بلوچستان کی تقسیم کے لیے ساؤتھ بلوچستان کی اصطلاح کو استعمال کیا جارہاہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ :نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل 300 بیڈز پر مشتمل ہسپتال جو سرکاری اصطلاح کے مطابق ساتھ بلوچستان کے لیے شامل ہے۔اور صوبائی حکومت وفاقی پی ایس ڈی پی کے اس ہسپتال کے منصوبے کو صوبائی پی ایس ڈی پی کے منظور اور ٹینڈر شدہ ہسپتال کی جگہ تعمیر کرنے کے منصوبہ بنانے جارہی تاکہ دو میں سے ایک کی تعمیر ہو اور دوسری کو کرپشن کی نذر کیجائے۔ جس کو نیشنل پارٹی کسی صورت نہیں ہونے دے گی۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں انسرجنسی زلزلہ کیوجہ سے ضلع آواران شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔تعلیم و صحت کے شعبے بھی بھرپور متاثر ہیں۔آواران غربت اور پسماندگی کا عملی نمونہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی نے روز اول سے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی تقسیم کے لیے ساوتھ بلوچستان کی اصطلاح کو استعمال کیا جارہاہے جس کو نیشنل پارٹی مکمل طور مسترد کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ خضدار کیلیے 300 بیڈز پر مشتمل ہسپتال جو صوبائی پی ایس ڈی پی میں تھا اور مارچ 2018 میں ٹینڈر بھی ہو چکا ہے لیکن افسوس ہے کہ تاحال اسکی تعمیر کو روکا گیا ہے۔ لیکن اب سلیکٹڈڈ صوبائی حکومت کے وزیراعلی اور بیوروکریسی وفاقی پی ایس ڈی پی کے 300 بیڈز پر مشتمل ہسپتال کو صوبائی پی ایس ڈی پی اور ٹینڈر شدہ ہسپتال کی جگہ تعمیر کرنے کی سازش و کوشش کررہی ہے۔جسکی نیشنل پارٹی مذمت کرتی ہیبیان میں کہا گیا کہ فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل 300 بیڈز پر مشتمل ہسپتال کو آواران کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے آواران میں تعمیر کیجائے۔اور صوبائی پی ایس ڈی پی کے منظور و ٹینڈر شدہ اسکیم کے تعمیر کا آغاز خضدار میں کیا جائے تاکہ دونوں اضلاع میں صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہو۔بیان میں کہا گیا کہ خضدرا میڈیکل کالج کے کام کے عمل کو شروع کیا جائے اور طلبا کو بہترین درسگاہ فراہم کرنے میں اقدامات کیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں