اگر بجلی کا مسئلہ حل نہ کرا سکا تو استعفیٰ دے دوں گا،سردار یار محمد رند

کوئٹہ(انتخاب نیوز)صوبائی اسمبلی اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم اور وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یار محمد رند نے کہا کہ سردی میں سوئی گیس جبکہ گرمی اور سردی دونوں میں واپڈا نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے مجھے دکھ اور تکلیف کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے مجھے وزیراعظم کا معاون خصوصی نامزد کرنے کے نوٹیفکیشن کے بعد سے آج تک کسی اجلاس میں نہیں بلایاگیا نہ ہی کسی معاملے میں اعتماد میں لیا گیا میرا کسی بھی صورت عمل دخل نہیں ہے وزیر توانائی عمر ایوب انتخابات سے کچھ ماہ قبل مسلم لیگ(ن) میں تھے اور بعدمیں پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے بدقسمتی سے ایسے شخص کو وزیر بنادیا گیا جو نہ بات سنتا ہے اور نہ ہی مجھے تین سال سے اجلاسوں میں بلایا ہم نے پی ٹی آئی کے لئے جدوجہد کی ایک ایک ضلع میں گئے اور اسی وجہ سے آج پی ٹی آئی ایوان میں موجود ہے ارکان نے مجھے تجویز دیہ ے کہ میں معاون خصوصی کاعہدہ چھوڑ دوں۔ اخلاقی طور پر انہوں نے درست کہا ہے کہ جب مجھے اہمیت حاصل نہیں اور سنا نہیں جارہا تو مجھے عہدہ چھوڑ دینا چاہئے میں نے حتیٰ الوسع کوشش کی کہ وزیراعظم کو اس حوالے سے آگاہ کروں انہیں خطوط لکھے مگر شنوائی نہیں ہوئی تین سال تک اس لئے خاموش رہا کیونکہ وزیراعظم عمران خان کی پوزیشن ایسی نہیں کہ میری وجہ سے مرکزی حکومت کو نقصان پہنچے جس کی وجہ سے چپ رہا عید کے بعد ارکان اسمبلی کے ہمراہ وزیراعظم کے پاس جاؤں گا اور انہیں مسائل سے آگاہ کروں گا اگر ہماری شنوائی ہوئی تو ٹھیک ہے اور اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ایوان میں وعدہ کررہا ہوں کہ معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے کر بلوچستان آؤں گا۔ مجھے ایسی ذمہ داریاں نہیں چاہئیں ہم بلوچستان کے عوام کو جوابدہ ہیں ہمارا جینا مرنا یہیں ہے۔ ہم انگوٹھے یا ٹھپے لگا کر نہیں بلکہ عوام کے ووٹوں سے نو مرتبہ منتخب ہوئے ہیں اور اپنے عوام کو جوابدہ ہیں پچاس سال سے ہمارا خون جلا کر ملک کو چلایا گیا اور آج کہا جارہا ہے کہ سوئی گیس کے ذخائر ختم ہورہے ہیں بتایا جائے کہ یہ رپورٹ کس نے بنائی کون سا سروے ہوا۔ مجھے ان اعدادوشمار پر شک ہے وفاق ہمیں درست معلومات فراہم نہیں کرتا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اٹھارہ گھنٹے بعد بجلی ملتی ہے وہ بھی صرف ایک فیز دیا جاتا ہے وفاق میں بیٹھے وزراء اورسیکرٹریز کو بلوچستان سے کوئی غرض نہیں نہ وہ بلوچستان کو جانتے ہیں اور نہ ہی وہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اگر بلوچستان کے لوگوں کو مطمئن کیا جاتا اور ان کے وسائل کی صرف رائلٹی ہی ملتی تو آج ہر بلوچ سوئی گیس کی پائپ لائن کے تحفظ کے لئے کھڑا ہوتا لیکن بلوچستان کے لوگوں کو معلوم ہے کہ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اگر سوئی کی گیس سے ایک بجلی کا پلانٹ ہی لگتا تو ڈیرہ بگٹی کو بجلی فراہم کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ حالات ایسے نہیں تھے کہ وزیراعظم یا پارٹی کو تکلیف دیتا مگر میرا جینا مرنا بلوچستان کے پاس ہے پی ٹی آئی میں ہم اس لئے آئے تھے کہ یہ ہماری آخری امید تھی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کو جو اہمیت ملنی چاہئے تھی وہ نہیں ملی انہوں نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ یا واپڈا کو ٹھیک کروں گا یا عہدہ چھوڑ دوں گا واپڈا کہتا ہے کہ نوے فیصد لائن لاسز ہیں کوئی لائن لاسز نہیں ہیں ایک لائن مین ایکسیئن سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کا کچن چلاتا ہے اور بل دینے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیں بل نہیں گالی دیتے ہیں۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ ہم سے براہ راست ڈیل کروانہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان سے بھی گلہ ہے کہ انہوں نے ایک دن بھی واپڈا پر اجلاس بلا کر بات نہیں کی وہ کیوں مرکز سے بات نہیں کرتے کہ نالائق اور نااہل لوگوں کو کیوں بٹھایا گیا ہے تین سال بعد مجبور ہو کر ایوان میں اپنی ہی حکومت کے خلاف بول رہا ہوں عید کے بعد ارکان میرے ساتھ چلیں اگر بات مانی گئی ٹھیک ہے ورنہ معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا

اپنا تبصرہ بھیجیں