ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات خوش آئند ہے،جام کمال
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ان ناراض لوگوں سے مذاکرات خوش آئند امر ہے تاہم ان لوگوں سے بات چیت نہیں ہو سکتی جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ڈھائی سال بلوچستان کے حالات میں جو تبدیلی آئی ہے اس کے بعد اعتماد کی فضاء بحال ہوئی وزیراعظم پاکستان نے گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ تمام محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے امید ہے نئے گورنر وفاق سے متعلق بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جس طرح وزیراعظم نے گوادر میں ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کی بات کی ہے وہ انتہائی اہمیت کی حامل اس سے قبل خود وزیراعظم اور ہم نے بارہا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی اور ترقی کے نا ہونے کے باعث بہت سے لوگ ناراض ہیں جن میں کچھ لوگ ملک اور ملک سے باہر آئینی طریقہ کار سے بلوچستان کو آگے لے جانے کی بات کررہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے تحفظات کا خاتمہ کرنا ہوگا تاہم کچھ عناصر ایسے ہیں جنہیں ہم ناراض نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ دوسروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کو منظم انداز میں آگے لے جانے کے لئے ضروری تھا کہ اعتماد کی فضاء بحال کی جائے اور گزشتہ 3 سال میں بلوچستان میں ترقی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سو فیصد نہ سہی مگر پچاس فیصد اعتماد کی فضاء بحال ہوئی ہے جس کے بعد ہم مذاکرات کے عمل کو احسن انداز میں آگے لے جاسکتے ہیں وزیراعظم کی جانب سے نوابزادہ شازین بگٹی کو مذاکرات کے لئے جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک قبائلی سردار ہی ان چیزوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے اور قبائلی حوالے سے نوابزادہ شازین بگٹی جانتے ہیں کہ کس کس کو ساتھ لیکر چلنا ہے انہوں نے کہا کہ گورنر کی تبدیلی سے متعلق وزیراعظم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تمام محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے بلاشبہ گورنر کا صوبہ میں ایک اہم کردار ہوتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ نئے گورنر وفاق سے متعلق بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔


