ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال مستونگ میں رات کے اوقات میں لیڈی ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث لیبر روم کو تالہ لگا دیا جاتا ہے،عوامی حلقوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ

مستونگ:ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال مستونگ میں رات کے اوقات میں لیڈی ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث لیبر روم کو تالہ لگا دیا جاتا ہے جبکہ شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال میں نائٹ شفٹ میں ڈیلیوری کے سیریس کیسز کے آپریشنز کی بندش سے لوگوں کو سخت تکلیف اور مشکلات کا سامنا ہے عدم سہولیات کے باعث دوران زچگی خواتین کو کوئٹہ منتقل کرنے کی کشمکش میں اکثر اوقات خواتین راستے میں ہی موت کی لقمہ اجل کا شکاربن جاتی ہے عوامی حلقوں کا سیکریٹری صحت اور ڈی سی مستونگ سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق ضلع مستونگ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں خواتین کی ڈیلوری کیسز کے لیے بنائے گئے لیبر رومز میں لاکھوں روپے کی جرائی آلات و تمام تر سہولیات کی دستیابی کے باجود
ضلع مستونگ کے لگ بھگ 3 لاکھ آبادی رکھنے والی ضلع کے خواتین اس انتہائی حساس نوعیت کے موقع پر مزکورہ سہولیات کی استفادہ سے محروم ہے واضع رہے کہ اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال مستونگ میں 6 لیڈی میڈیکل آفیسرز پوسٹڈ ہے لیکن اسکے باوجود رات 8 سے لے کر صبح آٹھ بجے تک ہسپتال کے گائنی وارڈ کو تالہ لگا دیا جاتاہے جس سے عام اور غریب مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ پوچھنے والا کوئی ہے جبکہ شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال میں تعینات گائنالوجسٹ ڈاکٹرز کو ماہانہ 5, 5 لاکھ روپے کی بھاری بھرکم تنخواہ دینے کے باوجودجہاں ڈیلوری کیسز کے سلسلے میں دن کے اوقات میں سیریس مریضوں کو آپریشن تو کیا جاتا ہے لیکن رات کے اوقات کار میں وہاں صرف نارمل کیسز کو ڈیل تو کی جاتی ہے جبکہ ڈاکٹرز کی عدم موجودگی کے باعث سیریس کیسز کے خواتین کو فوری کوئٹہ ریفر کرنے کی مشورہ دی جاتی ہے جوکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کے مترادف اقدام ہے۔۔واضع رہے کہ رات کے اوقات میں مستونگ شہر اور خصوصا دور افتادہ علاقوں سے جب بھی لوگ ڈلیوری کیسز کے خواتین کو ایمرجینسی حالت میں بمشکل سے ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچائی جاتی ہے لیکن وہاں لیبر روم کو تالہ لگا ہوا دیکھ کر شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے اگر نارمل کیس ہوا تو وہاں کے گائنی عملے اٹینڈ کرتے ہے اگر سریز کیس ہوا تو لوگ آپریشن کے غرض سے مجبورا فوری طور پر کوئٹہ لے جانے کی کوشش کرتے ہے۔مستونگ سے کوئٹہ تک طویل مسافت اور شاہراوں پر شدید ٹریفک کی وجہ سے اکثر زچگی کے سیریس مریض کوئٹہ پہنچنے کی کشمکش میں راستے میں ہی متاثرہ خواتین بچے سمیت راستے میں ہی موت کی لقمہ اجل کا شکار ہو جاتی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے محکمہ صحت کے حکام بالا اور ڈپٹی کمشنر مستونگ اس حساس نوعیت کے انسانی مسلے کی حل پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے نائٹ شفٹ میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے لیبر روم کو مکمل فنگشنل بنانے کے ساتھ ساتھ شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال میں رات کے اوقات میں بھی زچگی کی سیریس مریضوں کی
آپریشنز کو شروع کروانے کے لئے اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات حل ہونے کے ساتھ قیمتی انسانی جانوں کی ضیاع کو بھی روکا جا سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں