میانمار،باغیوں کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک

میانمار:میانمار میں فوجی جنتا مخالف جنگجووں نے مشرقی قصبے موبائی میں ایک درجن سے زائد سکیورٹی فورسز کو ہلا ک کر دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنگجو چار سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے جانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔میانمار کی مقامی میڈیا کے مطابق فوجی جنتا کی مخالفت کرنے والے جنگجووں نے اتوار کے روز موبائی قصبے میں ایک تھانے پر قبضہ کرلیا۔ اس حملے کے دوران انہوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک درجن سے زیادہ جوانوں کو ہلاک کر دیا۔ جنگجووں نے اپنی کارروائی کے دوران چار فوجیوں کو پکڑ لینے کا بھی دعوی کیا ہے۔

فوجی جنتا کے خلاف محاذ آرا پیپلز ڈیفینس فورسز کے ایک رکن تھیٹ وائی(اصل نام نہیں) نے بتایا کہ اتوار کے روز شان ریاست کے موبائی قصبے میں ایک تھانے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 20 پولیس افسر مارے گئے۔”ہم نے تھانے پر قبضہ کرلیا ہے اور چار پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا ہے۔”اتوار کے روز ہی ڈیموسو میں ایک اور جھڑپ کے دوران کم از کم تیرہ فوجی مارے گئے جبکہ چار جنگجو زخمی ہو گئے۔ تھیٹ وائی کا کہناتھا”ہم وہاں تھانے پر قبضہ کرنا چاہتے تھے لیکن فوج نے فضائی حملے شروع کر دیے اور ہمیں اپنے جنگجووں کو واپس بلانا پڑا۔”

فوجی جنتا کے خلاف جنگجووں کی یہ کارروائی یکم فروری کو فوجی بغاوت کرکے منتخب رہنما آنگ سا ن سوچی کو معزول کر دینے کے بعد سے ملک بھر میں پھیل جانے والے پرتشدد مظاہروں کا حصہ ہے۔اتوار کے روز ہی چینی سرحد سے ملحق علاقے میں فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا۔ فوجی جنتا مخالف ایک مسلح نسلی گروپ نے ہفتے کے روز بھارتی سرحد کے قریب واقع قیمتی پتھروں کی کان کے لیے مشہور ایک قصبے پر حملہ کر دیا تھا۔

موبائی سے موصول ہونے والی ویڈیو میں سکیورٹی فورسز کی لاشوں کو زمین پر پڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک دیگر ویڈیو میں چار لوگوں کو آنکھوں پر پٹیاں اور پیٹھ پیچھے ہاتھوں میں رسیاں بندھے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ پولیس اہلکار ہیں۔موبائی سے موصولہ ایک دیگر تصویر میں پولیس کی ایک گاڑی کو جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

موبائی میانمار کے دارالحکومت نیپی ڈاو سے تقریباً 100کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ اس علاقے میں کئی نسلی مسلح گروپ موجود ہیں جو گزشتہ کئی عشروں سے زیادہ خود مختاری کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق فوجی جنتا کے خلا ف چار نسلی گروپوں کے ایک اتحاد اور فوج کے درمیان چین جانے والے ایک اہم سرحدی راستے پر اتوار کے روز جھڑپیں ہوئیں۔

تقریباً چار ماہ سے جب فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا، مقامی باغی گروپوں کے طور پر مشہور پیپلز ڈیفینس فورسز نے فوجی جنتا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ وہ بالعموم شاٹ گن اور دیسی ساخت کے ہتھیاروں سے فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد سے ہی میانمار میں تقریباً روزانہ فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ ملک گیر ہڑتالوں کی وجہ سے ہسپتالوں، اسکولوں اور تجارت پر اثر پڑ رہا ہے۔

فوج مظاہرین کو کچلنے کے لیے سخت کارروائی کر رہی ہے۔ اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پالیٹکل پریزنرز نامی ایک گروپ کے مطابق فوج کی کاررائیوں میں اب تک کم از کم 815 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 5300 سے زائد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔پیر یکم فروری 2021ء کے روز میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آنگ سان سوچی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ یہ اقدام جمہوری حکومت اور فوج میں کشیدگی کے بڑھنے کے بعد سامنے آئے۔ میانمارکی فوج نے گزشتہ نومبر کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک برس کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا اور سابق فوجی جنرل کو صدر کے لیے نامزد کر دیا۔

میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی پیر 24 مئی کو عدالت میں پیش ہوں گی۔ ان پر ‘بغاوت کے لیے لوگوں کو بھڑکانے‘ کا الزام ہے۔یوں تو فوج نے سوچی پر کئی دیگر الزامات بھی عائد کیے ہیں جن میں نو آبادیاتی دور کے قانون آفیشیل سیکریٹس ایکٹ، کورونا وائرس کے قوانین کو توڑنے وغیرہ کے الزامات شامل ہیں تاہم سب سے سنگین الزام بغاوت کا ہے۔سوچی فروری کے اوائل سے ہی اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ 75 سالہ رہنما کے وکیلوں کو بھی اب تک ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ امید ہے کہ آج جب وہ عدالت میں پیش ہوں گی تو وکلاء ان سے ملاقات کر سکیں گے۔سماعت کے لیے دارالحکومت میں ایک خصوصی عدالتی کمرہ بنایا گیا ہے۔ جو ان کے گھر کے قریب ہی واقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں