سلیکٹڈ وزیراعظم کی قیادت میں ملک میں قائم سول مارشل لاء نے ضیاء آمریت کی یاد ایک مرتبہ پھر تازہ کردی ہے، پیپلزپارٹی بلوچستان
کوئٹہ:پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنماوں نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کی قیادت میں ملک میں قائم سول مارشل لاء نے ضیاء آمریت کی یاد ایک مرتبہ پھر تازہ کردی ہے پی پی پی آمر کی باقیات کے خاتمے اور حقیقی جمہوریت کے قیام تک جدوجہد جاری رکھے گی،تبدیلی سرکار نے عوام کو سبز باغ دیکھاکر ووٹ لئے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑدیئے ہیں مدینے کی ریاست بنانے کے دعویدار آٹا،چینی چوروں کی سرپرستی میں مصروف ہیں یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ،سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند خان جوگیزئی،نائب صدر شیخ بلال مندوخیل،کوئٹہ سٹی کے صدر نورالدین کاکڑ،سیکرٹری اطلاعات احسان افغان،ضلع کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری ولی محمد وردگ، رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ،کوئٹہ ڈویژن کے سیکرٹری اطلاعات صوبدار جتک، یوتھ ونگ کے صدر ثناء اللہ جتک،سپورٹس ونگ کے صدر شہزادہ کاکڑ،لیبر بیورو کے صدر شاہجہان گجر،سرداراکرم بنگلزئی،اقلیتی ونگ کے صدر جعفر جارج،سینئر نائب صدر چوہدری شان سلامت،علماء ونگ کے صدر مولوی جمال کاکڑ،،پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اشفاق بلوچ، ودیگر نے پاکستان پیپلزپارٹی کوئٹہ سٹی کے زیراہتمام 5 جولائی یوم سیاہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء لگانے والے آمر کو آج کوئی یاد نہیں کرتا مگر شہید ذؤالفقار علی بھٹو کو جمہوریت کیلئے کھڑ ا ہونے اورانکی خدمات کو آج ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے پیپلز پارٹی کسی کی بنائی ہوئی جماعت نہیں ہے یہ جماعت عوام نے بنائی ہے اوراسکی جڑیں عوام میں ہیں ہمیں جتنا بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائے عوام کسی بھی صورت آمرانہ رویے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ 5جولائی پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے آج کے دن ایک ڈکٹیٹر ضیاء نے جمہوری سفر کو روک کر ملک کو اندھیروں مین دھکیل دیا گیا بھٹو شہید عوام کے دلوں میں زندہ اور قاتل آج تک محروم و تنہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہید زولفقار علی بھٹو نے سر زمین بے آئین کو 1973 کامتفقہ آئین دیا،عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی اور مظلوم و محروم طبقات کو زبان دی جو ملک دشمنوں کو ہضم نہیں ہوئی اور ایک ابھرتے خوشحال اور جمہوری پاکستان کا دھارا زوال کی طرف موڑا گیاایک آمر نے منافقت سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا اور بدترین جبر کی بنیاد رکھی،شہید بھٹو نے اسلامی ملکوں کی قیادت کی، لیکن آج اسلامی ممالک سے بھیک مانگی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا تاکہ معاشرہ اپنی جمہوری و معاشی استعبداد سے محروم ہو جائے شہید بھٹو نے پوری قوم کو جگایا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیئے اسے بااختیار بنایاشہید بھٹو سمجھتے تھے کہ غربت و افلاس قدرت نہیں انسانوں کے پیدا کردہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ 5جولائی 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایک فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے ملک پر مارشل لا نافذ کر دیا تھاملکی تاریخ کے اس کربناک دن کو ملک بھر میں پیپلزپارٹی اور جمہوری طاقتیں یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر سلیکٹیڈ وزیراعظم کی قیادت میں ملک میں سول مارشل لاء نافذ کردی ہے،سلیکٹڈ وزیراعظم ملک کے ہر ادارے کو اپنی طرح سلیکٹڈ بنانے اور ملکی معیشت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں آمریتی عناصر اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ ابھی جاری ہے جس میں فتح انشاء اللہ پاکستانی عوام کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں ترمیم کی وجہ سے رات کے اندھیرے میں جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجنے کا راستہ روک دیا ہے مگر آمریت کے دوسرے روپ میں ملک میں آج بھی سول ڈکٹیٹرشپ قائم ہے عمران خان کی پی ٹی آئی سرکار ملک کو آمرانہ طرز پر چلا رہی ہے اور اس موجودہ آمرانہ طرز حکومت میں عوام سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے او اظہار کی آزادی بھی صلب کی جا رہی ہے، پیپلز پارٹی نے ملک کے آئین اور جمہوریت کے لئے بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیاں دی ہیں، یہ جدوجہد عوام کی حتمی فتح تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار نے آج ملک میں مہنگائی کے تمام ریکارڈ توردیئے ہیں اور وہ چینی،آٹا چوروں کی سرپرستی کررہے ہیں پٹرولیم مصنوعات،بجلی گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے غریب عوام 2وقت کی روٹی کے محتاج ہوچکے ہیں اور وہ اپنے بچوں سمیت خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں لیکن حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے اپنی تمام تر توانائیاں اپوزیشن کو زیر کرنے کیلئے استعمال میں لارہے ہیں لیکن وہ پیپلزپارٹی کو عوام کے حقوق کی جدوجہد سے دستبردارنہیں کراسکتے۔


