پاکستان ویلفئیر سٹیٹ نہیں بلکہ ایک سیکورٹی سٹیٹ ہے،مولانا محمد خان شیرانی

دکی:جمعیت علما پاکستان کے رہنماہ مولنا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ پاکستان ویلفئیر سٹیٹ نہیں بلکہ ایک سیکورٹی سٹیٹ ہے۔سیکورٹی سٹیٹ کی حیثیت فوجی چھانی کی طرح ہوتی ہے۔سیکورٹی سٹیٹ سے خیر کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔سیکورٹی سٹیٹ کا مقصد لوگوں کو جھوٹا کرپٹ اور مجرم بنانا ہوتا ہے۔لوگوں کو مسلح کرکے آزادنہ گھومنے کی اجازت دی گئی یے اسلحہ کی راہداریاں جاری کرکے چور لپنگے اور بدمعاش لوگوں کو کھلم کھلا چھوڑ دیا گیا ہیخفیہ اداروں کے کارڈ پر لوگ سرحد پار کرکے آتے جاتے ہیں۔ہم بحثیت قوم جھوٹ بولنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ہمیں جھوٹا تاریخ پڑھایا گیا ییپاکستان 14 اگست کو نہیہ بلکہ 15 اگست کو معرض وجود میں آیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبائلی رہنماہ حاجی محمد طاہر ناصر کی جانب سے دئیے گئے عشائیے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بچا ہوا ملک ہے پاکستان 1947 کو آزاد کیا گیا ملک نہیں بلکہ 1971 کا باقی رہ جانے والا ملک ہے۔یہ جناح کا پاکستان نہیں بلکہ یحی کا پاکستان ہے۔یہ ملک قائم نہیں رہیگا کیونکہ ملک بچھانے کیلئے منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ ہمارے ساتھ موجود نہیں محض اچھل اچھل کر نعروں کے ذریعے ملک کو نہیں بچھایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ پاکستان دوبنیادوں نسل اور وطن کی بنیاد پر تقسیم ہوا۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش بنگلا نسل کی وجہ سے بنا۔انہوں نے کہا کہ ملک عوامی خدمت حفاظت اور سہولت کے لئے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا پر جنگ امریکہ کی وجہ سے مسلط ہے۔کیونکہ امریکہ اپنے اپکو پوری دنیا کا چوہدری سمجھتا ہے پوری دنیا پر جنگ مسلط رکھنا امریکہ کے وجود اور بقا کا مسلۂ اور ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بھی ملک آزادنہ فیصلے کریگا اسے امریکہ کا دشمن تصور کیا جاتا ہے۔دنیا کی جنگ امریکہ کی ضرورت کے کیونکہ اگر دنیا میں جنگ ختم ہوتی ہے تو امریکہ کا وجود خطرے میں پڑجائیگا جنگ کا دوسرا مقصد امریکہ کا یہ ہے کہ پوری دنیا کے ملکوں کے نقشے تبدیل کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں