ایران‘ چین اسٹریٹجک معاہدہ
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران میں ایران اور چین کے وزرائے خارجہ محمدجواد ظریف اور وانگ ای نے 25سالہ تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔معاہدے کی تفصیلات بوجوہ باضابطہ طور پر شائع نہیں کی گئیں۔لیکن عمومی طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے معاہدہ عملاً تزویراتی نوعیت کا ہے۔ معاہدے کی چیدہ چیدہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ چین کی جانب سے400ارب ڈالر (یا اس سے زائد) سرمایہ کاری کی جائے گی اور چین ا س کے بدلے ایران سے گیس خریدے گا۔یاد رہے گیس خریداری کا 200ارب ڈالر مالیت ایساہی ایک معاہدہ چین نے روس سے بھی کیا ہے اور روس کو اپنی معیشت سدھارنے میں چین سے کئے گئے معاہدے کے نتیجے میں خاصی مدد ملی ہے۔اس تناظرمیں لگتا یہی ہے کہ اب ایران بھی اپنی معاشی پریشانیاں دورکرنے میں کافی حد تک کامیاب ہو جائے گا۔اس ضمن میں 2016میں کئے گئے چین کے صدر کے دورے کو بنیاد مانا جارہا ہے اس وقت چین کے صدر شی شی جن پنگ نے امید ظاہر کی تھی کہ آئندہ دہائی میں دو طرفہ تجارت 600بلین ڈالر تک بڑھ جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان قربتیں اس وقت بڑھیں جب دونوں ملکوں پراقوام متحدہ کی جانب سے علیحدہ علیحدہ پابندیاں عائدکی گئیں۔ان پابندیوں کی بنیادی وجہ امریکی حکمت عملی ہے۔ امریکہ عالمی منڈی میں چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی یلغار روکنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ چین کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ چینی مصنوعات کی قیمتیں صارف کی قوت خرید میں ہوتی ہیں، صارف خریداری میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتا۔ایک ہی چیز کے ایک سے زائد برانڈز تیارکرکے مارکیٹ میں بڑی مقدار میں پہنچاتا ہے۔صارف اپنے وسائل کے مطابق برانڈ خرید لیتا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ چین نے بیک وقت تمام شعبوں میں ترقی کی ہے۔ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا۔اس کے برعکس امریکہ نے فوجی اسلحے کو اپنی معیشت کا محور بنائے رکھا۔ یہ نہیں سوچا کہ اس شعبے میں جیسے ہی دوسرے ملک داخل ہوں گے اس کی اجارہ داری برقرار نہیں رہے گی۔چنانچہ امریکہ نے دوسرے ملکوں کو مصنوعی تنازعات میں الجھا کر مستقل حالت جنگ میں رکھا۔ 1945 میں جاپان کے دو شہروں پرایٹم بم گرا کر دہشت پھیلائی اور 75سال تک اس دہشت کی کمائی کھائی۔ خلیجی ریاستیں اسی پالیسی کی بھینٹ چڑھا دی گئیں۔ایران کو اس خطے کافی عرصے اپنا چوکیدار کے طور پر استعمال کیا۔ڈاکٹر علی شریعتی،دیگر ترقی پسند رہنماؤں کی انقلابی تحریرو ں،آیت اللہ خمینی کی ولولہ انگیزقیادت اورایرانی عوام کی دلیرانہ جدوجہد کے نتیجے میں ایران سے امریکی چوکیدارکو فرار ہوناپڑا۔ اس کے بعدکی چار دہائیوں میں ایران کاخوف دلا کر خلیجی ریاستوں کو تباہ کیا، پھراس نے افغانستان کو بھی پتھر کے دور میں پہنچانے کا احمقانہ نعرہ لگایا۔آج اس احمقانہ پالیسی کے رستے ہوئے زخموں پر مرہم لگانے میں مصروف ہے۔چین نے اس دوران انتہائی خاموشی اورسنجیدگی سے اپنی معیشت اور اپنے دفاع کو مضبوط بنانے میں دن رات ایک کر دیا۔اگلے روز طے پانے والا چین ایران طویل المدت معاہدہ اسی مضبوط معیشت کا کرشمہ ہے جواس خطے کی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہوگا۔امریکی تھنک ٹینک جان لیں کہ اسلحے کی صنعت ان کی آئندہ نسلوں کی کفالت نہیں کر سکے گی۔ امریکی معیشت کی بنیاد اسلحے کی صنعت پر رکھے ہوئے(دوسری جنگ عظیم سے شمار کریں تو) 8دہائیاں بیت گئیں، اب نئے معاشی تقاضے سر اٹھائے کھڑے ہیں۔چین کے بارے میں معاندانہ انداز گفتگو اورروسی صدر کو قاتل کہنے سے امریکہ اپنے پیچیدہ معاشی اورسیاسی مسائل حل نہیں کرسکتا، اس مقصد کے حصول کے لئے امریکی تھنک ٹینک سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔اب دھمکیاں کو ئی فائدہ نہیں دیں گی۔اپنے مدمقابل کو ماضی والی آنکھ سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ساری دنیا کو عراق یا افغانستان جیسا سمجھناخود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ امریکہ بلا تاخیر اپنی چارپائی کے نیچے لاٹھی گھماکر دیکھے، اس کی پارلیمنٹ کی عمارت محفوظ نہیں رہی۔خاردار تاروں کی موجودگی سے عام آدمی یہی سمجھتا ہے۔جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو ریاست کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔جوبائیڈن تجربہ کار اور جہاں دیدہ شخصیت کے طورپر اپنے پیشرو سے ڈونلڈ ٹرمپ سے مختلف شہرت رکھتے ہیں۔انہیں بہتر کارکردگی کی مدد سے اس تأثر کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔دھمکیوں سے ڈرانے والا دور برسوں پہلے گزرچکاہے۔تورا بوراکی پتھریلی چٹانوں سے ٹکرا کر یہ دھمکیاں دو دہائیاں پہلے دم توڑ چکی ہیں۔ اس سبق کو فراموش نہ کیا جائے۔یاد رہے‘کارپٹ بمباری کام نہیں آئی، تازہ دھمکیاں بھی اسی طرح رائیگاں جائیں گی۔جو بائیڈن امریکہ کا عالمی امیج درست کرنے میں اپنا علم اور دانائی استعمال کریں۔سوچیں،کیا وجہ ہے امریکہ ساری دنیا کو اپنا دشمن نمبر ون قرار دیتا ہے۔ہزاروں میل دورواقع ملک امریکہ کے ساتھ دشمنی کرنا چاہیں تب بھی یہ کیسے ممکن ہے؟اپنا رویہ بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی دشمنی کرنا چاہے نہ کرسکے۔کیا اسے اچھا رویہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک امریکی صدر دنیا کے اہم اورترقی یافتہ ملکوں کو ضامن بنا کر ایران سے معاہدہ کرتا ہے دوسر اامریکی صدر اقتدار سنبھالتے ہی اس معاہدے پر عمل کرنے سے انکارکر دیتا ہے۔یہ رویہ باہمی اعتماد کے لئے نقصان دہ ہے۔عالمی بھائی چارے کے لئے زہر قاتل ہے۔جو بائیڈن کو براک اوبامہ کا چھوڑا ہواامریکہ نہیں ملا۔انہیں ڈونلڈٹرمپ کا چھوڑاہوا امریکہ ملا ہے۔ عالمی برادری اور جو بائیڈن کے ووٹرز کو بھی کو امید ہے کہ بائیڈن ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے جو ان کے پیشرو کر گئے ہیں۔ایران کی طرف بائیڈن نے دوستی کا بڑھا کر اچھی مثال قائم کی ہے، لیکن ایران کا یہ کہنا بھی اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ معاہدہ امریکہ نے یکطرفہ طور پر توڑا تھا بحالی کے لئے بھی اسے یکطرفہ طور پر بڑھنا چاہیئے۔جیسے ہی امریکہ پرانی پوزیشن پر آئے گا، اسی لمحے ایران معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔ بات اصولی ہے،مان لی جائے، دوسرے ملکوں کے لئے بھی اچھی مثال قائم ہوگی۔1945سے عالمی برادری اچھی مثالوں کے لئے امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ جو بائیڈن 71سال بعددنیا کو یہ مثال قائم کرکے ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنے کا پیغام دیں۔دنیا خوف کی حالت سے باہر نکلنے کو بیتاب ہے۔امریکہ نے خوف کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو امریکہ کو خوف شیئرکرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ پارلیمنٹ کے گرد خارداروں سے اس عمل کاآغاز ہوچکا ہے۔


