حکومت نے بجٹ میں اربوں روپے کے غیر ضروری منصوبے شامل کئے ہیں تاکہ کرپشن کی جائے،اپوزیشن ارکان

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں اربوں روپے کے غیر ضروری منصوبے شامل کئے ہیں تاکہ کرپشن کی جائے 40کروڑ روپے کی لاگت سے پکنک پوائنٹ بنانے کی بجائے یہ رقم کوئٹہ شہر میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے استعمال کی جاتی،اپوزیشن جماعتیں حکومتی کرپشن اور عوام کے حقوق کے حصول کے لئے کسی بھی قسم کے احتجاج سے دریغ نہیں کریں گی،جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینتالیس منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن ثناء بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ایوان کی توجہ ینگ نرسز کے جاری احتجاج کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جس طرح اپوزیشن اراکین نے احتجاجی کیمپ لگایا اور حکومت کی جانب سے کسی نے آنے کی زحمت نہیں کی اسی طرح ینگ نرسز کو بھی تاحال حکومت کی جانب سے جائز آئینی مطالبات کی منظوری کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں نرسز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اگر ان کا کنٹریکٹ ختم ہوا ہے تو حکومت کو فوری طو ر پر ان کے سڑکوں پر آنے سے قبل ہی ان کی مستقلی کا قدم اٹھانا چاہئے تھا مگر حکومت نے توجہ نہیں دی اب وہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرکے ان کے مسائل حل کرے۔ ثناء بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ براہوئی زبان کے معروف شاعر اسحاق سوز کی بیماری کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اسحاق سوز کو براہوئی کا مرزا غالب کہا جاتا ہے 2019ء میں انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا مگر ان دنوں وہ بیمار ہیں اور کراچی کے جس ہسپتال میں وہ زیر علاج تھے گزشتہ روز ہسپتال نے فیس نہ ہونے کی بناء پر انہیں ہسپتال سے نکال دیا ہے ایک شاعر مسلم حمل بھی بیمار ہیں انہوں نے کہا کہ فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کے لئے حکومت ہر سال پیسے مختص کرتی ہے جبکہ کورونا کی صورتحال میں الگ سے بھی پیسے رکھے گئے ہیں فنکار ادیب اور شاعر ہمارا اثاثہ ہیں حکومت اسحاق سوز اور مسلم حمل کے علاج معالجے اور مالی مدد کے لئے رقم فراہم کرے۔ پوائنٹ آف آرڈر پر پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے بھی ینگ نرسز کے جاری احتجاج پر تشویش کااظہار کیا اور کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے قوانین کے تحت نرسز کی جتنی تعداد ہونی چاہئے ہمارے صوبے میں اس سے کئی گنا کم تعداد ہے ہمارے صوبے کو 10ہزار نرسز کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت صوبے میں صرف ساڑھے نو سو میل فیمیل نرسز کام کررہے ہیں نرسز کا احتجاج ختم کراتے ہوئے انہیں مستقل کیا جائے اور مزید میل فی میل نرسز بھرتی کئے جائیں۔ نصراللہ زیرئے نے کوئٹہ شہر میں قلت آب کے مسئلے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ واسا اہلکار تنخواہیں اور پنشن نہ ملنے کے خلاف احتجاج پر ہیں انہوں نے کام چھوڑ دیا ہے اور شہریوں کو واٹر سپلائی معطل ہوگئی ہے واسا اہلکاروں کا احتجاج ختم کرانے، ان کے مطالبات کی منظوری اورشہرکو پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے ڈپٹی سپیکر کی توجہ آفیشل گیلری کی جانب متوجہ کراتے ہوئے کہا کہ آج یہاں اتنے اہم مسائل پر بات ہورہی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ نہ تو چیف سیکرٹری اور نہ ہی آئی جی پولیس ایوان میں موجود ہیں حتیٰ کہ دیگر سیکرٹریز بھی موجود نہیں ڈپٹی سپیکر اس حوالے سے رولنگ دیں۔اختر حسین لانگو کا کہنا تھا کہ سابقہ ادوار میں شعیب سڈل، چوہدری محمد

یعقوب، معظم جاہ انصاری بطور آئی جی بلوچستان اسمبلی کے اجلاسوں میں مسلسل شریک ہوتے رہے مگر اب نہ تو آئی جی اور نہ ہی چیف سیکرٹری اور دیگر سیکرٹریز ایوان کو اہمیت دیتے ہیں انہیں اجلاسوں میں شرکت کا پابند بنایا جائے۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بھی اختر حسین لانگو کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو اجلاسوں میں اپنی موجودگی یقینی بنانی چاہئے بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے الگ الگ رولنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ چیف سیکرٹری کو مراسلہ بھیجیں کہ اسمبلی کے اجلاسوں میں افسران او رسیکرٹریز کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ ایک مراسلہ سیکرٹری صحت کو نرسز کے جاری احتجاج سے متعلق بھیجا جائے کہ محکمے نے اس حوالے سے اب تک کیااقدامات اٹھائے ہیں او رکیا حکمت عملی مرتب کی ہے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ ایوان کو فراہم کی جائے۔اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نکات پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ ہم اکثروبیشتر اسمبلی کے ایوان کے مقدس ہونے کی بات سنتے رہتے ہیں مگر اسمبلی کا ایوان ان اقوام کے لئے مقدس ہوتا ہے جو جمہوریت، پارلیمان، روایات اور اقدار کی پاسداری کرتے ہیں ہمیں تو ا س ایوان کی وقعت کا اندازہ18جون کو ہوا جب بکتر بند گاڑیوں سے اس ایوان کے اراکین کو کچلنے کی کوشش کی گئی اس دن اگر اس ایوان کا کوئی معزز رکن شہید ہوجاتا تو کون اس کا ذمہ دار ہوتا اپوزیشن اراکین کو کچلنے کی کوشش کی گئی تین اراکین زخمی ہوئے ایک رکن آج بھی اسلام آباد میں زیر علاج ہیں جو واقعات پیش آئے ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ اب اسلام آباد تک قانون حرکت میں آجائے گا مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ جن اراکین کو روندھنے کی کوشش کی گئی انہی اراکین پر مقدمہ قائم کیا جائے گا اوراراکین چودہ دن تک تھانے میں رہنے پر مجبور ہوں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فقط یہ تھا کہ حکومت بجٹ سے قبل اس ایوان میں پری بجٹ بحث کرائے یہ قانون کا تقاضہ بھی ہے مگر جب ہم نے یہ مطالبہ کیا تو ہمیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی جب ہم خاموش نہیں ہوئے تو ہمیں بکتر بند گاڑیوں سے ڈرانے کی کوشش کی گئی اٹھارہ جون کو بکتر بند گاڑیوں سے گیٹ توڑ کربجٹ کی کاپیاں لائی گئیں اور اس کے بعد اپوزیشن کو تھانے میں رکھ کر اس بجٹ کی منظوری لی گئی ملک نصیر شاہوانی نے بجٹ کی منظوری پر حکومت کو مختلف شخصیات کی جانب سے دیئے گئے مبارکباد ی پیغامات کے اشتہارات کی کاپیاں ایوان میں لہراتے ہوئے کہا کہ مبارکبادیں دینے والے یہ لوگ بھی خزانے لوٹنے میں برابر کے شریک ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے ٹھیکیدار ڈھونڈے گئے ان سے معاملات طے کئے گئے اور پھر بعد سکیمات دی گئیں جس پر اب یہ لوگ وزیراعلیٰ کو مبارکباد دے رہے ہیں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ جنگ ختم ہوگئی ہے تو یہ ان کی بھول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے منہ سے دو سچ نکلے ہیں ایک سچ ان کے منہ سے جانے انجانے میں یہ نکلا کہ ہمیں بھی بجٹ پیش ہونے سے تین چار گھنٹے قبل بجٹ ملا دوسرا سچ انہوں نے گزشتہ روز بولا ہے جو آج اخبارات میں شائع ہوا ہے وزیراعلیٰ صاحب کہتے ہیں کہ بلوچستان میں اگر سعودی عرب کا بجٹ بھی لا کر لگائیں تو یہ ضائع ہوجائے گا ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ یہی بات تو ہم کہتے رہے ہیں کہ بجٹ کرپشن کی نذر ہورہا ہے آج وزیراعلیٰ صاحب نے اس کا اعتراف کرلیا ہے۔ انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں پانی اور بجلی دو وزیراعلیٰ صاحب کہتے ہیں کہ ہم آپ کے لئے سٹیڈیم بنائیں گے۔ 70کروڑ کی لاگت سے پارک اور سٹیڈیم شامل کئے گئے میاں غنڈی میں دو کالجز بنائے جارہے ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ کالجز نہ بنائیں

لیکن جہاں ضرورت ہے وہاں بنائیں آپ آجائیں ہم آپ کو سریاب ہی میں بتائیں گے کہ کہاں کہاں کالج کی ضرورت ہے مگر آپ نے میاں غنڈی کا انتخاب کیا ہے جبکہ میاں غنڈی میں آبادی قلیل ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مڈل سکول کو اس بناء پر ہائی کا درجہ نہیں دیا گیا کہ وہاں صرف بیس طالبات زیر تعلیم تھیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے 80لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں شہر میں ساڑھے تین سو ٹیوب ویل نہیں چلائے جارہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بجٹ کا خاطرخواہ حصہ کوئٹہ اور بلوچستان کے لوگوں کو پانی کی فراہمی کے لئے رکھا جاتا پانی بجلی صحت جیسے شعبوں کے لئے زیادہ وسائل رکھنے چاہئے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا اپنے لوگوں کو نوازنے کے لئے اربوں روپے رکھے گئے اور اصل عوامی مسائل پر توجہ ہی نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ امسال سیزن میں چار مرتبہ بلوچستان کے زمینداروں کی کی بجلی عدم ادائیگی پر منقطع کی گئی ہے حکومت نے چالیس ارب روپے لیپس کئے مگر پانچ ارب روپے کیسکو کو ادا نہیں کئے۔ا نہوں نے کہا کہ یہ حکومت نہ تو سیاسی ہے نہ جمہوری ہے حکومت از سرنو بجٹ بنا کر اس ایوان میں لائے اور پھر اس کی منظوری لے۔جے یوآئی کے سید عزیز اللہ آغا نے کہا کہ اٹھارہ جون کو جو کچھ ہوا وہ بلوچستان اور ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ا س دن عوامی مینڈیٹ لے کر آنے والے عوامی نمائندو ں کو بکتر بند گاڑیوں سے کچلنے کی کوشش کی گئی پندرہ جون کو اپوزیشن اراکین نے اپنے جائز آئینی اور قانونی مطالبات کے لئے اسمبلی کے باہر احتجاج شروع کیا اس سے پہلے اس ایوان میں ہم نے بار بار یہی مطالبات دہرائے مگر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی اس کے بعد اٹھارہ جون کو آپ نے بجٹ بہر صورت پیش کرنے کا فیصلہ کیا جب آپ نے دیکھا کہ عوام راستے میں بیٹھے ہیں تو آپ نے طاقت کا استعمال کیا بکتری بند پگڑیاں لائی جاتی ہیں گیٹ توڑے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے خاتون رکن شکیلہ نویدد ہوار، بابو رحیم مینگل اور عبدالواحد صدیقی کو چوٹیں لگتی ہیں اس دن چشم فلک نے یہ دیکھا کہ عبدالواحد صدیقی کی پگڑی زمین پر گر گئی اور ان کا ہاتھ فریکچر ہوگیاہے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لئے روڈ پر بیٹھے تھے اور انتہائی سولائزڈ طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرارہے تھے ہم ان لوگوں کو جانتے ہیں جو بکتر بند گاڑیوں سے ڈرتے ہیں ہمیں بکتر بند گاڑیوں سے نہ ڈرایا جائے نہ ہی ہم بکتر بند گاڑیوں سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر جمہوری غیر پارلیمانی طریقے سے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں بجٹ پاس تو کرالیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس بجٹ پر عملدرآمد کیسے کراتی ہے ہم بجٹ پر کسی صورت عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ بلوچستان کا قیمتی اثاثہ تھے انہوں نے ایوان بالا میں صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے محکوم اور مظلوم عوام کی آواز بلند کی وہ اپنی ذات میں ایک تحریک تھے ان کی سوچ آج بھی برقرار ہے۔بی این پی کے رکن احمد نواز بلوچ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے تینوں بجٹ عوام دشمنی پر مبنی ہیں بجٹ میں میرے حلقے کی گنجان آبادی کو نظر انداز کرکے غیر منتخب افراد کو بجٹ سے نوازا گیا ہے میں نے حکومت سے کوئی سینما نہیں مانگا بلکہ تعلیمی ادارے مانگے ہیں حلقے میں 32سکول ایسے ہیں جو کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں ایسے سکول بھی ہیں جہاں چھاؤں نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سیمنٹ اور سریئے کے منصوبے رکھے گئے ہیں ہم عوام کی طاقت سے سیمنٹ او رسریا حکومت کا مقابلہ سیاسی میدان میں کریں گے انہوں نے کہا کہ18جون کو بجٹ اجلاس کے موقع پر بکتر بند گاڑیاں اسمبلی کو روندھتے ہوئے اندر داخل کی گئیں جس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے جان بوجھ کر حالات خراب کئے گئے ارکان اسمبلی پر آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے حکم پر یہ سب ہوا اسے معافی مانگنی پڑے گی صوبے میں بادشاہت نہیں چلنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف تو منٹوں میں ایف آئی آر درج کی گئی مگر جنہوں نے ارکان اسمبلی پر لاٹھیاں برسائیں اور انہیں زخمی کیا ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جارہا اس حوالے سے ہم عدالت میں گئے ہیں اور وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے دیئے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرکے لاپتہ افراد کو ان کے پیاروں سے ملائیں اور جن پر الزامات ہیں ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں ہم سیاست نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے چھ نکات میں پہلا نکتہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا ہے ہم تاریخ میں سرخرو ہوں گے انہوں نے کہا کہ 2سو ارب روپے لیپس کرنے کی بجائے اگر یہ رقم قومی شاہراہوں کو دورویہ کرنے پر لگائی جاتی تو آج حادثات نہ ہوتے۔ جمعیت علماء اسلام کے اقلیتی رکن مکھی شام لعل نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی کو قتل کرنے کی سازش کی گئی رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی آج بھی زیر علاج ہیں انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے احاطے میں جو کچھ ہوا وہ عوامی رد عمل تھا وزیراعلیٰ خود کہہ رہے ہیں کہ بجٹ کا انہیں بھی علم نہیں تھا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ہنگلاج ماتامندر پر خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے ہمیں رقم خرچ کرنے پر اعتراض نہیں مگر ہنگلاج ماتا مندر کی آڑ میں کرپشن کی جارہی ہے ایک سڑک کے لئے چار سے پانچ ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی نے فنڈز دیئے ہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ایک ہی سڑک کے لئے بار بار کیوں رقم رکھی جاتی ہے ٹینڈر میں بندر بانٹ کیا گیا ہے ہنگلاج ماتا کی اراضی الاٹ نہیں کی جارہی جبکہ حکومت نے اطراف میں ہزاروں ایکڑ اپنے نام الاٹ کرائے ہیں انہوں نے کہا کہ شمشان گھاٹ کی اراضی کی الاٹمنٹ کے لئے ہم نے متعدد مرتبہ حکومت سے رجوع کیا مگر اراضی الاٹ نہیں کی جارہی کیونکہ وہاں مکھی شام لعل کے نام کی تختی لگے گی مجھے تختی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے خلاف ہمارا احتجاج جاری رہے گا توپ بھی لائی جائے تو پہلے میں اس کا سامنا کروں گا انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ چھ بار وزراء اپوزیشن اراکین سے مذاکرات کے لئے تھانے گئے وہ وہاں بیٹھ کر ایک بات کرتے اور باہر جا کر دوسری بات کرتے تھے ان کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا۔جے یوآئی کے اصغر علی ترین نے کہا کہ اپوزیشن اراکین نے اسمبلی کے باہر احتجاج کیا کسی وزیر نے آنے کی زحمت نہیں کی 23حلقوں کو نظر انداز کرنے کے خلاف فیصلہ کیا کہ بجٹ کو پاس نہیں ہونے دیا جائے گا اگر ہماری پگڑی اچھالی جائے گی تو ہم حکومت کی پگڑی بھی اچھالیں گے ایس ایس پی آپریشنز سے کسی نے نہیں پوچھا کہ انہوں نے ارکان اسمبلی پر کیوں گاڑ ی چڑھائی آج حکومت جو بجٹ پیش کررہی ہے وہ ماضی میں نواب اسلم رئیسانی اور مولانا عبدالواسع کے احتجاج کی مرہون منت ہے انہوں نے کہا کہ بارڈر علاقوں میں زراعت پر 13ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں زراعت تباہی کے دہانے پر ہے اگر حکومت بجٹ سے پہلے پری بجٹ اجلاس بلاتی اور ہماری تجاویز لیتی تو توڑ پھوڑ تماشہ نہیں ہوتا۔ حکومت جب اپنے مفادات کے لئے ہمارے مخالفین کو حلقے میں نوازے گی تو اس سے جنگ اور لڑائی کی کیفیت پیدا ہوگی انہوں نے کہا کہ ایک بااختیار کمیٹی بنائی جائے جو بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مشیر جو انہیں مشورے دیتے ہیں وہ عوام دشمن ہیں مقامی افسران کو نظر انداز کرکے غیر مقامی افسران کو اہم پوسٹوں پر تعینات کیاگیا ہے جو صوبے کی روایات کو کچل رہے ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن چیئر مین پی اے سی اختر حسین لانگو نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو موجود ہونا چاہئے تھا لیکن وہ موجود نہیں ہیں ہم خالی کرسیوں سے خطاب کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ عثمان لالا کے جنازے میں بلوچستان کی عوام نے مقتدرہ حلقوں کی تمام پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے اصغرخان اچکزئی کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس کرتے وہ بتائیں کہ انہوں نے اپنا نظریہ کتنے ٹکوں کے عیوض چھوڑا اور حکومتی نااہلی پر خاموشی اختیار کی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال ابتر ہے بجٹ کو ریوڑیوں کی طرح بانٹا جارہا ہے جو لوگ جے آئی ٹی میں نامزد ہیں انہیں اربوں روپے کے منصوبے دیئے گئے ہیں تاکہ انہیں کمیشن کرپشن اور فج کرلیا جائے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سڑکیں بند کرکے گوادر کا دورہ کیا ماہی گیروں کو سمندر میں نہیں جانے دیا گیا جب حقیقی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا
کر گملوں میں سیاسی جماعتیں بنائی جائیں گی تو صوبے کو حقیقی وارث اور قیادت نہیں مل سکتی انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ماسٹر پلان کے نام پر لوٹ مار کی جائے گی ماضی میں بھی سابق کمشنر نے اربوں روپے خرچ کئے مگر اس کے نتائج نظر نہیں آئے چالیس کروڑ روپے خرچ کرکے پکنک پوائنٹس منانے کی کیا ضرورت ہے جب شہر میں عوام ٹینکر مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہیں انہی پیسوں سے شہر میں ٹیوب ویل لگائے جاسکتے تھے انہوں نے کہا کہ بی این پی عوام کے حقوق اور پیسوں کو مزید کرپشن کا شکار نہیں ہونے دی گی ہم ہر سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ نے اپوزیشن اراکین کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ 18جون کو بھی ہم نے کہا تھا کہ انہیں ایوان میں آکر بات کرنی چاہئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے ایوان کی رونق ہے ہم مل کر صوبے کو بہتر طریقے سے آگے لیجا سکتے ہیں بعدازاں اجلاس پیر چار بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں