افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء قیام امن نہیں خانہ جنگی کا آغاز ہے، حافظ حمد اللہ
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما وسیکرٹری اطلاعات اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سابق سینیٹر مولاناحافظ حمداللہ نے کہاہے کہ مشرف کے باقیات انکی پالیسیوں پر تنقید کرکے خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں امریکا کو پاکستانی اڈے فراہم کرنے والے مشرف کے حامی تو موجودہ حکمران تھے انکی آمریت اور فیصلوں پر خوشیوں کے شادیانے بجانے والے آج انکی پالیسیوں پر تنقید کرکے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں عوام کو جذباتی تقاریر سے ورغلانے والے حکمرانوں کے پس پردہ اسلام مخالف اور پاکستان دشمن سازشوں کو بے نقاب کرکے دم لیں گے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز مدرسہ عربیہ ترتیل القرآن کلی گل محمد کوئٹہ کے زیراہتمام منعقدہ عظمت قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا منظوراحمد مینگل مولانا سیف الرحمن اور دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیاانہوں نے کہا کہ دنیا کا امن خونخوارامریکہ اور ان کے زر خرید غلام حکمرانوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکا ہے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا مقصد قیام امن نہیں بلکہ خطے میں مزید خونریزی اور خانہ جنگی کو دوام دے کر ایک نئی جنگ کا آغاز ہوگی خطے کی موجودہ بدلتی صورتحال پرمثبت پالیسیاں تشکیل دینے میں قابض حکمران ناکام ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ دنیا نے ملا مدرسہ اور طالب کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں بد نام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو پاکستانی اڈے فراہم کرنے والے مشرف کے حامی تو موجودہ حکمران تھے انکی آمریت اور فیصلوں پر خوشیوں کے شادیانے بجانے والے آج انکی پالیسیوں پر تنقید کرکے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں عوام کو جذباتی تقاریر سے ورغلانے والے حکمرانوں کے پس پردہ اسلام مخالف اور پاکستان دشمن سازشوں کو بے نقاب کرکے دم لیں گے۔


