تربت،ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ تک نہیں،نیشنل پارٹی

حب :نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر سابق وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کیچ گوادر اور پنجگور میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2019 سے اس خطرناک وائرس کے آنے کے بعد سے ابھی تک مکران ڈویژن میں حکومت نے کوئی قابل اعتبار اور فعال لیبارٹری کے قیام سمیت کچھ بھی نہیں کیا تربت میں پورے ڈویژن کے لیے ایک لیب ہے اس میں سی بی سی مشینیں خراب ہیں تربت گوادر اور پنجگور کی ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ تک نہیں بنایا گیا سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے چیخنے چلانے کے باوجود حکومتی نمائندوں کے کانوں میں جو ں تک نہیں رینگی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس اور ویکسین کے بارے میں کوئی آگاہی مہم بھی نہیں شروع کی گئی ایسا لگتا ہے کہ مکران ڈویژن بلوچستان کا حصہ نہیں کوئی حکومتی شخص اس کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں حالانکہ ایک وفاقی وزیر ایک صوبائی وزیر ایک رکن اسمبلی کا تعلق تربت اور ایک وزیر پنجگور سے ہے اس سے افسوس ناک اور درد بھری
بات کیا ہوسکتی ہے کہ ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے اور سلیکٹڈ نمائندوں کو پرواہ نہیں کیونکہ ان کا تعلق عوام سے نہیں اور محکمہ صحت کے حکام صرف پریس کانفرنس تک محدود ہیں انہوں نے چیف سیکرٹری سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں لیبارٹریز کو فعال اور ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز قائم کرکے ایمرجنسی لگائیں اور اس موذی وائرس کے نقصانات اور ویکسین کی افادیت کے بارے میں ایک بھرپور مہم چلائی جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر پنجگور،تربت اور گوادر میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے لوگوں کو ماسک پہننے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کا پابند بنایا جائے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان لیوا وائرس نے دنیا کانظام تہس نہس کردیا لیکن ہمارے لوگ اسے اب بھی مذاق سمجھ رہے ہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ماسک پہنیں ایس اوپیز پر عمل کرکے خود کو اور اپنے پیاروں کو بچائیں اور ویکسین نیشن کرائیں اس کے کوئی نقصانات نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں