سیاسی کارکنان و دکانداروں نے احتجاج کے ذریعے ثابت کیا کہ حکمران ہر شعبے میں ناکام ہو چکے ہیں، موسیٰ بلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ اور مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں موجودہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت کے بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا،غیر جمہوری وغیر سیاسی روش،میرٹ کی پامالی،قانون وانصاف کی دھجیاں اڑانے،بے روزگاری،مہنگائی،غربت،امن وامان کی بگرتی ہوئی صورتحال اور بلوچستانی عوام کو دیگر گھمبیر سیاسی،معاشی،سماجی صورتحال پرگزشتہ روز کوئٹہ شہر میں کامیاب شٹرڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے میں متحدہ اپوزیشن میں شامل سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی بھرپور شرکت اور دکانداروں کی اپنی دکانیں بند کرکے شٹرڈاؤن کوکامیاب بنانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہاں کی عوام سیاسی کارکنوں اور دکانداروں نے اپنے سیاسی جمہوری احتجاج کے ذریعے سے یہ ثابت کیاکہ موجودہ حکمران ہر شعبے میں ناکام ہوچکے ہیں عوام اور یہاں کے حقیقی سیاسی پارٹیوں کا حکمرانوں سے اعتماد مکمل طورپر اٹھ گیاہے کیونکہ گزشتہ تین سالوں سے موجودہ حکمران جس طرز انداز میں حکومتی معاملات اور دیگر امور کو چلا رہے ہیں وہاں کہیں بھی اچھی حکمرانی دکھائی نہیں دے رہی موجودہ حکمرانوں کو جس مقصد کیلئے الیکشن میں سلیکٹڈ کیا گیا اور اس کے بعد حکومت ان کے حوالے کرکے انہیں یہ ٹاسک دیاگیا کہ وہ صرف اور صرف اپنے کمیشن،پرسنٹ،مراعات اور ذاتی مفادات وحکمرانی کو طول دینے پر توجہ مرکوز رکھیں اور عوام کے گھمبیر مسائل حل کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے ارکان اپنے علاقوں کے ترقیاتی کاموں بارے بات کرتے ہیں تو انہیں بزور طاقت روکا جاتاہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں کو بلوچستان کی ترقی وخوشحالی،بے روزگاری کے خاتمے،روڈوں کو دورویہ بنانے،تعلیمی اداروں میں اضافہ کرنے،سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات ودیگر بنیادی ضروریات زندگی کی موجودگی،شہریوں کو صاف پینے کا پانی،تجارت کوفروغ دینے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کو ترقی دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان 21ویں صدی میں دنیا کے تمام قدرتی معدنیات اور وسائل کے باوجود یہاں کی عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسرکررہے ہیں اور قومی شاہراہوں کو دو رویہ نہ بنانے کی وجہ سے آئے روز قیمتی انسانی جانوں کاضائع ہونے کا نہ سلسلہ ہنوز جاری ہے امن وامان کی صورتحال بدسے بدتر ہے یہاں کی عوام بے یار ومددگار خوف وہراس میں زندگی گزار رہے ہیں منشیات کی سرعام خرید وفروخت جاری وساری ہے جس کے نتیجے میں نوجوان نسل بری طرح اپنی زندگیوں اور خاندانوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں،انہوں نے سیاسی کارکنوں اور باشعورعوام سے اپیل کی کہ وہ صوبے کو گھمبیر صورتحال سے نکالنے کیلئے عوام کو شعوری وفکری اور نظریاتی قومی حقوق کی جدوجہد کی طرف راغب کرتے ہوئے میدان میں نکلیں ورنہ آنے والے دنوں میں حالات بد سے بدترہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں