صدائے سحر
تحریر : محمد اقبال (ناصر ۤآباد(
"مناسب نہیں ہے”مگر یہ ایک تابندہ سچائی ہے کہ عمران خان کی سرکار کےدور میں ملک کےعوام کو بیشمارمصائب اور پریشانیوں کا سامنا ہے،بےلگام مہنگائی جو آگے بڑھنے یا بقول عمران خان اُوپراٹھکر عرش ِبریں تک پہنچنے کےلیئے کسی بجٹ کی محتاج نہیں ہے بلکہ ایک طرزپر دیکھا جائے تو اُنکو یہ اَدھیکار حاصل ہے کہ وہ ہر روز بڑھے اُس وقت تک بڑھےجب تک کہ عوام کےجسم پر پوست چسپاں ہے یا گوشت کیساتھ خون کا رشتہ قائم ہے،اُس وقت تک بڑھےتاوقتکہ انسانی دماغ متوازن ہے مہنگائی کیساتھ ساتھ غربت،بیروزگاری،ٹیکسوں کی بھرماراور افراط ِزر نے عملاّ عمران کی معروف نعرہ”سونامی”کی شکل اختیار کرلی ہے جس نےملک کےغریب عوام کو چاروں اطراف سے گھیررکھاہے غریب عوام کےلیے ملک میں زندگی گزارنامشکل سےمشکل تر ہو گئی ہےاور پھر کوئی آس وامید بھی نہیں ہے جومفلوک الحال عوام کےلیے باعث ِسہارہ بن جائے ایک عرصےتک ملک کےغریب اورنادارعوام پی ڈی ایم کیطرف دیکھتے رہے ہیں جو روزے محشرکی مانند اِس عزاب سے نجات کا شاید ہی سبب بن جائے مگر اب لگتا یہی ہے کہ پی ڈی ایم اُن اہداف،مسائل اورمشکلات کو حل نہیں کرسکےگی جو اپنی تشکیل کی دور سےابتک ملک کو درپیش ہیں ملک میں بلاشبہ بنیادی نوعیت کے کیفیتی یا انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جوملک کو جُملہ مسائل سے چٹھکارا دلاکر درست ڈگر پر ڈال دےجبکہ پی ڈی ایم کی قیادت مسلسل اِسی تھگ ودو میں مصروف ِعمل ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ اُنکےمنقطح تعلقات معمول پرآجائیں،اوراُنکو پھرسے اقتدارمیں حصہ دارکے طورپرقبول کرکے ان پر قائم مقدمات کو ختم کیاجائےاِس قسم کی کوئی اتحادجو ذاتی مصلحت اور مجبوریوں کی پیداوار ہو،جنکے عزائم اورمقاصدملک اورعوام کےلیے دور رس نہ ہوں اس سے ملک کو درپش دیرینہ مسائل کےحل کی اُمید رکھنا یقیقاّ عبث،فضولیت اورایک قسم کی خودفریبی ہےاور اِسی کارن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عمران سرکار کی تنزلی سے قبل پی ڈی ایم میں اختلافات پیداہوگئے ہیں اور قومی امکان یہی ھےکہ پی ڈی ایم متحدہ شکل میں باقی نہیں رہے گی اوراس طرح تشکیل کےدور میں پی ڈی ایم کی قیادت نےجواہداف متعین کررکھےتھےاُنکو عملی شکل دینےکی نوبت کبھی نہیں آئےگی جواسٹیبلشمنٹ کےلیئے خطرےکی گنھٹی ثابت ہوسکےسب جانتےہیں کہ پی ڈی ایم میں اختلافات کی حقیقت کیا ہے،اختلافات کی محرکات کو تلاش کرنابھی مشکل نہیں ہے یہ بھی کہ پی ڈی ایم میں شامل بڑی پارٹیاں ماضی میں ایک دوسرےکےمخالف اور مدمقابل رہی ہیں اور آج جن مقدمات کا ان قائدین کوسامناھےوہ انہوں نےاسٹیبلشمنٹ کےایمأ پرخودہی ایک دوسرےکےخلاف بنائےتھےاور پھر یہ بھی کہ جوعناصر عمران خان کو کوشش ِبسیار کےبعدبطورہ ِمُہرہ سامنےلاچکےہیں وہ کہاں چاہیں گےکہ عمران خان کی حکومت تبدیل ھوجائےجسمیں کہ اسٹیبلشمنٹ کےسارے لاڈلےشامل ہیں یہاں پر یہ بھی کہ پی ڈی ایم کوئی انقلابی اتحاد نہیں ہےجس میں اسٹیبلشمنٹ کےساتھ لڑنےیاٹکّر لینےکی صلاحیت موجود ہو بلکہ اس میں وہ جماعتیں شامل ھیں جو اسٹیبلشمنٹ کی خوش نودی کےبغیر زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ انکےمتعلق یہ کہنا زیادہ برحق ہے کہ انہوں نےعمران خان کو منہا کرکےخودکو اسٹیبلشمنٹ کی صفوں میں شامل کروانے کےلیئے پی ڈی ایم کی تشکیل کی تھی اس سلسلے میں اگرچہ نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کےخلاف کچھ باتیں کیں جنکو نوازشریف کی”بیانیہ” کہاجانےلگا مگر اس بیانیئےکےپس ِپُشت مقاصد بھی اس بنیاد اورنیت کیساتھ تھے کہ نوازشریف کی پارٹی صدارت اورنااہلی کے متعلق فیصلوں کو کالعدم قراردیکر رعایت حاصل کرنا ممکن رہے
صدافسوس کامقام ہےکہ ہمارے بعد کئی ممالک کےعوام نے نوآبادیاتی تسلط اور ظالم حکمرانوں کےخلاف جدوجہد کرکےنجات حاصل کی آج ہم بڑی آسانی کیساتھ دیکھ سکتےہیں کہ اِن ممالک کی سیاسی قیادت نے اپنی دوراندیش پالیسیوں اورمثبت اقدامات کے ذریعے سیاسی و معاشی آزادیاں حاصل کی ہیں اور ان ممالک کےعوام اس قسم کے مسائل سے دوچارنہیں ہیں جنکاکہ ہمیں سامناہے73سال گزرگئےہیں مزکورہ پارٹیوں کی کرامات اور بداعمالیوں کےسبب ابتک ہم ایک اس قسم کی آئین تک نہیں بناسکےجوملک کے شہریوں کی حقوق تو درکنار اپنی ہی حفاظت کرسکے آئین کو ضابطہ ِحیات ماننے کےبجائے ھرکوئی طالع آزمااسےکاغذ کی ٹکڑا سمجھ کردفن کردیتا ہے اور بلاشرکت ِغیرے
تمامتراختیارات کا مالک بن جاتاھےاتنی طویل مسافت طےکرنےکے باوجودملک کےاداروں کو اپنی اختیارات اور دائرہ ِکار کا فہم احساس تک نہیں ہےبظاہر تو سبھی کہتےہیں کہ ملک کےادارے آزاد ہیں مگرعملی طورپر دیکھاجائےتو انکی جانب سےاداروں کی آزادی سےمراد یہی ھےکہ وہ حکمرانوں کی مرضی ومنشأ کے نہ صرف پابندرہیں بلکہ انہی کےاشاروں پر چلیں ن لیگ اورپیپلزپارٹی اپنی جگہ جو ملک میں اقتدار
واختیارات کےمالک رہےہیں اوراسی نسبت سے بعض اداروں میں کافی اثررسوخ اورادارتی تجربہ رکھتےہیں اس ملک میں پی ٹی آئی کی بھی خواہش و کوشش ہےکہ ملک کے کئی ادارےانکی تابع رہیں حالانکہ پی ٹی آئی کی ریاستی اقتدار میں شراکت داری کی تاریخ انتہائی حدتک محدود ھونےکیساتھ ساتھ مشکوک بھی ہےان دو یا ڈھائی سالوں کےدوران پی ٹی آئی کی کارکردگی سے ملک کےعوام،نوجوان،کاروباری افراد،زندہ ضمیرصحافی اور کئی ادارےخوش نہیں ہیں مگر پی ٹی آئی پھربھی بضد ہے کہ نیب مخالفین کےخلاف انکی منشا کےتابع ہو الیکشن کمیشن انکی مرضی کےمطابق چلےمزکورہ بالا تمام حرکات بچگانہ ہیں اور ایک ذمہ دار ملک میں اس قسم کےحرکات کی خواب دیکھنا بھی محال ہےمگرسمجھ سےبالاتر ہےکہ پی ٹی آئی میں کیا خوبیاں ہیں جو ابتک اقتدار کی کُرسی پر براجمان ہےاس سلسلے میں اگربغور دیکھاجائے تو اسٹیبلشمنٹ کی رحم وکرم اوراشاروں پر من وعن چلنےیا کاربندرھنے کے سوائےپی ٹی آئی کے
پاس دوسراکوئی کمال،جواز یا تجربہ نہیں ہےکہ وہ برسراقتدار رہےاُدھر پی ٹی آئی کے مخالفین تجربہ کار ضرور ہیں مگر اپنی ذات کےسوائے ان پارٹیوں کےقائدین ملک اورعوام کےلیئے کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہےہیں اور اگر مزکورہ پارٹیاں ملک اور عوام کےلیئے درد ِدل رکھتے تو آج ملک درپیش حالات سے دوچار نہ ہوتابلکہ ملک کےتمام ادارےڈھنگ کیساتھ کام کررھےھوتے سمجھدار،باشعور اور جمہوری سوچ رکھنےوالے دنیا کےلیئے یہ بات ناقابل ِفہم ھےکہ 73 سال گزارنےکے باوجود ایک ملک
کونسے اسباب وعلل کی بنیاد پر ابتک حل طلب سیاسی ،معاشی اور آئینی بحرانوں سےدوچار ہے یہاں پر یہ کوئی غیراہم یا معمولی دلیل نہیں ہے کہ گزشتہ انتخابات کےمتعلق یہ بات زبان ِزدےعام ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ملک کے عوام نے اپنی ووٹوں سےمنتخب نہیں کی ہےبلکہ ایک ادارے نے غیرقانونی طورپر اور ٹپّہ ماری کے ذریعے موجودہ حکومت کو ملک کےعوام پر مسلط کردیاہے ہم بجاطور پر سمجھتےہیں کہ سیاسی پارٹیاں یا ملک کےقابل ِقدر ادارے ہوں سب کو چاہیے کہ وہ رحم کرکےملک کےتمام اداروں کو آزادانہ اور میرٹ کی بنیاد پر کام کرنے دیں تاکہ مملکت ِ اللہ داد دیگر آزاد ممالک کی طرز پر ترقی، پیشرفت اور
،خوشحالی کی جانب بڑھ سکے


