میٹرک امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، حصہ لینے والے اساتذہ غدار تصور ہونگے، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان
کوئٹہ:وزیر اعلی بلوچستان جام کمال اور بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میٹرک کے امتحانات کیلئے پرعزم جبکہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی نے امتحانات میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ روزوزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میٹرک امتحانات کا انعقاد کیا جائے گا اساتذہ اور ان یونینوں کی مکمل مدد کی جائے گی جو ہمارے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین پروفیسر یوسف بلوچ نے کہا کہ اساتذہ کے بائیکاٹ کے بعد حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، صوبے میں میٹرک کے امتحانات کیلئے 385سینٹرز قائم کئے گئے ہیں، پروفیسر یوسف بلوچ نے کہا کہ میٹرک کیلئے ایک لاکھ 30ہزار طلباامتحانات دینگے،میٹرک کیلئے 11سے 12سو اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہے، حکومت امتحانات کے حوالے سے جو فیصلہ کریگی اسکے پابند ہونگے۔ دوسری جانب گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر حبیب الرحمن مردانزئی نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میٹرک کے امتحان کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے اگر کوئی استاد امتحان میں حصہ لیتے ہیں تو وہ غدار تصور یوگا. اور اس استاد کی فوٹو لیکر فیس بک ہر اپ لوڈ کی جائے۔


