عوام کے حقوق کیلئے صرف آل پارٹیز تاجر ولغڑی اتحاد ہی میدان عمل میں سرگرم ہے،رحیم کاکڑ

کوئٹہ: پاک افغان سرحد کوپیدل آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے کھول کر بے روزگاری کاخاتمہ کیاجائے عوام پرانے چہروں سے تنگ آچکے ہیں عوام کے حقوق کیلئے میدان میں صرف آل پارٹیز تاجر ولغڑی اتحاد ہی میدان عمل میں سرگرم ہے آج عوام کی اجتماع نے یہ ثابت کردیاکہ عوام اپنے حقوق کیلئے کسی بھی قسم کے احتجاج سے دریغ نہیں کرینگے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں اگلا احتجاج دھرنے کی صورت میں ہوگا دھرنا ایف سی ہیڈکوارٹر کے سامنے پاک افغان بین الاقوامی شاہراہ پر ڈالاجائے گا جس سے ہرقسم کی کاروباری سرگرمیا ں معطل ہوگی پاک افغان سرحدکو کروناء وائرس کی آڑ میں بند کرنااور عوام کی معیشت پر لات لگانا اور ان سے روزگار چھیننا کبھی بھی برداشت نہیں کرینگے ان خیالات کااظہار آل پارٹیز تاجر ولغڑی اتحاد کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی ودھرنا سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کے صوبائی صدر رحیم کاکڑ، انجمن تاجران کے ضلعی صدر ومظلوم اولسی تحریک کے کورکمیٹی ممبر صادق خان اچکزئی،یاسین مینگل،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر قاری امداد اللہ،مظلوم اولسی تحریک کے چیئرمین عبدالرازق اچکزئی،لغڑی اتحاد کے غوث اللہ،سیکرٹری امیرمحمد، اہلسنت والجماعت کے ضلعی امیر عبدالخالق سنی، بوگئی، عبدالقیوم خادم،عبدالخالق اوردیگرمقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیااس سے پہلے آل پارٹیز تاجر ولغڑی اتحاد کی جانب سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی پاک افغان باڈر باب دوستی پر پیدل آمدورفت اور چھوٹے تاجروں کی کاروباری سرگرمیوں پر پابندی کے خلاف تاج روڈ تحصیل کچہری کے سامنے شروع ہوئی جو شہرکے مختلف شاہراہوں تاج روڈ،مرغی بازار،شہید ساجد مومند روڈ،ٹرنچ روڈ،مال روڈ سے ہوتے ہوئے ایف سی ہیڈکوارٹر کے سامنے پاک افغان بین الاقوامی شاہراہ پر اختتام پذیر ہوئی جہاں پر دھرنا دیاگیا احتجاجی مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور پاک افغان سرحد باب دوستی کے مقام پر پیدل آمدورفت کو پرانہ طریقہ اوراور تاجروں کے ویش منڈی تک آنے جانے میں آسانیاں فراہم کرنا جیسے نعرے شامل تھے احتجاجی دھرناسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مزیدکہاکہ عوام اب تمام سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوچکی ہے جو کل پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے وہ کچھ عرصہ پہلے الزامات تراشیاں ایک دوسرے پر کررہے تھے مگر آج وہ عوام کی حقوق کیلئے اکھٹے نہیں ہوئے ہیں بلکہ اپنے مفادات کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں اس طرح عوام کو ورغلایانہیں جاسکتا کیونکہ پاک افغان سرحد گزشتہ کئی عرصے سے بند ہے مگر آج تک ان کی جانب سے کسی بھی قسم کی مذمت نہیں کی گئی صرف ایک ہی تنظیم آل پارٹیز تاجر ولغڑی اتحاد ہے جنہوں نے ہرفورم پر چمن کے عوام کیلئے آواز بلند کی مقررین نے مزیدکہاکہ آج کا احتجاج صرف یاد دہانی ہے کیونکہ ہمارے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے وہ عہد وفا نہیں ہوسکے ہیں جس میں ہمارے ساتھ وعدہ کیاگیاکہ پیکیج میں دس کلو وزن تک سامان چھوڑاجائے گا اور پیدل آمدورفت میں کوئی مشکل نہیں ڈالی جائے گی جبکہ چمن کے عوام اور تاجروں کو تمام سہولیات میسر ہوگی جبکہ حالات اس کے برعکس ہے اتوار کے بعد سخت احتجاج ہوگا جس میں پاک افغان بین الاقوامی شاہراہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے سامنے دھرنا دیاجائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پورے صوبہ بلوچستان میں انجمن تاجران اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے سخت شٹر داؤن ہڑتال ہوگا جس کی تمام تر ذمہ اری متعلقہ حکام اور صوبائی حکومت پر ہوگی کیونکہ ہمارے مطالبات بار بار کرنے کے باوجود بھی اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے جوکہ کسی بڑے احتجاج کا رخ اختیار کرسکتاہے انہوں نے مزیدکہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کریں بصورت دیگر ہرقسم کے احتجاج کاحق محفوظ رکھتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی انہوں نے آخر میں صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت ہمارے مسائل پر سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے عمل درآمد کرائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں