ریاستی اداروں کی انتقامی کارروائیوں کے باوجود (ن) لیگ متحد ہے، عظمیٰ بخاری

لاہور: مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ نیب،ایف آئی اور اینٹی کرپشن کی انتقامی کاروائیوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) متحد جماعت ہے۔مسلم لیگ(ن) کو توڑنے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی ہے۔ شہبازشریف واحد وزیراعلیٰ جہنوں نے کبھی ٹی اے ڈی اے اور تنخواہیں نہیں لی،ان کی تمام تنخواہیں چیریٹی میں جاتی تھیں۔شہبازشریف کے باہر آنے سے حکومت کے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔عمران خان مافیا کے پیٹ بھرنے کیلئے نئے نئے پروجیکٹ شروع کررہے ہیں۔شہزاد اکبر اربوں روپے کی کرپشن کے کاغذ لہراتے رہے نکلا گندا نالہ ہے۔مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے میاں نوید کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔نیب،ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کے باوجود مسلم لیگ(ن) متحد جماعت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے میاں نوید اور خواجہ عمران نذیر کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں لیگی ایم پی اے میاں نوید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا چار مہینے پہلے مجھ پر ایف آئی آر کاٹی گئی۔گورنمنٹ کا انتظامیہ پر پریشر ہے۔ اے سی پاکپتن نے ہمارے اوپر ایف آئی آر کروائی ہے۔ خاور بشیر نامی شخص اب اے سی پاکپتن نہیں ہے اب او ایس ڈی ہے۔یہ دیہاڑی باز اے سی ہے اور لوگوں سے پیسے مانگتا ہے۔یہ مختلف لوگوں سے پیسے مانگتا ہے۔تھانہ سٹی پاکپتن مجھے لے جایا گیا جہاں ہم ڈیڑھ گھنٹہ ایس ایچ او کے سامنے ہم بیھٹے رہے۔اے سی غلطی پر تھے تو ہمارے معافی مانگی۔ہم واپس گھر آگئے مجھے پتہ لگا کہ مجھ پر اور میرے والد صاحب پر ایف آئی آر کروادی۔میں ن لیگ کا ایم پی اے تھا انھوں نے بادشاہ سلامت کو خوش کرنے کے لئے ایسا کیا۔میرا پٹرول پمپ سیل کردیا گیا ہماری ہربل فیکٹری سیل کردی گئی۔دو دن بعد انھوں نے میری فلور ملز بھی بند کروادی گئی۔نہ مجھے گندم خریدنے دے رہے ہیں نہ مجھے کوٹا ملنے دے رہے ہیں۔حکمرانوں کا یہ گھنونا چہرہ ہے ان سے پکڑ دھکڑ کے علاوہ اور کچھ کیا نہیں جارہا۔ترجمان پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا مسلم لیگ ن کا شائد ہی کوئی ایم این اے یا ایم پی اے جس پر نیب اور اینٹی کرپشن کاروائی نہیں کررہی۔سیاسی انتقام ہمارے لوگ بھگت رہے ہیں۔للہ کا شکر ہے ن لیگ ایک جگہ پر کھڑی ہے۔شہزاد اکبر کے فرمائشی پروگرام کو بڑا دھچکا لگا ہے۔شہباز شریف کو آج ضمانت مل گئی ہے۔نیب اس وقت تمام اداروں کو سوپر سیٹ کرچکا ہے۔نیب تمام اداروں کی طاقت استعمال کررہا ہے اور سیاسی انجیئرنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اب تو جہانگیر ترین بھی یہی کہے رہے ہیں۔وٹس ایپ گروپ پر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔اب شہزاد اکبر اور عمران خان کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔شہباز شریف واحد وزیر اعلی تھے جن کی تنخواہیں چیرٹی کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ ملک جل رہا ہے اور بنی گالہ کا شہزادہ سر کی بانسری بجا رہا ہے۔آکسیجن کے سلنڈر ہسپتال نہیں پہنچ رہے۔ہم اس آگ پر پانی ڈالنا چاہتے ہیں گھی نہیں دے رہے۔ جنرل ہسپتال پر دھاوا بولا گیا پولیس والوں پر تشدد کیا جارہا ہے۔آپ نے ان کے ساتھ لکھ کر ایک معاہدہ کیا۔اس معاہدے پر سب نے دستخط کیئے اگر معاہدہ اتنا غلط تھا تو اس پر دستخط کیوں کیئے۔دنیا پوچھ رہی ہے کیا اس ملک میں کوئی حکومت ہے۔شاید حالات اسی لئے خراب ہیں کہ عثمان بزدار اس کی نگرانی کررہے ہیں۔رمضان بازار میں ایک چینی کا ٹرک جاتا ہے اور ذلیل کرکے ایک کلو چینی دی جاتی ہے۔یہاں ملک جل رہا ہے لیکن کسی کو کوئی خیال نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہاعمران خان نے کہا کہ چھوٹے لوگوں کو کوئی منہ نہیں لگاتا۔چھوٹے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اے ٹی ایم اور مافیاز پر چلتے ہیں۔فیاز کے پیٹ بھرنے کے لئے آپ نے یہ پروجیکٹ شروع کیئے ہیں۔ڈھائی سال ہوگئے تو اب پوچھا جائے گا پچاس لاکھ گھر کہا ہے تو اس لئے یہ ٹھپے لگا رہے ہیں۔پاکستان میں مہنگائی اٹھارہ اعشاریہ پینتالیس فیصد پر جاچکی ہے۔پولیس والے اور عوام مررہے ہیں عمران خان اور ان کے ترجمان نے ایک بیان نہیں دیا۔مکافات عمل بڑی دردناک چیز ہوتی ہے جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ہم اس ملک کو خانہ جنگی سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔شیخ رشید نے تحریک لبیک پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔اس ملک میں جو آگ لگی ہے اس کو بجھائے۔عثمان بزدار اپنے آپ کو ٹف ٹائم کیوں نہیں دے رہے۔شہباز شریف کے باہر آنے کے بعد حکومت کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔نیب نے مجھے نہیں بلایا جب بلائے گے تو جاؤں گی۔ پی ڈی ایم اپنی جگہ پر قائم ہے۔آٹھ جماعتیں اپنی جگہ موجود ہیں۔ہمارے ساتھ جو جماعتیں چلے گی ان کا بہت شکریہ۔جو ساتھ نہیں چل رہا وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش۔جو حکومتیں بنانے کے استعمال ہوتے ہیں ان کو سوچنا پڑے گا جو سلوک ہورہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں