جھالاوان میڈیکل کالج میں کرپشن عروج پر، طلباء و طالبات بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم کر دیا گیا ہے،بساک

خضدار:بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں جھالاوان میڈیکل کالج میں کرپشن کے حوالے سے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کالج انتظامیہ تمام فنڈز کو خرد برد کرکے طلباء و طالبات کو تعلیم کی بنیادی سہولیات سے مکمل طور محروم کردیا گیا ہے۔کالج کے قیام سے لیکر آج تک جھالاوان میڈیکل کالج کیلئے ایک بلڈنگ تک تعمیر نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ بلڈنگ کی تعمیر کیلئے کروڈوں روپے فنڈز فراہم ہوچکے ہیں لیکن تمام فنڈز کرپشن کی نظر ہوگئے ہیں اور آج تک بلڈنگ کی تعمیر کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔ کبھی نا اہل انتظامیہ جھوٹ کا سہارا لیکر سکندر یونیورسٹی کو جھالاوان میڈیکل کالج میں تبدیل کرنے کا بہانہ کرتا ہے اور کبھی پولیٹیکنیکل کالج کو مستقل کرنے کا شوشہ چھوڑتا ہے۔ میڈیکل کالج کے طلباء وطالبات کو پولیٹیکنیکل کالج میں منتقل کرنے سے وہاں کے نرسوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ہاسٹلز کو میڈیکل طلباء و طالبات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جسکی وجہ سے نرسز ہاسٹل بدر ہیں اور انہیں ٹرانشپورٹیشن کا مسئلہ درپیش ہے وہ دور دراز علاقوں سے یہاں کلاسز اور لیکچر اٹینڈ نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ایک میڈیکل کالج میں لیبارٹریز فنکشنل نہیں ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ چنانچہ کالج میں پریکٹیکل ورک نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ ہر ایک لیبارٹری ایناٹومی، فزیولوجی، بائیو کیمسٹری کیلئے الگ الگ لاکھوں روپے فنڈز مختص کی گئی ہیں لیکن وہاں کا جائزہ لیا جائے تو پچاس ہزار کے اِکوِپمِنٹس موجود نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ فھزیولوجی لیبارٹری میں انجکشن تک میسر نہیں۔ پورے پھیتولوجی اور فارماکولوجی کی لیبارٹری میں دس کے قریب مائیکروسکوپ لائے گئے ہیں جن میں تین خراب ہیں اور باقی چار بیچز کیلئے سات مائیکروسکوپ ناکافی ہیں اور پورے میڈیکل کالج کے لیبارٹریز خستہ حال ہیں۔ پورے فارما اور فورینزک لیبارٹری میں بالترتیب ایک ایک پروفیسر موجود ہے جو کہ اتنی بڑی تعداد میں موجود اسٹوڈنٹس کو مکمل کورس پڑھانے کیلئے ناکافی ہے۔ لائبریری کیلئے ساٹھ ستر لاکھ کی منظوری ہوئی ہے اور بی ایم سی کے پروفیسرز اور لیچکررز نے بھی کئی کتابوں کے ریفرنس دی گئی ہیں لیکن لائبریری کو کوئی کتاب فراہم نہیں کی گئی ہے۔ کمیٹی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ براہ نام موجود ہے لیکن وہاں چند ٹیبلز اور الماری کے سوا کوئی ساز وسامان موجود نہیں۔ لیبارٹریز، کمپیوٹر لیب کے نان فنکشنل ہونے کیساتھ ساتھ بجلی لوڈ شیڈنگ بھی اپنی عروج پر ہے جس سے اسٹوڈنٹس کو انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی ہے۔ رواں سال میں ایم آر آئی مشین اور ایمبولنس کی منظوری ہوئی ہے لیکن ان میں سے اب تک کوئی چیز مہیا نہیں کی گئی ہے۔ پورے کالج میں دو بس موجود ہیں جو کہ طلباء و طالبات کو ٹرانسپورٹیشن میں انتہائی دشواری اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کالج میں خستہ حال لیبارٹریز، اور دیگر اہم ساز وسامان کی کمی کی وجہ سے پاکستان میڈیکل کمیشن (PMC) کی جانب رجسٹریشن کے مسئلے ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ کالج انتظامیہ کو چاہیئے کہ ان تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے اور ہم حکومت بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ان مسائل پر توجہ دیکر کالج انتظامیہ کی جانب کئے گئے کرپشن پر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیکر کرپشن میں شامل تمام زمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ بصورت دیگر ہم ہر فورم پر آواز اٹھا کر طلباء کے حقوق کیلئے آواز اٹھاکر احتجاج کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں