مقتول صحافیوں کے کیسز کی ازسرنو تحقیقات کی جائے، نوابزادہ لشکری رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ریاست آج تک جتنے بھی صحافی نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں اورانکے قاتل گرفتار نہیں ہوئے انکے کیس ازسرنو کھول کر تحقیقات کرے شہید صحافیوں کے لواحقین کی قانونی طور پر معاونت کرنے پر تیار ہوں،شہیدعبدالواحد رئیسانی سمیت جتنے بھی صحافی قتل ہوئے ہیں انکے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ معاشرے اور صحافت میں پائی جانے والی گھٹن کے ماحول کو ختم کیا جاسکے نوجوان سماج کے وسیع تر مفادمیں سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھائیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی کے چہلم کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرپی ایف یو جے کے سینئر نائب صدر سلیم شاہد، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند،کوئٹہ پریس کلب کے سابق صدر رضا الرحمن،شعیب رئیسانی،ظفر بلوچ نے بھی خطاب کیا۔حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ عبدالواحد رئیسانی سمیت تمام شہیدہونے والے صحافیوں کو خراج عقید ت پیش کرتاہوں جنہوں نے آزاد اورخوشحال سماج بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اوراپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انہوں نے کہا کہ عبدالواحد رئیسانی کو بے گناہ شہید کیا گیا انکی شہادت اسوقت ہوئی جب انہوں نے تازہ تازہ صحافت میں قدم رکھا اوراپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ با اثر افراد وہ نہیں جو باعزت ہیں بلکہ با اثر وہ ہیں جو آئین اورقانون سے بالاتر ہوکر اسے اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں یا کسی ادارے کا ساتھ حاصل ہو عبدالواحد رئیسانی کو بھی ایسے ہی گمنام با اثر افراد نے قتل کیا جن کا تعلق کسی ادارے یا انکے سہولت کاروں کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ عبدالواحد رئیسانی کاکسی سے لین دین نہیں تھا وہ اپنے صحافتی فرائض سرانجام دینے جارہے تھے کہ سربازار میں انہیں قتل کیا گیا جنہوں نے قاتلوں کو جرات دی یقینا ان لوگوں کا تعلق انہی لوگوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی جو خوف کے عالم میں کوشش کررہے ہیں کہ سماج کو آزاد اور گھٹن کے ماحول سے نکالا جائے ان لوگوں کو سانس لینے کا موقع دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 40صحافیوں کو نامعلوم افراد نے قتل کیا حکومت اورریاست سے مطالبہ ہے کہ جتنے بھی صحافی قتل ہوئے انکے کیسز کی ازسرنو تحقیقات کی جائیں اورقاتلوں پرہاتھ ڈالا جائے تاکہ صحافت میں گھٹن کا ماحول ختم ہوسکے اس جدوجہدمیں میں لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے قانونی طور پر مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ صحافت بحران کا شکار ہے کیونکہ صحافیوں کو شفاف اور کھلے ماحول میں کام کرنے کی اجازت نہیں اب صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پورے ملک میں صحافتی اداروں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے باشعور طبقہ اور نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے باعزت شفاف آزاد سما ج کیلئے آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب میں شہیدصحافیوں کے لئے ہال بنایا جائے جہاں انکی تصاویر اورمختصر تاریخ ہو تاکہ باہرسے آنے والے افراد انکی قربانیوں کے بارے میں جان سکیں۔انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کی لائبریری کی 200کتابیں تحفے میں دینے کا بھی اعلان کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے سینئر نائب صدر سلیم شاہد،صدر عبدالخالق رند،کوئٹہ پریس کلب کے سابق صدر رضا الرحمن،شعیب رئیسانی،ظفر بلوچ نے کہا کہ عبدالواحد رئیسانی مستقبل کی صحافت کا درخشاں باب بن سکتا تھا لیکن زندگی نے اسکا ساتھ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ واحد رئیسانی نے بہت کم وقت میں باصلاحیت ہونے کا ثبوت دیا اورکم وقت میں صحافت سے متعلق بہت کچھ سیکھا انکی پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل رپورٹس بھی دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے کام کے ساتھ لگن اورجذبہ رکھتے ہیں اورمخلصی سے اپنا کام کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ابتک چالیس سے زائد صحافی بم دھماکوں،ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں جن میں سے کسی کے بھی قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا اسکے باوجودبھی نوجوان صحافیوں کا حق اورسچ کی بات کرنے سے نہ گھبرانا حوصلہ افزا ہے انہوں نے کہا کہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے واحد
رئیسانی کے قاتلوں کی نشاندہی میں بھر پور معاونت کی اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ گرفتار قاتلوں اور فرار ہونے ملزمان کو قانون کے تحت کیفرکردار تک پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی اخبار کو بھی عبدالواحد رئیسانی شہید کے لئے یادگاری صفحہ یا کوئی اقدام کرنا چاہئے تاکہ انکے لواحقین کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں