طالبان کے حق میں ریلی نکالنا ان کے حامیوں کا جمہوری حق ہے، ضیاء لانگو
کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہاہے کہ طالبان کے حق میں ریلی نکالنا ان کے حامیوں کا جمہوری حق ہے،دنیا بھر میں کشمیر اور فلسطین کے ہمدرد کشمیریوں اور فلسطینیوں کیلئے ریلی نکالتے ہیں بلوچستان کے بارڈرایریاز میں طالبان کے حامیوں نے افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کی خوشی میں ریلی نکالی تاہم اس میں کوئی ریاست مخالف عمل نہیں دیکھاگیا،بلوچستان میں موجود سیاسی جماعتیں طالبان کے حق میں باتیں کرتے ہیں،ناراض بلوچوں سے مذاکرات وزیراعظم نے نوابزادہ شاہ زین بگٹی کو ٹاسک دیاہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہاکہ پیسوں کی برآمدگی سے متعلق کوئی اطلاعات نہیں ہے،میں نے چمن کا دورہ کیاتھا جہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بارڈر پر قبضہ کیاتھا اور اپنا جھنڈا لہرایاتھا اور بارڈر کاکنٹرول حاصل کیا تھا،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نوابزدہ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی برائے بلوچستان مقرر کیاگیا،شاہ زین بگٹی دو دنوں سے کوئٹہ میں ہے جہاں ان کی مختلف شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور مزید ملاقاتیں بھی جاری ہے لیکن افغانستان کی سرزمین پر پچھلے 20سالوں سے دہشتگردی کے نام پر جنگ لڑی جارہی ہے تاہم افغان سرزمین ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی ہے کوئٹہ میں کچھ لوگوں نے ریلی نکالی تھی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کشمیر یا فلسطین کامسئلہ ہے تو ان کے ہمدرد دنیا بھر میں ریلی نکالتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے بارڈر ایریاز میں طالبان حامی لوگ موجود ہیں طالبان کے حامی لوگوں نے طالبان کی حکومت کی خوشی میں ریلی نکالی تاہم ریلی کے شرکاء کی جانب سے کوئی ریاست مخالف بات نہیں کی گئی کہ حکومت بلوچستان اس بابت کارروائی کریں،کسی کیلئے اخلاقی طورپر ریلی نکالنا جمہوری حق ہے میرضیاء اللہ لانگو نے کہاکہ ریلی کے شرکاء عام عوام تھی جو افغانستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں جن کے کچھ رشتہ دار افغانستان میں ہے بلوچستان میں ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جو طالبان کے حق میں باتیں کرتی ہیں یہ ان کا جمہوری حق ہے اسی طرح بارڈر ایریاز میں طالبان کے حامی لوگ رہتے ہیں انہوں نے طالبان کے حق میں ریلی نکالی اور انہوں نے کوئی دہشتگردانہ عمل نہیں کیا اور نہ ہی ریاست کے خلاف کوئی غیر جمہوری اقدام اٹھایاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔طالبان کا اسپن بولدک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہماری فورسز الرٹ ہیں حکومت کی جانب سے اضافی نفری چمن بارڈر پر بھجوا دی گئی ہے،ہم ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں افغانستان میں تبدیلی آرہی ہے جو انکا اندرونی معاملہ ہے،امید ہے ماضی کی طرح اب بھارت کے زرئع افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو،ہمیں دعا گو ہیں کہ نئی تبدیلیاں دونوں ممالک کے لئے خوشگوار ہوں۔


