بولان میڈیکل کمپلیکس میں سٹی اسکین ،ایم آر آئی اور دیگر ضروری تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہیں، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن بلوچستان
کوئٹہ(انتخاب نیوز) الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن بلوچستان کے صوبائی صدر فضل الرحمان کاکڑ، سینئر نائب صدر حاجی رحمت اللہ دہوار، جنرل سیکریٹری طاہر خان دومڑ اور صدر سول سنڈیمن ہسپتال یونٹ جمال شاہ کاکڑ نے اپنے مشترکہ بیان میں بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں MRI، CT Scan، اینجیوگرافی اور دیگر ضروری تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں اضافے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔رہنماو¿ں نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت کے دور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن بلوچستان نے کوئٹہ کے سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس سمیت دیگر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں MRI، CT Scan، اینجیوگرافی اور دیگر ضروری تشخیصی سہولیات کو عوام کے لیے کم نرخوں پر فراہم کرنے سمیت متعدد مطالبات کے حق میں احتجاج کیا تھا، جن میں سے کئی مطالبات حکومت نے منظور بھی کیے تھے۔افسوسناک امر ہے کہ موجودہ دور میں ان ضروری طبی تشخیصی سہولیات کی فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں پر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں عام شہری کے لیے ہزاروں روپے کے تشخیصی ٹیسٹ کروانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں کا بنیادی مقصد عوام کو معیاری اور قابلِ استطاعت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
تنظیم کے رہنماو¿ں نے کہا کہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں اس وقت MRI کے مختلف ٹیسٹوں کے لیے درج ذیل فیسیں مقرر کی گئی ہیں:
MRI Plain (بغیر کنٹراسٹ اور بغیر فلم): 5,000 روپے
MRI with Films (بغیر کنٹراسٹ، فلم کے ساتھ): 7,000 روپے
MRI with Contrast (کنٹراسٹ کے ساتھ، بغیر فلم): 10,000 روپے
MRI with Contrast and Films (کنٹراسٹ اور فلم کے ساتھ): 12,000 روپے
مریضوں کے وسیع تر مفاد اور موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے MRI، CT Scan اور دیگر ضروری تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں واضح اور مناسب کمی کی جائے، تاکہ غریب اور مستحق مریض بھی بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔ بولان میڈیکل کمپلیکس سمیت تمام سرکاری ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں MRI، CT Scan، اینجیوگرافی اور دیگر ضروری تشخیصی سہولیات مناسب اور عوامی استطاعت کے مطابق نرخوں پر فراہم کی جائیں، جبکہ جہاں یہ سہولیات موجود نہیں وہاں انہیں فوری طور پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات عوام کا حق ہیں، انہیں صرف مالی استطاعت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ غریب مریضوں کے لیے خصوصی رعایت یا سبسڈی کا مو¿ثر نظام وضع کرے تاکہ کسی بھی شہری کو صرف مالی مشکلات کی وجہ سے ضروری تشخیصی ٹیسٹ سے محروم نہ ہونا پڑے۔الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن بلوچستان تمام سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غریب عوام کو درپیش اس اہم مسئلے پر مو¿ثر آواز بلند کریں اور حکومت پر زور دیں کہ تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں مناسب کمی اور سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔


