صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ: جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جس کا اعتراف وزیراعلیٰ نے خود کیا کہ بجٹ کا انہیں بھی نہیں تھا پتہ، وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیکر عوام کے ساتھ جو مذاق کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زیارت اور سنجاوی کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ایک بارپھر امن وامان کی صورتحال خراب کیا جارہا ہے اور عثمان کاکڑ کے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے کیونکہ اس واقعہ کے بعد بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کیلئے جو صورتحال پیدا کی جارہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کو چاہئے کہ اس واقعہ کی فوری طور پر تحقیقات کرکے اصل حقائق کو عوام کے سامنے لائی جائے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ حکومت خود اپنے ہی بجٹ سے لاعلم ہے اور پھر سمجھتی ہے بلوچستان کے عوام اور اپوزیشن جماعتیں صوبے کی ترقی نہیں چاہتی،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے پسماندگی کے ذمہ دار یہی سلیکٹڈ حکمران ہے جنہوں نے ہمیشہ ملک کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا نہیں کیا، یہاں کے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جب بھی موقع ملاہے تو انہوں نے ہمیشہ عوام کے مفاد میں فیصلے کیے ہیں اٹھارویں ترمیم این ایف سی ایوارڈگوادر جیسے عظیم منصوبہ انہی سیاسی جماعتوں کے دور میں ہی بنے جب سے آمرانہ سوچ کے حکومتوں کو یہاں مسلط کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں اپوزیشن حلقوں میں غیر منتخب نمائندوں کے ذریعے تقسیم کرکے آئندہ انتخابات میں ایک بار پھر ایسے سلیکٹڈ حکمرانوں کو سامنے لانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر ان کی یہ کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں