بی این پی عوامی کو نیشنل پارٹی فوبیا ہوگیا ہے،نیشنل پارٹی
حب:نیشنل پارٹی پنجگور کے ضلعی ترجمان نے کہا کہ بی این پی عوامی کو نیشنل پارٹی فوبیا ہوگیا ہے نیشنل پارٹی کی عوامی مقبولیت سے خوفذدہ اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے کیلئے مختلف حیلے بہانے تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے نیشنل پارٹی ایک جمہوری ترقی پسند اور فکری جماعت ہے جس کا منشور اور محور بلوچستان کی ترقی خوشحالی اور بلوچستان کی روشن مستقبل ہے نیشنل پارٹی کسی بھی ترقی اور عوامی اجتماعی خوشحالی کے خلاف نہیں ہے بلوچستان سمیت خصوصآ پنجگور کی ترقی کیخواہاں ہیں ہم چاہتے ہیں کہ عوامی ٹیکسوں سے ملنے والی فنڈز عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی میں خرچ ہوں کسی کی زاتی سیاسی گروہی مفادات کے برعکس فقط عوام کی اجتماعی مفادات کو فوقیت حاصل ہوں کوئی بھی پارٹی یا شخص کو یہ اختیار نہیں ھے کہ وہ عوامی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی فنڈز کو اپنی زاتی مفادات کیلئے استعمال کریں عوامی فنڈز کے استعمال میں زاتی مفادات کو ترجیح دیکر دھوکہ بازی اور فراڈ سے عوام کا استحصال کریں بدقسمتی سے پنجگور سے سلیکٹیڈ نمائندوں نے عوامی ٹیکسوں سے ملنے والی فنڈز کو اپنی زاتی فنڈز سمجھ کر خاندانی زاتی گروہی مفادات کیلئے استعمال کرکے عوام کی فنڈز کو بے دردی سے لوٹنے اور ہضم کرنے کا نہ ختم ہونے والی سلسلہ شروع کررکھا ہے پنجگور کے گلی کوچوں سرکاری عوامی زمینوں اور قبرستانوں کو اکھاڈ کرکے قبضہ کرکے مارکیٹ اور دکانیں بنانے میں مصروف ہیں جہاں خالی زمین دیکھ کر سرکاری فنڈز کو استعمال میں لاکر ہزاروں ایکٹ زمین قبضے کرکے خاندان اور پارٹی ورکروں میں بندرہ بھانٹ کرکے ہڑپ کیا جاتا ہے ترجمان نے کہا کہ نمائندے کا کام ہے کہ عوامی اور سرکاری زمینوں کو تحفظ فراہم کریں ناکہ قبضہ کریں اور عوامی فنڈز کو عوام کی فلاح و بہبود پر استعمال کرکے عوام کی بنیادی مسائل صحت روزگار تعلیم بجلی پانی کی سہولت فراہم کرنا ہے لیکن افسوس پنجگور سے سلیکٹیڈ نمائندہ صوبائی وزارت کا غلط استعمال کرکے عوامی فنڈز کے استعمال کے بہانے عوام اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے جاگیریں بناکر عوام کو انکی زمینوں سے بے دخل کرکے فتح کرنے کی کوشش کررہا ہے پنجگور میں جہاں بھی ایک سرکاری عمارت کی بنیاد رکھی ہے موصوف صوبائی وزیر نے اس سرکاری عمارت کے چاروں طرف عوامی زمینوں پر قبضہ کرکے عوام کو زور ربردستی بے دخل کیا گیا ہے جسکی مثال اللہ اکبر چوک سے قلم چوک تک سڑک تعمیر کرنے کے بہانے بپلک ہیلتھ کی سینکڑوں ایکٹ زمین اور افیسر کلب چتکان کے چاردیواری کے اندر زمین کو اپنے نام جالی (Leases) بنا کر ناجائز الائٹ کرکے قبضہ کیا گیا ہے پولی ٹیکنیکل کالج خدابادان کے قیام میں ایک تعلیمی اداروں کو کمرشل مفاد کیلئے استعمال کرکے دکانیں تعمیر کی ہے پنجگور تسپ پنچہی کہن میں سابقہ دور میں سرکاری فنڈز سے ایک ریسچ سنٹر کی قیام کے نام پر عوام کی ابا و اجداد کی ہزاروں ایکٹ زمین صوبائی وزیر نے اپنے نام الائٹ کرکے قبضہ کیا ہے پنجگور مکوئی ڈن اور سردار چاہ کے مقام پر ایک ڈرگ سنٹر کے قیام کے نام انکی اردگرد کی ہزاروں ایکٹ زمین صوبائی وزیر نے اپنے نام الائٹ کرکے قبضہ کیا ہے اسکے علاوہ پنجگور ائیرپورٹ کے ایریا میں سرکاری فنڈز سے ایک ڈسٹرکٹ کمپیلیکس کے نام پر عوامی زمینوں رہائشی گھروں کو بلڈوزر کرکے ارد گرد کے ہزاروں ایکٹ زمین قبضہ کرکے اپنے نام الائٹ کیا ہے جسکی تمام ثبوت اور دستاوزات پنجگور انتظامیہ کے پاس موجود ہیں ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی کسی پر تہمت اور الزام لگانے کے قائل نہیں ہے جو حقیقت ہے عوام کے سامنے لانے کی کوشش کررہا ہے اگر کسی کو اطراض ہے تو وہ بخوشی ضلعی انتظا میہ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ میں چیک کرسکتے ہیں ترجمان نے کہا کہ صوبائی وزیر کی زاتی مفادات اور پنجگور کے عوام کو فتح کرنے کی منصوبہ بندی سے پنجگور شدید بدامنی اور زمین چوروں اور قبضہ گیروں کی نرغے میں اگیا ہے پنجگور کے کوئی بھی شریف شہری صوبائی وزیر اور انکے قبضہ مافیا کی شر سے محفوظ نہیں ہے پنجگور کو چاروں طرف لینڈ مافیا نے اپنے گرفت میں لے لیا ہے پنجگور خدابادا چتکان وشبود سبزآب تسپ سے لیکر ہر طرف سے عوام کی آؤ زار قطار فریاد کررہا ہے کہ ہماری زمینیں قبضہ ہورہا ہے لیکن پنجگور انتظامیہ صوبائی وزیر کے ہاتھوں میں بے بس خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے ترجان نے کہا کہ صوبائی وزیر نے تین سال قبل عوام کو ترقی اور ڈبل روڈ کا جانسہ دیکر پنجگور کے تمام سڑکوں کو بلڈوزر چلا کر اکھاڈ دیا گیا ہے جس سے پنجگور کے عوام گزشتہ تین سال سے ازیت کا شکار ہیں کئی نوجوان حادثے کا شکار بن کر لقمہ اجل بن گئے سڑکوں کی تعمیر کا جانسہ میں اکر صوبائی وزیر نے اپنے کارندوں کے زرئعے ہزاروں افراد کے زمینوں پر قبضہ کرکے مارکیٹیں بنا لی ہے لیکن تین سال گزرنے کے باوجود کوئی سڑک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے لیکن افسوس کا مکام ہے کہ حالیہ متنازیہ صوبائی بجٹ جو ابھی تک اسمبلی سے پاس نہیں ہوئی ہے پنجگور کے ایک دو روڈ شامل کرکے پنجگور کے عوام کی انکھوں میں دھول جھونکا گیا حالانکہ اب تک کسی کو پتہ نہیں کہ موجودہ صوبائی بجٹ منظور ہوگا کہ نہیں ترجان نے کہا کہ موجودہ صوبائی وزیر پنجگور کے عوام کو دھوکا فراڈ اور خوش کن نعروں سے ورغلہ کر اپنی زاتی مفاد کی حصول میں مصروف ہے تین سال گزرنے کے باجود عوام کو مایوسی نآامیدی کے سوا کچھ نہیں دیا گیا ہے موجودہ صوبائی وزیر کی پالیسیوں سے عوام دربدر کی زندگی گزار رہے ہیں ایرانی بارڈر جو مکران کے عوام کی روزگار کا واحد زرئعہ ہے صوبائی حکومت اور صوبائی وزیر نے بند کردیا گیا ہے عوام کو پنجگور کے سڑکوں پر رلا کر الزام لگایا جاتا ہے کہ نیشنل پارٹی کے لوگ سڑک تھوڈ رہے ہیں نیشنل پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے نیشنل پارٹی ہر اس عمل کی بھر پور حمایت کرتی ہے جو عوامی مفاد میں ہے مگر افسوس کہ بلوچستان کے تین بجٹ پاس ہوچکا ہے بی این پی عوامی نے سوائے تھوڈ پوڈ سڑکوں کو اکھاڈنے کے سوا پنجگور کو کچھ نہیں دیا ہے ایک طرف قومی اثاثوں کی قبضہ گیری اور دوسری طرف عوامی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی فنڈز کی بے دریخ بندرہ بھانٹ کیا جارہا ہے پنجگور کے عوام سوال کرتے ہیں کہ اگر مزکورہ سڑکوں کی فنڈز پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں تو صوبائی وزیر کو ملنے والی 70 کروڈ سالانہ ایم پی اے فنڈز کہاں خرچ ہورہا ہے کیوں ہر سال پنجگور کے سڑکوں کو اکھاڈ کر پنجگور کو اپنی کرپشن سے کھنڈرات میں تبدیل کیا جاررہا ہے


