لسبیلہ،خاران،قلات اور مکران وہ تاریخی جگہیں ہیں جن کی بدولت ہم پاکستان میں شامل ہوئے ہیں، ثناء بلوچ

بیلہ(انتخاب رپورٹر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور ایم پی اے ثناء بلوچ نے لسبیلہ میں صحافیوں سمیت مختلف طبقائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لسبیلہ،خاران اور قلات وہ تاریخی جگہیں ہیں جن کی بدولت ہم پاکستان میں شامل ہوئے ہیں مگر ان علاقوں کی حالت پہلے جیسی ہے جبکہ مکران میں تربت کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ جام کمال کو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ بیلہ ہماری ماتا ہے کیونکہ اندرون بلوچستان جانے سے پہلے لوگوں کو حب اور لسبیلہ سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ علاقے ترقی کے مستحق ہیں، انہوں نے کہا کہ ان جیسے علاقوں میں پسماندگی انتہائی زیادہ ہے جہاں ترقی کی ضرورت ہے لوگوں کو سڑکیں اور ادویات کی ضرورت ہے لیکن ان کے بجائے انہیں کنٹریکشن اور بلڈنگ دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے جام کمال کو کہا ہے کہ غریب لوگ ایسی کاروباری جگہوں میں رہتے ہیں جنہیں سڑکیں، نالیاں، تعلیم اور صحت چاہئے جس کیلئے ہم کوشش کر رہے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ خاران بہت ترقی کر چکا ہے اور لسبیلہ پیچھے رہ گیا ہے۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک دو علاقوں کو چھوڑ کر بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں کی حالت یہی ہے لسبیلہ جہاں اتنے حادثات ہوتے ہیں وہاں پر ہسپتالوں میں ایک بھی ایکسرے مشین نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ اس سال ضلع لسبیلہ کیلئے 100ارب کا پیکج رکھیں میں اس کی حمایت کروں گا ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کچھ ایسے تاریخی شہر ہیں جن کی تاریخ بابا آدم کے زمانے سے ملتی ہے ان علاقوں کی ترقی ضروری ہے تاکہ یہاں لوگ آنے کے بعد دنیا کو ان کی مثالیں دے سکیں، خیال رہے کہ بی این پی رہنما ثنا ء بلوچ گزشتہ کچھ دنوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کے دوروں پر ہے جہاں وہ علاقائی معتبرین اور قبائلی لوگوں سے مل رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں