اسداللہ پیدائشی بلوچ،نواب شاہوانی و دیگرثالیثین سے اختیار واپس نہیں لیا، سناڑی قبیلے کو بزگر کہنے کا رویہ نفسیاتی مریضوں کا ہی ہو سکتا ہے، حبیب اللہ زہری
قلات:: پروفیسر حبیب اللہ زہری نے سوشل میڈیا کے زریعے شائع ہونے والی پسند خان پائندزئی مینگل اور بالاچ خان پائندزئی مینگل کا اپنے گھر میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کے متعلق تجزیہ کرتیہوئے کہا کہ پریس کانفرنس میں جو الفاظ استعمال ہوئیں وہ انتہائی ناقص، لغو، ناشائستہ اور غیر پارلیمانی تھے. انھوں نے کہا کہ بلوچ ایک قوم ہے جس میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جیسے بلوچی، براہوئی، دہواری، سرائیکی وغیرہ وغیرہ مگر اپنے مفاد کے لیے بلوچ قوم کو تقسیم کرنا انتہائی ناعاقبت اندیشی، شرانگیزی اور قابل مذمت عمل ہے.
جہاں تک اسداللہ بلوچ صاحب کے بلوچ ہونے کا تعلق ہے تو وہ پیدائشی بلوچ ہے. اور بلوچ سرزمین کے لیے ان کے گرانقدر خدمات ہیں. علاوہ ازیں وہ متعدد بار بلوچستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں اور موجودہ حکومت میں بھی وہ ضلع پنجگور کے ہزاروں افراد کے نمائندگی کرتے ہوئے اپنے عوام کی خدمت کر رہیہیں. وہ آج بھی حکومت بلوچستان کا ایک معزز رکن اور وزیر ہے. ان کی شان میں ہرزہ سرائی کرنا ضلع پنجگور کے لاکھوں بلوچ عوام کی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مترادف ہے.
پروفیسر صاحب نے مزید کہا کہ آپ ذرا یہ بھی سوچیں کہ تمہیں کس نے یہ اختیار دیاہے کہ تم بلوچ ہونے یا نہ ہونے کے سرٹیفکیٹ جاری کرو. تمہیں اگر کسی ثالث پہ اعتراض تھا تو یہ اعتراض ثالثین کے انتخاب کے وقت کرتے تو آپ کی بات کی کوئی وزن ہوتا. اب جب فیصلہ تمہارے توقعات و خواہشات کے برعکس آیا تو معزز لوگوں کے کردارکشی پہ اتر آئے جو کہ انتہائی نا معقول بات ہے.
اور جو لوگ بار بار خود کو با عزت اور خاندان کہتے ہیں انھیں قطعاً ایسی حرکت زیب نہیں دیتا اور بلوچستان جیسے قبائلی علاقوں میں ایسے لوگوں کو خاندان اور باعزت کہنے والے بہت کم ہی ہوں گے. خاندان وہی ہوتے ہیں جنہیں اگر اپنی عزت کا خیال ہے تو وہ دوسروں کیعزت کرنا بھی جانتے ہیں. اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کوئی کوئی معزز نہیں بن سکتا.
رہی بات سناڑی زہری قبیلے کی ستمبر 2015 میں اپنے لیے جرگہ منتخب کرنے اور ثالثین یعنی (نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی اور میر کبیر احمد محمد شہی) سے تین سال بعد اپنا اختیار واپس لینے کا تو یہ سراسر جھوٹ اور الزام تراشی ہے. تینوں ثالث آج بھی زندہ و حیات ہیں اللہ پاک انھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے. کسی بھی بندے کو ثالثین سے معلومات حاصل کرنے ہوں تو وہ بڑے شوق سے ان سے اس سلسلے میں رابطہ کرسکتا ہے اور معلوم کر سکتا ہے کہ واقعی معاملہ ایساہی ہے یا یہ محض ایک الزام اور سفید جھوٹ ہے.
سناڑی زہری قبیلے نے کھبی بھی اپنے گزشتہ ثالثین سے ایسی مطالبہ نہیں کیا یہ صرف اور صرف مخالف فریق کی الزام تراشی اور تہمت ہیں. اور رہی بات مینگلوں کا اپنے آپ کو بار بار مالک کہنا اور سناڑی زہری قبیلے کو بزگر کہنا ایسا رویہ اختیار کرنا نفسیاتی مریضوں کا ہی ہو سکتا ہے.
جہاں تک دشت گوران کی زمینوں کا تعلق ہے سناڑی زہری قبیلہ گزشتہ 480 سالوں سے ان زمینوں کا جدی، پشتی و موروثی مالک چلا آیا ہے. البتہ 1970-71 باز خان مینگل اور علی دوست مینگل بحیثیت settlement اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے بندوبستی رکارڈ میں غلط اندراجات کیے اور آج تک اسی ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے 100 اور جھوٹ بولنیپڑھ رہے ہیں. کہاوت ہے کہ جھوٹ بولنے والے کو پہلے موت آتی تھی اب بخار بھی نہیں آتا. قبائلی جرگے کے تمام نشستوں میں مینگل قبیلے نے دشت گوران کی زمینوں کی ملکیت کے متعلق ایک بھی مستند، ٹھوس اور قابل قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا. اپنے من گھڑت اور خود ساختہ ثبوتوں کو دوسروں کے لئے قابل قبول ثبوت ٹھہرانا زورازوری اور حماقت کے سوا کچھ نہیں.
پروفیسر نے دونوں نوجوانوں کے پریس کانفرنس کے دوران دھمکی آمیز رویوں کی مذمت کی اور کہا کہ نہتے زہریوں کو بازاروں اور میدانوں میں چھپ کر جان سے مارنے پر فخر کرنا میری دانست میں نامردی اور بزدلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں. اتنے سارے تباہی اور جانی نقصان کے باوجود مخالف کو اب تک ہوش نہیں آرہا تو یہ انکی بدقسمتی ہے اور تمہاری گیڈربھبکیوں اور خالی خولی دھمکیوں سے کوئی بھی ذی شعور شخص اپنے پدری جائیداد سے دستبردار نہیں ہوگا. ہوش کے ناخن لیں اور انسان بنیں اب بھی وقت ہے نہیں تو ایسا تیرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے.
آخر میں پروفیسر حبیب اللہ زہری نے کہا کہ جو فیصلہ پائندزئی مینگل کے ثالثین نے یکطرفہ کیے ہیں وہ عمل قابل مذمت ہے. اور جو لوگ اپنے آپ کو بلوچی روایات کے پاسدار اور امین سمجھتے ہیں انھیں ایسے شرانگیزی اور فتنہ پردازی والی حرکات زیب نہیں دیتے کہ لوگوں کو شطرنج کا مہرہ سمجھ کر لڑائیے اور خود شیشے کی محلات میں آرام سے بیٹھ کر تماشا دیکھیے. اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور ان کی لاٹھی بے آواز ہے…


