کوئٹہ،حکومتی وزراء وارکان اسمبلی کی ایک بار پھر اپوزیشن کو میڈیا کے سامنے مذاکرات کی پیشکش

کوئٹہ: حکومتی وزراء وارکان اسمبلی نے ایک بار پھر اپوزیشن کو میڈیا کے سامنے مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہاہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات پی ایس ڈی پی اور پیسوں تک محدودہوجاتے ہیں،18جون کو اسمبلی میں رونماہونے والا واقعہ تاریخ میں لکھاجائے گا،اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کرنے پرنئی مطالبات رکھے جاتے ہیں ایف آئی آر سے نام نکلوانے کے باوجود اپوزیشن اراکین کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہیں اپوزیشن ایسے ڈیمانڈز کر رہے ہیں جیسے خود حکومت میں ہیں،اپوزیشن کے دفعہ169پراعتراض کوختم کیاجائے گابلوچستان میں امن وامان کی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں،گزشتہ تین سالوں سے ہربجٹ سے پہلے احتجاج کاراستہ اختیارکیاجاتاہے۔ان خیالات کااظہار صوبائی وزراء میر سلیم احمدکھوسہ،میرعارف محمد حسنی رکن صوبائی اسمبلی اصغرخان اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میرسلیم کھوسہ نے کہاکہ اپوزیشن بڑے سینئر ہے جو دوسری اور تیسری مرتبہ ایم پی ایز بن کر آئے ہیں حکومت عوام کو جوابدہ ہیں اگر اپوزیشن کے حلقے ترقیاتی کاموں سے محروم ہیں تو ہم اپوزیشن اور میڈیا دونوں کو جواب دینے کیلئے تیار ہیں،وزیراعلیٰ جام کمال نے میرے حلقے میں کم اورا پوزیشن کو زیادہ ترقیاتی منصوبے دئیے ہیں اپوزیشن انفرادی نوعیت کے منصوبے مانگ رہے ہیں،18تاریخ کاواقعہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا 169پر اگر اپوزیشن کو اعتراض ہے تو وہ اعتراض بھی ختم کیاجائے گا۔ میڈیا کے توسط سے گزارش ہے کہ اپوزیشن آئیں کمیٹی تشکیل دیں مل بیٹھ کر معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔اپوزیشن بچوں کی طرح ضد کرکے بیٹھے ہیں جو انتہائی غیر مناسب ہے،تھانے میں اور بھی بہت سے قیدی موجود ہیں کیاان کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا اگر اپوزیشن کوکوریج ملتی ہے تو پھر دوسرے قیدی جوبیٹھے ہیں انہیں بھی کوریج دیاجائے۔حکومت نے صرف کہاکہ دوسروں کا بھی عزت نفس کاخیال رکھاجائے،اگر دوسرے قیدی دال اور یہ روسٹ اور سجیاں کھارہے ہیں تو یہ تو ناانصافی ہے، اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ ہمیں ایسے راستوں سے گزر کراسمبلی پہنچناپڑے تاکہ ہمیں اپوزیشن کے ساتھ خدانخواستہ دست وگریباں نہ ہوناپڑے اگر یہ احتجاج 24ارکان اسمبلی کے ذریعے کی جاتی تو بہترہوتا مخصوص مقاصد کیلئے میں اے این پی یا کسی اور جماعت کے کارکنوں کو بلا کر احتجاج کریں جس کا کوئی جواز نہیں ہوگا،انہوں نے کہاکہ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ آج بیٹھ کر میڈیا کے سامنے اپوزیشن سے مذاکرات ہوں اور جن باتوں پر مذاکرات ہوگی ان پرعملدرآمد کرایاجائے گا انہوں نے کہاکہ ہمارے ساتھ گفت وشنید میں یہاں تک کہاگیاکہ ہم ایف آئی آر مقدمات سے نہیں ڈرتے لیکن معاملہ پھر آکر پی ایس ڈی پی پر اٹک جاتاہے میں کہنا نہیں چاہتا لیکن مجبورہوکر کہناپڑرہاہے کہ بات پھر پیسوں پر آجاتی ہے اگر میں یہ سوال کروں کہ اگر حکومت کو ایوان کاخیال نہیں تو کونسے ایام ہے پچھلے سال بجٹ پیش ہورہاتھا یہ لوگ سڑکوں پرآئے حالانکہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاملات ہوتے رہتے ہیں،تین بجٹ کا تجربہ ہے کہ ہربجٹ سے پہلے احتجاج کیاجاتاہے جس کا یا تو پہلے حل نکال لیاجاتاہے یا پھر بعد میں،ہم آج بھی کہتے ہیں کہ ہم بیٹھنے کیلئے تیار ہیں اگر ایف آئی آر سے آپ کانام نکال دیاہے خدانخواستہ اگر کل ہم اپوزیشن میں ہوں اور اسمبلی میں اس طرح کا کوئی رویہ رونما ہوجائیں تو ان لوگوں کا کیا رویہ ہوگا۔ ہم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پراسس مکمل ہونے پرنام مکمل ہوجائے گا،میں لکھ کردیتاہوں کہ اگر ایف آئی آر ختم کیاجائے تونیا مطالبہ سامنے آئے گا انہوں نے کہاکہ اسپیکر اسمبلی کی رولنگ کے تحت فائل جن محکموں سے گزر کر وزیراعلیٰ کے پاس آیا اس کے مطابق حکومت نے من وعن عملدرآمد کیا بلوچستان میں امن وامان کی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں ہم اپنے مرکزی رہنماء ملک عبیداللہ کی اغواء کے کرب سے گزررہے ہیں ہردوسرے تیسرے دن واقعات رونما ہورہے ہیں،جو صورتحال کہ پولیس کے ساتھ ڈائریکٹ دست وگریباں ہونے کی کوشش کی جارہی ہے وہ چاہتے ہیں کہ کسی کا سر پٹے یا ہاتھ زخمی ہوں،انہوں نے کہاکہ قیدی اس طرح نہیں ہوتا نہ ہی انہیں اس طرح کاماحول میسر ہوتاہے جس میں سجیاں پک رہی ہو دسترخوان بیچائے گئے ہوں انہوں نے کہاکہ جب ایف آئی آر سے نام نکل گیاہے تو پھر کونسا قانون اختیار دیتاہے کہ آپ تھانے میں بیٹھیں۔ہم نے جمہوری طریقے سے اسپیکر کی رولنگ پر نام ایف آئی آر سے نکلوادئیے اگر اپوزیشن کے دلوں میں خوف ہے کہ یہ ایف آئی آر لٹکتی رہے گی تو ہم آگے بھی بیٹھنے کیلئے تیار ہیں،مولاناعبدالواسع کو ہم نے پیشکش کی کہ آپ ثالث بن کر بیٹھے اور 18تاریخ کو دیکھیں اگر حکومتی اداروں کی طرف سے کمی وبیشی محسوس ہوں تو ہمارا گریباں اور آپ کا ہاتھ ہے اگر ہم نے صبر کامظاہرہ کیاہے اور آپ قصوروار ہے تو آپ اپنے ساتھیوں کوسمجھانے کی کوشش کرے۔انہوں نے کہاکہ اگر اس طرح کاماحول ہر تھانے میں پیدا ہوں تو کیا اثرات مرتب ہوں گے،یہ دانستہ طورپر کوشش ہے کہ تھانے کو پریس کلب یا جلسہ گاہ بنائیں۔اپوزیشن کے حلقوں میں جہاں ان کو اعتراض ہے تو پوری حکومت کے ساتھ صلاح ومشورے کے تحت جس حلقے میں منصوبے کاافتتاح ہوگا وہاں وزیر اور ایم پی اے دونوں ہوں گے،اصغرخان اچکزئی نے دعویٰ کیاکہ صوبائی بجٹ سپریم کورٹ کے فیصلے اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے مطابق بنایاہے۔ایف آئی آر سے نام نکلوانے کے باوجود اپوزیشن اراکین کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہیں۔جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے اپوزیشن اپنا کردار ادا کریں 18جون کے واقعے کے متعلق ان کمیرہ بریفنگ کے لیے تیار ہیں 5بار تھانے گئے مگر مسلہ حل کرنے کی بجائے نئے نئے مطالبات سامنے آ رہے ہیں میڈیا کے توسط سے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں اپوزیشن مسئلہ تھانے اور سڑکوں پر حل کرنے کی بجائے ایوان کے اندر حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں