بی ایس او کا جامعہ بلوچستان میں شمولیتی پروگرام منعقد، سیاسی صورتحال پر اظہار خیال

بی ایس او یو او بی یونٹ میں یونٹ کے زیر صدارت اجلاس اور شمولیتی پروگرام منعقد، سیاسی صورتحال پر اظہار خیال۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ بلوچستان یونٹ کا یو ایس او یو او بی سرکل میں یونٹ آرگنائزر عاطف رودینی بلوچ کے زیر صدارت اجلاس اور شمولیتی پروگرام منعقد ہوا جس میں مہمان خاص بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ عظیم بلوچ اور اعزازی مہمانان بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر ریاض بلوچ اور آغا عدنان شاہ تھے۔

اجلاس میں بی ایس او یو او بی یونٹ کے ڈپٹی آرگنائزر تہذیب بلوچ کمیٹی کے ممبر ثناء اللہ گولہ، سابق ڈپٹی آرگنائزر شال زون نزیر بلوچ سمیت دیگر طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

مقررین نے بلوچستان کے سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حکمرانوں نے ہمیشہ بلوچستان کو سونے کی چڑیا سمجھ کر لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہے جبکہ بلوچستان کے بیش بہا قیمتی ساحل و وسائل کے مالک بلوچیستان کے باسی تعلیم، صحت، روزگار و زندگی کے دوسرے بنیادی سہولیات کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ بلوچستان سی پیک کے مرکز گوادر کے باسی بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ آج بھی گوادر، نصیر آباد کوہ سلیمان رخشان اور بلوچستان کے دیگر ڈویژن میں یونیورسٹی میڈیکل کالج گرلز کالجز کی قلت جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات اس وقت کئی مسائل کا شکار ہیں جامعہ بلوچستان عدم توجہی کی وجہ سے سواہ ارب کی خصارے پر ہے جس سے ادارے میں کرپشن بدعنوانی میں اضافہ ہو رہا تعلیمی ادارہ تعلیمی ادارے کے بجائے کاروکاری مرکز بن چکا ہے تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ بلوچستان کے مختلف جامعات سے سالانہ ہزاروں نوجوان اپنے تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوتے ہیں لیکن حکومت انہیں نہ روزگار فراہم کرتی ہے نہ ہی ان نوجوانوں کو مستقبل کے معمار سمجھتی ہیں حکمرانوں کا ہمیشہ بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء اور طالبان و افغان حکومت کشیدگی سے بلوچستان کے سیاست  بہت گہرا اثرات مرتب ہونگے اور بلوچستان کی سرزمین ایک بار پھر دیگر ملکوں کے مفادات کے خاطر استعمال ہو سکتا ہے۔ جس سے بلوچستان کا امن بھائی چارہ تباہ ہو سکتا ہے بلوچستان میں پھر سے قتل غارت مذہبی انتہا پسندی فرقہ وارانہ کشیدگی اور دیگر مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی قیادت اور خاص کر نوجوانوں کو بلوچستان کے خاطر اپنی ذاتی مفادات کو قربان کرکے ایک جامع حکمت عملی کے تحت پالیسی بنا کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچ قوم پہلے سے کافی پسماندہ اور بہت سے مسائل کا شکار ہے سیاسی قیادت کی خلا، دانشور اور پالیسی میکرز کی کمی کو پر کرنے کیلئے نوجوانوں کو سیاسی شعور و پختگی سے لیس ہوکر خود کو تیار کرنا ہوگا۔

اجلاس کے اختتام پر بی ایس او کے کارواں میں انضمام بلوچ اور ڈاکٹر جاوید بلوچ کے قیادت میں شامل ہونے والے سیاسی کارکنان نے بی ایس او میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا اور مرکزی سیکرٹری نے بی ایس او کا کیپ پہنا کر انکو خوش آمدید کہا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ نئے شامل ہونے والے ممبران نے جامعہ بلوچستان یونٹ میں ممبر شپ فارم جمع کرکے ممبر شپ حاصل کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں