اسلام آباد کا مائنڈ سیٹ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں لگتا،ڈاکٹر مالک بلوچ

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) سابق وزیراعلیٰ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ اسلام آباد کا مائنڈ سیٹ ناراض بلوچوں کیساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہے،ماضی میں ہم نے بھر پور کوشش کی لیکن ان مذاکرات کو کامیاب ہونے کی بجائے غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہمارے تمام کاوشوں پر پانی پھیر دیا گیا ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی بھی شریک تھے جب ڈاکتر عبدالمالک سے پوچھا گیا کہ 2015میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے یہ کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ایک مضبوط وفد جس میں نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی، سینیٹر میر کبیر محمد شہی، تھے مذاکرات کئے لیکن بد قسمتی اسٹیبلشمنٹ میں موجود دو گروپ ایک مذاکرات کی حامی جبکہ دوسرا مخالف اس لئے ہماری ساری محنت پر پانی پیر دیا گیا مجھے نہیں لگتا کہ اسلام آباد کے مائنڈ سیٹ اس مسئلے پر سیریس ہو، بلوچوں کو جو خدشات ہیں ان میں بلوچوں کی شناخت کو خطرہ، حق حاکمیت اور انہیں اپنے نمائندے چننے کا اختیار نہ دینا۔ ساحل و وسائل پر ان کا اختیار سیندیک سوئی گیس کے بعد ریکوڈک کی لوڈ مار اور گوادر پر خدشات ہیں ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی مذاکرات کی حامی ہے۔ لیکن حکومت اس حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس خوشی کا اظہار کیا ہے ڈاکٹر مالک بلوچ سے پوچھا گیا کہ خان آف قلات سلمان داؤد سے ہم نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ ہم برائے راست سٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرینگے حکومت بے اختیار ہے۔ اس حوالے سے حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی حکومت بلوچستان نے مکمل حمایت کی امید ہے کہ اس حوالے سے جو وفد بنے گا اس میں شازین بگٹی سمیت وفاقی وزراء اور حکومت بلوچستان کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔ اس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں