بلوچستان کی معدنیات کسی کو لوٹنے نہیں دیں گے مولانا عبدالواسع

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کے ذریعے بلوچستان کو سنبھالنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے عوام کے حقوق کھڑی تھی ہے اور رہے گی،صوبے کے جمہوری اور حقیقی والی وارث سلیکٹڈ کا خاتمہ کرکے صوبے کو ترقی دیں گے، بلوچستان کی معدنیات کا خزانہ کسی کو لوٹنے نہیں دیں گے جمعیت علماء اسلام کو این ایف سی ایوارڈ اور ریکوڈک پر کھڑے رہنے کی وجہ سے حکومت میں نہیں آنے دیا گیا، مستقبل میں ہماری حکومت بنی تو این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کروا کر صوبے کا بجٹ 1500ارب تک لیکر جائیں گے۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ کے سابق فوکل پرسن عظیم خان کاکڑ کی اپنے ساتھیوں وطن دوست موومنٹ کو جمعیت علماء اسلام میں ضم اور شمولیت کرنے کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی مولانا کمال الدین، ارکان صوبائی اسمبلی عبدالواحد صدیقی، حاجی نواز کاکڑسابق اسپیکر مطیع اللہ آغا، عین اللہ شمس، عزیز اللہ حنفی، بشیر احمد کاکڑ، غنی شہزاد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ بلوچستان کی سرزمین،وسائل کی حفاظت، عوام کے حقوق اور حق ملکیت پر بات کی ہے یہی وجہ ہے کہ آج متحرک، پڑھے لکھے نوجوان پارٹی میں شمولیت کر کے ہمارے مشن کا حصہ بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق پر یہاں کی عوام کے حق، احساس محرومی کے خاتمے کے لئے صوبے کے رقبے، پسماندگی، غربت کے لحاظ سے وفاقی وسائل کی ترسیل کا فارمولہ جمعیت علماء اسلام نے پیش کیا جس کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو اسکا حصہ ملا جمعیت علماء اسلام نے تجویز دی تھی کہ این ایف سی ایوارڈ کا 50فیصد حصہ آبادی جبکہ دیگر 50فیصد حصہ پسماندگی، ٹیکس کلیکشن، منتشر آبادی سمیت دیگر نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے تقسیم کیا جائے اس وقت ہمارے بات کا 20فیصد تسلیم کیا گیا جس کی وجہ سے بلوچستان کا 80ارب روپے کا بجٹ آج 600ارب روپے تک پہنچا ہے اگر ہماری بات مکمل مان لی جاتی تو بلوچستان کا بجٹ 1500ارب روپے تک ہوتا۔انہوں نے کہا کہ آج جمعیت علماء اسلام کے فارمولے کی صوبے کی قوم پرست اور سیکولر جماعتیں بھی تائید کرتی ہیں ہم نے صوبے کی 75سالہ محرومی کے خاتمے کی بنیاد رکھی لیکن وفاق سے اپنے حقوق حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے جن قوتوں سے ہم نے این ایف سی ایوارڈ حاصل کیا تھا نہوں نے 2013اور 2018کے انتخابات کے بعد ہمیں حکومت بنانے نہیں دی ہماری حکومت کو ہزارہ برداری کے قتل کا بہانہ بنا کر گورنرراج کے ذریعے ہٹایا گیا جمعیت علماء اسلام کو ریکوڈک کیس سپریم کورٹ اور عالمی عدالت میں لیکر جانے اور کامیاب ہونے کی بھی سزادی گئی ہم نے واضح کیا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد ریکوڈک کا معاہد ہ ہا تو نئے سرے سے کیا جائے یاپھر کمپنی صوبے کو اسکاجائز حق بات چیت کے ذریعے دے جس پرہماری حکومت نے کمپنی کو لائسنس بھی جاری نہیں کیا مگر کچھ قوتیں یہ نہیں چاہتی تھیں اور انہی کی ملی بھگت سے سلیکٹڈ اور نااہل حکومت کے ذریعے عالمی عدالت میں اس کیس کو ہروایا گیا تاکہ ہرجانے کی رقم کے عیوض ایک بار پھر سے ریکوڈک اسی کمپنی کے حوالے کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان اسمبلی نے بجٹ پر احتجاج اس لئے کیا تاکہ یہ بجٹ غیر منتخب افراد کے ذریعے کسی کی جیبوں میں جانے کی بجائے عوام پر خرچ کیا جائے لیکن ہمارے ارکان کو شہید کرنے کی کوشش کی گئی جس میں عبدالواحد صدیقی زخمی ہوئے جمعیت علماء اسلام کے ارکان اسمبلی نے عہد کیا تھا کہ چاہے آخری رکن بھی کیوں نہ زندہ رہ جائے ہم صوبے کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے اور انکے راستے میں رکاوٹ بنے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے اپنے دور حکومت میں کیڈٹ کالجز کی تعداد 14، یونیورسٹیز کی تعد اد 6کی میڈیکل، ڈگری، گرلز کالجز بنوائے ہمارا آدھا بجٹ ترقیاتی مد میں خرچ ہوتا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اب تک 200ارب روپے لیپس کر کے وفاق کے حوالے کردئیے تاکہ این ایف سی سے جو پیسہ ہم لائے تھے وہ وفاق کو واپس ہو جائے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دہشتگردی سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے صوبوں کو اپنے وسائل پر اختیار مل گیا ہے ہم نے عزم کیا ہے کہ بلوچستان کے حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ہماری حکومت بنی تو سب سے پہلے نئے این ایف سی ایوارڈ کا انعقاد یقینی بنا کرصوبے کا بجٹ 1500ارب تک لیکر جائیں گے ریکوڈک پر دوبارہ عالمی عدالت میں لڑیں گے اوربلوچستان کا خزانہ کسی کو نہیں دیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے بلوچستان سنبھل نہیں سکا اب کوئی جمعیت علماء اسلام کے راستے نہیں آسکے گا انہوں نے کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی ہمارے لئے محترم اور جمعیت علماء اسلام کے اکابرین میں سے ہیں انکے خلاف نہ کبھی ماضی میں کچھ کہا نہ اب اورنہ ہی مستقبل میں کچھ کہونگا البتہ جمعیت علماء اسلام ڈسپلن کی پابند جماعت ہے جماعت میں نظم پر مولانا فضل الرحمن بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد سابق صوبائی وزیر امان اللہ نوتیزئی سمیت بلوچ و پشتون علاقوں کی اہم شخصیات جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کریں گی اس موقع پر عظیم خان کاکڑ نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں علماء کرام اور جمعیت علماء اسلام کا اہم کردار رہا ہے مولانا عبدالواسع نے برشور کی تاریخ میں سب سے بڑے منصوبے دیکر ثابت کیا کہ وہ صوبے کے حقیقی ثپوت ہیں وہ جمعیت علماء اسلا م کا رکن بن کر مشکل حالات میں پارٹی کو آگے لیکر جانے کیلئے اپنی صلاحتیں بروئے کار لائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں