اسمبلی ایک مالک چاہتی ہے جو اسکی ذمہ داری لے، اسپیکر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے،،جام کمال

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو اسمبلی کے گیٹوں کی تالہ بندی کو رکواناحکومت اور اپوزیشن دونوں کے نمائندوں کو بات چیت کے لئے بلانا چاہیے تھا،اسپیکر کی جانب سے 18جون کے اجلاس میں اسمبلی پر حملے پر خاموشی نامناسب عمل تھی،پولیس نے چھ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ایک گیٹ کھلوایا جس لوگوں کو تھوڑا بہت جھٹکا بھی لگا ہوگا، اپوزیشن کے خلاف مقدمہ درج ہے لیکن حکومت نے کاروائی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود گرفتاریاں دی ہیں، یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل اسمبلی کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اسمبلی ایک مالک چاہتی ہے جو اسکی ذمہ داری لے میں چاہتاہوں کہ اسپیکر اسمبلی کے ذمہ دار بنیں وہ سرینا جاکر اپنے آپ کو بر ی الذمہ نہیں کرسکتے اسمبلی کے اندر پوری ذمہ داری اسپیکر کی بنتی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رو ز اسپیکر نے اجلاس بلایا جس میں اپوزیشن نہیں گئی حکومتی اتحادی جماعتوں نے میرے پاس آکر اسپیکر کے اجلاس میں جانے سے انکار کیا کیونکہ اسپیکر اور اسمبلی سیکرٹریٹ کی کارکردگی سے انہیں تحفظات ہیں انہوں نے کہا کہ تین رکنی وفد نے اسپیکر سے ملاقات کی ہے اسپیکر نے اپنی وضاحت کی ہے لیکن اسپیکر کو تحفظا ت دور کرنے ہونگے انہوں نے کہا کہ غلطیاں ہوتی ہیں ہمیں ان غلطیوں کے ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہیے اور انکے خلاف کاروائی ہونی چاہے انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس والے دن اسپیکر اور ہاؤس کے عملے کے رویے پر سوالیہ نشان تھا اگر وہ سمجھتے ہیں کہ انکا مسئلہ نہیں تھا تو یہ درست نہیں یہ انہی کا مسئلہ تھا اگر یہ سب کچھ اسمبلی کی حدود کے باہر ہوتا تو الگ بات تھی جب اسمبلی کے گیٹوں کو تالے لگائے گئے وہ دروازے سی ایم ہاؤس کے نہیں تھے اسپیکر فوری طور پر حکومت اور انتظامیہ کو الرٹ کرتے اور کھڑے ہو کر کہتے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسمبلی کے دروازے کو تالے لگیں گے ہم اس ایوان میں جائیں گے اور حکومت اور اپوزیشن سے لوگوں کو بلاتا ہوں ہم آپس میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ بجٹ سیشن کے آغاز پر اسپیکر کو اپنے شروعات کے کلمات میں پیش آنے والے پر بات ضرور کرنی چاہیے تھی بے شک وہ حکومت یا اپوزیشن میں سے کسی کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے یا رولنگ دیتے کہ حکومت کمیٹی بنا کر واقعہ کی تحقیقات کرے لیکن ہم نے چیئر سے 18کو کوئی بات نہیں سنی جو کہ نامناسب بات ہے انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو بجٹ اجلاس کے دن اسمبلی میں موجود ہونا چاہیے تھا یہ اسمبلی ہم سب کی ہے مجھے معلوم تھا کہ میں آؤنگا تو کچھ چیزوں کا سامنا کرنا پڑیگا لیکن ہم آئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن نے گزشتہ سال بھی احتجاج کیا ہم اپوزیشن سے ملے لیکن اس بار اپوزیشن زیادہ جذبات میں گئی جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایوان میں آئے مائیک میں بات کرے سوال کرے، شور کرے،کتابیں پھینکے،ہلڑ بازی کرے مگر اس ایوان کے اندر کرے میری گزارش ہے کہ وہ اسمبلی کو عزت دے یہ ایوان حکومت سے زیادہ اپوزیشن کا پلیٹ فارم ہے اپوزیشن آئے بجٹ اجلاس میں شرکت کرکے ہم پر تنقید کرے اور ہمیں کوتاہی بتائیں پارلیمان کے نمائندے پارلیمان کے اندر جچتے ہیں انہوں نے کہاکہ دو ماہ میں بہت سے دہشتگردی کے واقعات ہوئے جسکی وجہ سے سیکورٹی سخت کی گئی ہے حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی بڑا بد امنی کا واقعہ ہو اپوزیشن بھی ہماری اس بات کو سمجھے انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے لئے اسمبلی کے شیشے عام چیز ہیں لیکن ارکان اسمبلی کو احساس ہونا چاہیے کہ اس اسمبلی کا تقدس ہے جو پامال ہوا ہے اپوزیشن ارکان کے خلاف کیسز ہوئے ہیں جس کے بعد انہوں نے خود اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا ہے ہم نے کوئی ایسی کاروائی نہیں کی پولیس نے صرف اپنا تحفظ کیا اور اسمبلی تک اپنے آپ کو لانے کی کوشش کی جہاں تک بکتر بند گاڑی کی مثال دی جارہی ہے کہ اگر اسمبلی کے اندر 300سے زائد افراد اندر اور پولیس باہر ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا تھا پولیس نے دروازہ ہر حال میں کھولنا تھا اگر اپوزیشن والے گیٹ کھول دیتے تو بکتر بند گاڑی نہیں آتی پولیس اور انتظامیہ نے چھ گھنٹے تک کسی کو ہاتھ نہیں لگایا صرف زنجیروں سے بند ایک گیٹ کھولنے کے لئے گاڑی کا استعمال کیا جس سے لوگوں کو تھوڑا بہت جھٹکا بھی لگا ہوگا انہوں نے کہا کہ 18جون بلوچستان کی تاریخ میں سیاہ دن گزرا جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا وہ زندگی میں پہلی بارپارلیمنٹ آئے ہیں جنہیں اس کے تقدس کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن میرا جمعیت علماء اسلام، بی این پی، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے اکابرین سے سوال ہے کہ وہ کم از کم ضرور کہتے کہ حکومت نے ہماری بات نہیں سنی، حکومت ہمارے حلقوں میں کام کروا دہی ہے جس سے ہم خوش نہیں، ہم حکومتی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں لیکن انکی طرف سے پیغام آنا چاہیے کہ انکے ورکروں کی جانب سے پارلیمان پر حملہ کیا گیا اور نقصان ہوا ہم پارٹی لیڈر کی حیثیت سے یہ انجانے میں غلطی ہوئی جو کہ نہیں ہونی چاہیے تھی اگر ایسا کیا جاتا تو پارلیمان کا رتبہ بلند ہوتا اور انکے ورکر آئندہ ایسی غلطی نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ سیاسی اکھاڑے میں ہم ایک دوسرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں مگر اسمبلی میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں