کمسن بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا عصر حاضر کی سنگین ترین جرم ہے ,بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں بچے کی ایف سی اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی کے نشانے بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیچ کے علاقے ہوشاب میں کمسن بچوں کو تشددکا نشانہ بنانا جبکہ ایک کمسن بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا اس بات کا غماز ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کے بعد بلوچستان میں ان کے ظلم جبر اور وحشت کی کوئی حد نہیں، ایف سی اہلکار کے ہاتھوں جبری طور پر بچے کی جنسی زیادتی سے بلوچستان میں سنگین حالات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، بلوچستان میں وحشت اور درندگی ہر گزرتے دن بڑھتا جا رہا ہے۔ ہوشاب کا واقعہ اس سنگین حالات کا ایک اور مظاہرہ ہے۔بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کسی بھی قانون اور آئین کا پابند نہیں بلکہ وہ ہر جبر اور ظلم کرنے کیلئے کھلی چھوٹ دی گئی ہیں۔
بی وائی سی کے ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ایک اور گھناؤنے واقعے میں آج ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں دو کمسن بھائیوں کو اس وقت تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے علاقے کے قریبی جنگل میں شکار کیلئے روانہ ہوئے تھے، وہاں پر موجود ایک چیک پوسٹ کے ایف سی اہلکاروں نے بچوں کو بلایا کہ ہمارے لیے کھانے کا بندوبست کریں جب وہ بچے ان کے پاس پہنچے تو وحشتی درندوں کی طرح وہ ان بچوں پر ٹوٹ پڑے اس بھیج ایک امیر کا بڑا بھائی وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا جنہیں آگے جاکر پکڑ شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ امیر کو وہیں پر جبری طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جنہیں بعدازان خاندان کے لوگوں نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں تربت اسپتال منتقل کیا، اس طرح کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار کس طرح کے گھناؤنے عمل کا ارتکاب ہو رہے ہیں، یہ واقعہ صرف کابل مذمت نہیں بلکہ یہ انساتیت کے خلاف سنگین جرائم ہے، بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی جبر کی وجہ سے ایک انسانی المیہ نے جنم لیا ہے، اہلکاروں کی طرف سے ایسے گھناؤنے عمل سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں بلوچستان میں ہر طرح کے عمل کرنے کی کھلی چھوٹ دی ہے جس سے بلوچستان میں سنگین حالات نے جنم لیا ہے۔ بلوچستان میں جو وحشت اور بربریت ہو رہی ہے اس کی مثال کشمیر اور فلسطین میں بھی نہیں ملتے، ایف سی اہلکاروں کے ایسے گھناؤنے حرکتوں کی وجہ سے بلوچستان میں لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے جو آئے روز مزید سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں عدالت عالیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ دینے کی وجہ سے بلوچستان میں سنگین حالات نے جنم لیا ہے، جہاں پر عورتیں بچے بزرگ کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہے اگر ایف سی سمیت دیگر مسلح اداروں کو اس طرح کھلی چھوٹ دی گئی تو یہ بلوچستان میں اس سے بھی بدترین عمل کے مرتکب ہونگے، اس کے ساتھ ساتھ ہم بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے مظالم پر خاموشی کے بجائے آواز اٹھائیں اگر ان کی ظلم اور جبر کے خلاف خاموشی اختیار کی گئی تو یہ مزید ایسے گھناؤنے عمل کا مرتکب ہونگے۔


