ پاکستان تورنے کی سازش میں وہ برابر کے شریک تھے تو وہ یہ توجیح پیش کرتے تھے کہ اگر شیخ مجیب کو اقتدار منتقل کیا جاتا تو وہ سب سے پہلے دارالحکومت پنڈی سے ڈھاکہ منتقل کرتے اس کے بعد اسٹیٹ بینک سمیت تمام مالیاتی ادارے ڈھاکہ لے جاتے۔ حتیٰ کہ جی ایچ کیو بھی وہاں لے جاتے جس کی وجہ سے مغربی پاکستان ایک مفلوج اور بے وقعت علاقہ بن جاتا۔ بھٹو کے بقول تمام وسائل کی منتقلی کے بعد شیخ مجیب بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کرتے اس صورت میں مغربی پاکستان کی وحدت پارہ پارہ ہوجاتی۔ بنگال کے بعد بلوچستان، سرحد اور سندھ بھی آزادی کا اعلان کرتے اس لئے شیخ مجیب کے خلاف مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہ تھا لیکن وقت اور حالات نے ثابت کردیا کہ مغربی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی حکمت عملی غلط تھی۔ انہوں نے خود کو دانستہ یا نادانستہ طو رپر اپنے ملک کو دولخت کرنے کا جرم کیا۔
شیخ مجیب کی گرفتاری کی کہانی ایک ناقابل فراموش واقعہ
گرفتاری میں حصہ نہ لینے والے بریگیڈیئر زیڈ اے خان نے اپنی کتاب ” دی وے اٹ واز“ میں یہ کہانی اس طرح بیان کی ہے ۔ واضح رہے کہ شیخ مجیب کے خلاف آپریشن کی مغربی پاکستان سے کوئی خاص مخالفت نہ ہوئی۔ خان عبدالولی خان ، میر غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی ، ایئرمارشل اصغر خان، حبیب جالب اور پروفیسر وارث میر ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے آپریشن کی بھرپور مخالفت کی۔ ان تمام لوگوں کو غلط قرار دے دیا گیا۔ بریگیڈیئر زیڈ اے خان کے مطابق 25 کو رات 11 بجے ہم ہوائی اڈے سے محمد پور کی جانب چل پڑے۔ سڑکوں کے بلب بند تھے اور عمارتیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ میری جیپ کی بتیاں روشن تھیں، جب کہ میرے پیچھے آنے والے سگنل کور کے دستوں کے ٹرک بغیر بتیاں جلائے میرے پیچھے چلے آ رہے تھے۔
یہ واقعہ لکھا ہے بریگیڈیئر (ر) زیڈ اے خان نے اپنی کتاب ’دا وے اٹ واز‘ میں اور اس میں وہ 1971 میں آپریشن سرچ لائٹ کے دوران ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کی گرفتاری کی ٹھیک 50 سال پرانی کہانی سنا رہے ہیں۔زیڈ اے خان لکھتے ہیں کہ انہیں شیخ مجیب کی گرفتاری کا حکم میجر جنرل راو¿ فرمان کی جانب سے ملا تھا۔ تاہم جنرل نے انہیں بتایا کہ یہ کام صرف دو افراد کریں گے جو ایک کار لے کر جائیں گے۔
زیڈ اے خان کہتے ہیں کہ یہ کام دو آدمیوں کے بس کا نہیں تھا کیوں کہ شیخ مجیب بے حد مقبول رہنما تھے اور ان کے گھر کے گرد ان کے مداحوں کا ہر وقت ہجوم رہتا تھا اس لیے اس کام کیلئے کم از کم ایک کمپنی درکار ہو گی۔لیکن جنرل فرمان دو سے زیادہ لوگوں کی نفری لے جانے کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں تھے۔ آخر بڑی مشکل سے دوسرے جرنیلوں کی مداخلت سے زیڈ اے خان کو تین ٹرک، 62 فوجیوں کی نفری اور اسلحہ ملا، تاہم جرنیلوں نے انہیں خبردار کیا کہ شیخ مجیب کو ہر حال میں زندہ گرفتار کرنا ہے اور اگر مجیب مارے گئے تو زیڈ اے خان کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
حامیوں کے جمِ غفیر کے علاوہ ایک اور معاملہ یہ بھی درپیش تھا کہ شہر کے گنجان علاقے دھن منڈی میں شیخ مجیب کے مکان کے قریب ہی جاپانی سفارت خانہ تھا۔ اگر مجیب کو پتہ چل جاتا کہ فوجی انہیں گرفتار کرنے آ رہے ہیں تو وہ سفارت خانے میں پناہ بھی لے سکتے تھے، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا۔پھر یہ بھی تھا کہ عوامی لیگ کے کارکنوں نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔ زیڈ اے خان لکھتے ہیں کہ ہم نے راکٹ لانچر فائر کر کے یہ رکاوٹیں توڑ ڈالیں۔ اس کے علاوہ مشین گنوں کے فائر نے لوگوں کو تتر بتر ہونے پر مجبور کر دیا اور یہ فوجی قافلہ شیخ مجیب کے گھر پہنچ گیا۔
پورا مکان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ میجر بلال اور ان کے ساتھیوں نے شیخ مجیب کے ہمسایہ مکان کی دیوار پھلانگی اور وہاں سے مجیب کے گھر میں کود گئے۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے جن سے گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ دوسرے فوجیوں نے سامنے سے دھاوا بول کر گھر میں داخل ہو گئے۔ گھر میں موجود ایک آدمی مارا گیا۔شیخ مجیب کے چوکیدار نے مزاحمت کی تو اسے بھی گولی مار دی۔
دوسری منزل پر سے کسی نے ایک برآمدے سے میجر بلال کے آدمیوں پر فائر کیا۔ اس کے جواب میں ایک سپاہی نے گرینیڈ پھینک دیا اور اپنی سب مشین گن کا منہ کھول دیا۔ یہ ماجرا سن کر کمرے کے پیچھے سے شیخ مجیب کی آواز آئی کہ اگر انہیں ضمانت دی جائے کہ انہیں قتل نہیں کیا جائے گا تو وہ باہر آنے کے لیے تیار ہیں۔ ضمانت دیئے جانے پر شیخ مجیب باہر نکل آئے۔ حوالدار میجر خان وزیر نے ان کے گال پر زوردار تھپڑ رسید کیا۔ میں نے شیخ مجیب سے کہا کہ میرے ساتھ آئیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا میں اپنے اہلِ خانہ کو خدا حافظ کہہ سکتا ہوں؟میں نے کہا، ٹھیک ہے۔‘ وہ کمرے کے اندر گئے جہاں ان کے اہلِ خانہ نے اپنے آپ کو بند کر رکھا تھا اور جلد ہی واپس آ گئے اور ہم گاڑیوں کی طرف چل دیئے ۔ میں نے ایسٹرن کمانڈ کو ریڈیو پیغام بھیج دیا کہ ہم نے شیخ مجیب کو پکڑ لیا ہے۔زیڈ اے خان لکھتے ہیں کہ مجھے صرف شیخ مجیب کو پکڑنے کی ہدایات ملی تھیں، یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ پکڑنے کے بعد ان کے ساتھ کیا کیا جائے اور انہیں کہاں لے جایا جائے۔ بہرحال خود ذہن پر زور ڈال کر وہ بنگالی رہنما کو ڈھاکہ میں واقع قومی اسمبلی کی عمارت لے گئے اور انہیں اس کے ایک کمرے میں بند کر دیا۔
اس واقعے سے لگ بھگ تین ماہ قبل دسمبر 1970 میں یحییٰ خان کے مارشل کے زیرِ انتظام ہونے والے ’شفاف‘ انتخابات کے نتیجے میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی کل 300 میں سے 160 نشستیں جیتی تھیں، جب کہ دوسرے نمبر پر آنے والی ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں 81 نشستیں آئی تھیں۔
عجیب ستم ظریفی ہے کہ شیخ مجیب کو گرفتاری کے بعد جس عمارت میں رکھا گیا اسی عمارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس طے پایا تھا جس میں ملک کی اگلی حکومت کا انتخاب ہونا تھا، مگر یحییٰ کی جانب سے اپنی صدارت کو دوام بخشنے کے لالچ اور بھٹو صاحب کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو”ٹانگیں توڑ دیں گے“ کی دھمکی کے بعد یہ سارا معاملہ ہی کھٹائی میں پڑ گیا جس کے بعد نوبت آج کی رات تک پہنچ گئی تھی۔ اس کالی رات کے ایک سال بعد شیخ مجیب نے امریکی نامہ نگاروں کو انٹرویو دیتے ہوئے ان ڈرامائی واقعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا ارادہ انہیں قتل کرنے کا تھا۔جب میں اپنے گھر سے باہر آیا تو انہوں نے میری گاڑی پر گرینیڈ پھینکنا تھا اور کہنا تھا کہ یہ بنگالی انتہاپسندوں کا کام ہے۔ اس کے بعد انہیں بنگالیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا بہانہ مل جاتا۔
اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے گھر ہی میں رہوں گا، بھلے وہ مجھے میرے گھر کے اندر مار ڈالیں، اس طرح سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے مجھے قتل کیا ہے اور میرا خون میرے لوگوں کو پاک صاف کر دے گا۔ شیخ مجیب نے اپنے بڑے بیٹے کمال اور دو بیٹیوں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ کو کہیں اور بھیج دیا تھا۔ یہی شیخ حسینہ بعد میں بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم بنیں۔ 25 مارچ کی رات اس کمرے میں صرف ان کی اہلیہ فضیل النساءاور چھوٹا بیٹا رسول تھے۔ ایک اور بیٹا جمال دوسرے کمرے میں تھا لیکن اس کی کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ شیخ کمال نے بھارت جا کر مکتی باہنی کی قیادت سنبھال لی۔
شیخ مجیب کو پتہ چل گیا تھا کہ فوج ان کی گھر کی طرف آ رہی ہے۔ اس لیے انہوں نے چٹاگانگ میں واقع عوامی لیگ کے زیرِ زمین ہیڈ کوارٹر کو ایک پیغام بھیج دیا تھا۔ یہ پیغام بعد میں پورے ملک میں نشر ہوا۔ پیغام کا لبِ لباب یہ تھا کہ چاہے مجیب کا جو بھی انجام ہو، فوج کی ہر طریقے سے مزاحمت کی جائے۔
اظہارِ عقیدت: چاول کے کھیتوں میں شیخ مجیب کی تصویر (اے ایف پی)
شیخ مجیب نے اپنی گرفتاری کے واقعات زیڈ اے خان کی کتاب سے تھوڑے مختلف طریقے سے بیان کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب فوج نے میرے گھر پر یلغار کی تو میں دروازے سے نکل آیا اور کہا، ’گولیاں بند کرو، گولیاں چلانا بند کرو۔ اگر مجھے مارنا ہے تو مار ڈالو، لیکن میرے لوگوں اور میرے بچوں پر کیوں گولیاں چلا رہے ہو؟ شیخ مجیب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت مانگی جو مل گئی۔ میں نے اپنے ہر اہلِ خانہ کو چوما اور کہا، ’وہ مجھے قتل کر سکتے ہیں۔ میں شاید کبھی دوبارہ تمہیں نہ دیکھ سکوں۔ لیکن میرے لوگ ایک دن آزاد ہوں گے اور میری روح یہ دیکھ کو خوش ہو گی۔‘
شیخ مجیب نے ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب فوجی مجھے گھر سے باہر لے آئے تو میں نے ان سے کہا کہ میں اپنا پائپ بھول آیا ہوں۔ انہوں نے مجھے اجازت دے دی کہ میں جا کر اپنا پائپ لے لوں۔ مجیب کہتے ہیں کہ اس کے بعد فوجی مجھے قومی اسمبلی کی عمارت لے گئے اور مجھے بیٹھنے کے لیے کرسی اور پینے کے لیے چائے دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سے فوجیوں سے کہا، ’زبردست، بہت زبردست صورتِ حال ہے۔ یہ چائے پینے کے لیے میری زندگی کا اعلیٰ ترین لمحہ ہے۔
اس کے چھ دن بعد یعنی یکم کو شیخ مجیب کو سی 130 میں سوار کر کے راولپنڈی لے جایا گیا۔ اگلے نو ماہ وہ پنجاب کی ایک جیل سے دوسری میں منتقل ہوتے رہے۔ان پرملک کے خلاف جنگ کے 12 الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا جن میں سے چھ کی سزا موت تھی۔لیکن اس دوران مشرقی پاکستان کے حالات بگڑتے ہی چلے گئے۔ فوج جتنی شدت سے دباتی، آزادی کی تحریک اتنی شدت سے ابھر کر سامنے آتی۔ بالآخر 22 نومبر کو بھارتی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل ہو گئیں اور 16 دسمبر کو پاکستان نے ہتھیار ڈال دئیے۔ نتیجتاً آٹھ جنوری 1972 کو شیخ مجیب کو رہا کرنا پڑا۔ اس وقت مجیب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ بنگلہ دیش میں کیا حالات گزر چکے ہیں کیوں کہ ان کو اخباروں تک رسائی نہیں تھی۔ انہیں پاکستان سے نکال کر برطانیہ بھیجا گیا، جہاں سے وہ پہلے برطانوی فضائیہ کے طیارے پر سوار ہو کر بھارت پہنچے جہاں ان کا اندرا گاندھی نے اپنی پوری بھارتی کابینہ سمیت استقبال کیا۔ اس کے بعد وہ فاتحانہ انداز میں مشرقی پاکستان میں داخل ہوئے جو اب بنگلہ دیش بن چکا تھا۔یہاں ان کا وہ عوامی استقبال ہوا جو شاید ہی کسی رہنما کا ہوا ہو۔
البتہ جیسا کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں ہوتا آیا ہے، 15 اگست 1975 بنگلہ دیش میں ایک اور فوجی انقلاب برپا ہوا۔ اس کے نتیجے میں مجیب الرحمٰن، ان کی اہلیہ فضیلہ، بیٹے، الغرض پورا خاندان مارا گیا۔ صرف شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ بچیں جو اس وقت ملک سے باہر گئی ہوئی تھیں۔
تاہم اب کی بار اس انقلاب کی ذمہ دار پاکستانی فوج نہیں بلکہ خود بنگلہ دیشی فوج تھی۔


