کوئٹہ: ہیپاٹائٹس (ای)سے بچاؤ کیلئے ویکسین متعارف کروا دی گئی

کوئٹہ: بلوچستان میں حاملہ خواتین سمیت چائلڈ بیرنگ وویمن کو ہیپاٹائٹس” ای” سے بچانے کے لیے ویکسین متعارف کروا دی گئی، یرقان کی یہ قسم حاملہ خواتین کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے، پاکستان میں رواں سال مارچ کے مہینے میں آنے والی یہ ویکسین مختصر عرصہ میں وزیر اعلی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام نے فیروز سنز کے تعاون سے بلوچستان میں بھی متعارف کروا دی ہے، ہیپاٹائٹس "ای” وائرس اور اس سے وابستہ خطرات کی آگاہی سے متعلق وزیر اعلی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تعاون سے "سینٹیفک سیپوزیم” کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کے مہمان خاص سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ عزیز احمد جمالی تھے جبکہ اس پروگرام میں پاکستان کی ممتاز ماہر امراض جگر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل و وزیر اعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی فوکل پرسن ڈاکٹر ہما قریشی (تمغہ امتیاز) ممتاز ماہر امراض زچہ و بچہ ڈاکٹر نائلہ احسان،بی ایم سی ایچ گیسٹرو انٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صادق اچکزئی نے خصوصی شرکت کی اور ہیپاٹائٹس” ای” کے مضمرات پر خیالات کا اظہار کیا، پروگرام کی میزبان وزیر اعلی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گل سبین اعظم غوریزئی نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کی روک تھام کے لئے اقدامات کو مربوط حکمت عملی کے تحت نتیجہ خیز بنایا جارہا ہے اور الحمداللہ یہ ہمارے پروگرام کی ایک اور کامیابی ہے کہ ہیپاٹائٹس کی دیگر اقسام کی روک تھام اور علاج معالجے کے ساتھ ساتھ اب ہم بلوچستان میں ہیپاٹائٹس ” ای” پر قابو پانے کیلئے مختصر ہی عرصے میں بچا کی ویکسین لانے میں کامیاب رہے ہیں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اور محکمہ صحت کے انتظامی سربراہان کی توجہ سے ہم پرعزم ہیں کہ بلوچستان سے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے اقدامات بار آور ثابت ہونگے اور عوام کو اس جان لیوا اور موذی مرض سے بچانے کی جدوجہد میں کامیاب رہیں گے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ممتاز ماہر امراض جگر و وزیر اعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی فوکل پرسن گیسٹرو انٹرولوجسٹ اینڈ ہیپاٹولوجسٹ ڈاکٹر ہما قریشی نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ آج ہم بلوچستان کی خواتین کو ہیپاٹائٹس "ای ” جیسے موزی مرض سے بچانے کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت کی سنگ بنیاد رکھنے جاررہے ہیں ہیپاٹائٹس "ای” ایک ایسا جان لیوا مرض ہے جس میں مبتلا ہو کر خواتین کی ایک بڑی تعداد مختصر عرصہ میں جگر کے عارضہ کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں انہوں نے ایک طبی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صحت مند بالغوں میں 16 فیصد ایچ ای وی مثبت پایا گیا ہے یہ مرض بچوں کو پیدا کرنے والی عمر کی خواتین پر اثر ڈال کر اموات کی ایک بنیادی ثابت ہوتا ہے بلوچستان میں خواتین کو اس جان لیوا مرض سے بچانے کے لیے وزیر اعلی ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس پروگرام کی بدولت کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ماہر امراض زچہ و بچہ ڈاکٹر نائلہ احسان، بی ایم سی ایچ گیسٹرو انٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صادق اچکزئی نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد ہیپاٹائٹس "ای” سے متاثر ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے انہوں نے بتایا کہ مختلف مطالعات و مشاہدات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران ہیپاٹائٹس "ای ” کے باعث اموات کی شرح 25 سے 30 فیصد کے درمیان رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ جگر کی دائمی بیماری کے حامل مریضوں میں اموات کی ایک اہم وجہ ہے طبی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی مریض پہلے ہی ایچ سی وی یا ایچ بی وی سے متاثر ہے تو اس سے ایچ وی کے ساتھ اموات کا خطرہ چالیس فیصد بڑھ جاتا ہے سائنٹفک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ عزیز احمد جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کی سنگین صورتحال کی نزاکت کا پوری طرح احساس ہے حکومت بلوچستان کی کوشش ہے کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لئے اقدامات کو بہتر سے بہتر بنایا جائے اور عوام کو سرکاری سطح پر تشخیص علاج معالجے کی معیاری سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمیان ہے کہ بلوچستان کی خواتین کو ہیپاٹائٹس” ای ” جیسے موزی مرض سے بچانے کے لیے مختصر عرصہ میں یہاں ویکسین متعارف کروا گئی ہے جس کے لئے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گل سبین اعظم غوریزئی سمیت پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے عزیز احمد جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہیلتھ کئیر فیسلیٹیز کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور محکمہ صحت کے انتظامی امور کے ازسر نو تعین و ذمہ داریوں کی تقسیم کے بعد ہماری کوشش ہوگی کہ اندرون بلوچستان صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے سروس ڈلیوری کا دائرہ کار صوبے کے ہر فرد تک وسیع کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں