سراج رئیسانی جیسے بہادر سپوت بہت کم پیدا ہوتے ہیں،58 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے شرکاؤ ں کا خطاب

کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ لوگ نظریہ کی بجائے عملی کام پر یقین رکھتے ہیں، شہید نوابزادہ میر سراج رئیسانی مادر وطن کے بہادر سپوت بہت کم پیدا ہوتے ہیں فرزند شہید سراج رئیسانی جمال خان رئیسانی کی قیادت میں شہید وطن کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی تین سالہ عوامی کارکردگی، ترقیاتی کام کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہماری جماعت تمام اقوام کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے، خود کو نظریاتی کہنے والوں نے سینیٹ الیکشن میں اپنے ورکر کو ڈراپ کرکے ایک دن پہلے شمولیت کرنے والے کو کامیاب کرایا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی 58 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے میر خدا بخش لانگو،وزیر اعلی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر میر عبدالرؤف رند، کوئٹہ سٹی کے صدر حاجی ولی محمد نورزئی،میر فرید رئیسانی، احسان اللہ خاکسار،نوراللہ لہڑی،کامران خان ناصر، ماما غلام رسول سردار عمران بنگلزئی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے شہید وطن نوابزادہ میر سراج رئیسانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایسے شخص اور سپوت کی منائی جارہی ہے جو بہت کم پیدا ہوتے ہیں اپنے بیٹے کی شہادت کے باوجود نوابزادہ میر سراج رئیسانی اپنے مشن سے نہیں ہٹے بہت سے قوتوں کی کوشش ہے کہ شہید وطن کے مشن کو روکا جائے ان لوگوں کو جو رکاوٹ بننے کی کوشش کررہے ہیں ان کو جواب ہے کہ ہم اس مشن کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ایک شہید ہوا ہزاروں شہادت کیلئے تیار ہیں نوابزادہ میر سراج رئیسانی کا مشن اور جھنڈا بلند رکھا جائے گا اور اس دوران جان جائیں بھی تو دریغ نہیں کریں گے۔ شہید وطن جیسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ مستونگ میں بھی پروگرام کریں گے انہوں نے میر فرید رئیسانی کو یقین دلایا کہ مستونگ میں ترقیاتی کاموں کی تحقیقات ہوگی بی اے پی مراعات کیلئے نہیں بنی ہمارا مشن لوگوں کو ترقی دینا ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی تین سال میں عوامی کارکردگی سب کے سامنے ہے بلوچستان بھر میں بی اے پی کے ترقیاتی کام کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ جماعت تمام اقوام کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے جمال خان رئیسانی نے کم عمری میں اپنے والد کی شہادت دیکھی جب بھی میں اس کو دیکھتا ہوں مجھے اس میں اپنا بھائی نظر آتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے قوم، علاقے کی ترقی کی بات کی اس جیسی سوچ بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ جمال خان رئیسانی کی قیادت میں شہید وطن کے مشن کو جاری رکھا جائے گا موت آتی ہے لیکن اگر بہادری والی موت ہو تو مرنے کے بعد بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی خامیاں دور کرکے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دینے سے ہی مسائل کے حل میں آسانی ہوگی بلوچستان کی محرومیاں ہم سب کے سامنے ہے وہ وسائل کو 30 سال پہلے ملنے چاہیے اس کیلئے ہم سراپا احتجاج ہے لوگ آج بھی جانوروں کے ساتھ پانی پینے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عوام کو صحت، تعلیم سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگا وقت کے ساتھ چیزیں بہتر ہوں گے۔ مخلوط حکومت میں مسائل ہیں لیکن قائد بی اے پی جام کمال خان نے انتہائی مثبت انداز میں معاملات آگے بڑھایا جام کمال تعلیم، صحت و دیگر سہولیات کی فراہمی کا سوچ رکھتے ہیں۔ اپوزیشن سے کوئی پوچھے کہ عوام کی پی ایس ڈی پی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے مخالفین بی اے پی کے اقدامات سے خوف زدہ ہے آپ اقتدار میں رہے ہیں باتوں سے کچھ نہیں ہوتا لوگ عملی کام پر یقین رکھتے ہیں۔ خود کو نظریاتی کہنے والوں نے سینیٹ الیکشن میں اپنے ورکر کو ڈراپ کرکے ایک دن پہلے شمولیت کرنے والے کو کامیاب کرایا کیا یہ نظریہ ہے۔ بی اے پی کوئٹہ سٹی کے صدر حاجی ولی نورزئی نے کہا کہ آج انتہائی خوشی کا دن ہے کہ 58 سال پہلے یہاں اپنی مٹی سے محبت کرنے والا، بہادر پاکستانی سپوت نوابزادہ میر سراج رئیسانی پیدا ہوئے لیکن تین سال پہلے شہید وطن ہم سے جسمانی طور پر جدا کیا گیا۔ نوابزادہ میر سراج رئیسانی کی قربانی بلوچستان کی ترقی کیلئے تھی۔ بلوچستانی عوام اپنے وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا بلکہ وطن کی خاطر قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں۔ جمال رئیسانی اور اس کے خاندان کو ہماری خون کی ضرورت پڑے تو دریغ نہیں کریں گے۔ وزیر اعلی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر میر عبدالرؤف رند نے کہا کہ میر سراج رئیسانی صرف مستونگ کے نہیں بلکہ مکران کے بھی شہید ہے آج کا دن خوشی اور مسرت کا دن ہے جہاں اس دن پاکستان کا وہ سپوت پیدا ہوا جنہوں نے اس ملک کیلئے جام شہادت نوش کیا وہ ایک محب وطن پاکستانی تھے جن کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا مکران، بلوچستان اور پورا قوم شہدا کے ساتھ ہے بلوچستان و پاکستان دشمن نہیں چاہتے کہ یہ ملک ترقی کرے لیکن شہید وطن اس ترقی کی خاطر جام شہادت نوش کیا ہمارے عزائم مضبوط ہے کوئی بھی محب وطن شہری کے دل سے پاکستان کی محبت کو نہیں نکال سکتے۔ میر فرید رئیسانی نے کہا کہ بی اے پی کے وہ وزرا اور ایم پی ایز شہید میر سراج رئیسانی کو بھول گئے لیکن منظور احمد کاکڑ اور میر عبدالرؤف نے شہید کو یاد رکھا انہوں نے کہا کہ مستونگ کے شہدا کے ورثا آج بھی معاوضے سے محروم ہیں شہید نے ہمیشہ مستونگ کے عوام کیلئے آواز بلند کی۔ مستونگ میں ترقیاتی کاموں کی تحقیقات کرائی جائیں، نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے صاحب زادے میر جمال رئیسانی نے والد کی شہادت کے باوجود پاکستان کا نعرہ لگایا سانحہ مستونگ کے 60 شہدا ایسے ہیں جو گھر میں کمانے والا نہیں رکھتے وہ کورونا میں حکومتی امداد سے بھی محروم رہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما محمد مصلح الدین مینگل نے کہا کہ سراج رئیسانی انتہائی بہادر مخلص و پیار کرنے والے رہنما تھے وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور رہیں گے۔ نور اللہ لہڑی، وزیر اعلی بلوچستان کے لائزن اسسٹنٹ امیر محمد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوابزادہ میر سراج رئیسانی نے اپنے خون سے پارٹی کا دیا جلایا اور تبدیلی کا آغاز کیا شہید کے مشن کی تکمیل کیلئے پارٹی قائدین جدوجہد کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سردار اکرم بنگلزئی نے کہا کہ شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ ہوتے ہیں پیپلز پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی شہدا کی جماعت ہے وارثین سے یکجہتی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر علی احمد ابابکی نے کہا کہ نوابزادہ میر سراج رئیسانی اور دیگر شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ماما غلام رسول نے کہا کہ شہید نوابزادہ میر سراج رئیسانی نے مستونگ سے عوامی نمائندے کی حیثیت سے جدوجہد شروع کی اور آخری دم تک جاری رکھا۔ میر حیدر نے کہا کہ نوابزادہ میر سراج رئیسانی کی طرز زندگی جینے کی ضرورت ہے اس کے بیٹے کی شہادت سے ایک سلسلہ شروع ہوا جنہوں نے وقت کے ظالموں اور جابروں کو چیلنج کیا وہ نظریہ مزید دوام حاصل کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں