مستونگ میں بھی پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا
مستونگ:پینے کے پانی کے بحران نے شدت اختیار کرگیا،گزشتہ کئی روز سے سٹی و گردونواح کے میں واٹرس سپلائی نہ ہونے سے پینے کا پانی ناپید ہوگیاعوام کو سخت گرمی میں پانی کے حصول میں سخت ازیت کا سامنا،محکمہ پی ایچ ای سٹی کے عوام کو پانی کے سپلائی میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں،کروڑوں روپے کے خطیر رقم سے لگائے گئے واٹرسپلائی ٹیوب ویلوں خصوصا سولر انرجی سسٹم کے ٹیوب ویلوں سے بھی عوام کو سہولت نہ مل سکی،گزشتہ مہینوں ڈپٹی کمشنر کے دورے سے چند روز پانی کی فراہم بہتر رہی مگر اس کے بعد حسب سابق پی ایچ ای کے حکام کی غفلط و لاپروائی کی وجہ سے عوام پانی کے حصول کیلئے یا تو ٹینکر مافیاں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہے یا بالٹیاں و ڈبے لے کر در در کی ٹوکرے کھانے پر مجبور ہوگئے۔جب کہ واٹرسپلائی اسکیمات سے زمینداری کی جارہی ہیں۔مستونگ کے عوام پر نااہل پی ایچ ای حکام کو مسلط کیاگیا۔وزیر اعلی بلوچستان اور سیکرٹری پی ایچ ای نوٹس لیں۔رپورٹ کے مطابق مستونگ شہر و گردونواح میں قلت آب کا مسلہ شدت اختیار کر گیا، شہر کے بیشتر واٹرسپلائی ٹیوب ویلز کے خرابی کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کئی دنوں سے پانی ناپید۔ٹینکر مافیا کی چاندنی ہوگئی،سخت گرمی میں شہر کربلا کا منظر پیش کررہاہیں گزشتہ کئی دنوں سے محکمہ پی ایچ ای کی غفلت و نااہلی کی وجہ سے واٹر سپلائی ٹیوب ویلوں کی خرابی بجلی بل کا بہانہ،، آماچ کے بیشتر آبنوشی ٹیوب ویلز بند ہوگئے ہیں جسکی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں پینے کا پانی بلکل نا پید ہو چکا ہے جسکی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے محکمہ پی ایچ ای کے نااہل اور کرپشن زدہ حکام کی نااہلی و نالائقی کی وجہ سیسخت گرمی میں پانی کے ایک ایک بوند کو ترسنے لگے پی ایچ ای اور ٹینکر مافیاں کی گٹ جوڑ عوام مہنگے داموں پانی خریدنیپر مجبور ہوچکے ہیں نااہل پی ایچ ای ایکسئن ایس ڈی او سمیت دیگر زمہ دار حکام کی نااہلی اور کرپشن کو دوام دینے کیلئے ہر مہینہ میں کبھی بجلی کے بل تو کبھی مشنری کی خرابی کے نام پر دس دس روز شہر کے عوام پر پانی بند کردی جاتی ہیں،جبکہ مشنری کے خرابی دور کرنے کیلئے ٹیھکیدار بھی محکمے کا ملازم ہے جو کرپشن کا زریعہ بنا ہوا ہیں اور۔شہر میں عوام پینے کے پانی سے محروم در در سرگردان گومتے ہیں۔مگر یہ نااہل حکام ٹھس سے مس نہیں ہوتے۔شہر کو پانی سپلائی کرنے کیلئے آماچ میں کروڑوں روپے کے خطیر روم سے متعدد سولرسسٹم کے واٹرسپلائی لگائے گئے مگر کرپشن و کمیشن کی وجہ سے ان واٹرسپلائی اسکیمات سے بھی عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکازمین مالکان کو زمین کی روقم نہ دینے کی وجہ سے عوام رل رہے ہیں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ تالابوں اور جوہڑوں کی مضہر صحت پانی پینے پر مجبور ہے جس سے مختلف مہلک امراض میں مبتلا ہونے لگے ہے۔پانی کے اس بحرانی کیفیت سے ٹینکر مافیا کی بھی چاندنی لگ گئی ہے منہ مانگے قیمتیں وصول کر رہے ہے اور بیشتر شہری استطاعت نہ رکھنے والے دن بھر پانی کی حصول کے لیئے بالٹی ہاتھ میں لے کر گلی کوچوں میں سرگرداں نظر آتے ہیں ایکسین محکمہ پی ایچ ای کی غفلت و نااہلی کی سزا غریب عوام بھگت رہے ہیں علاقے کے عوامی و سماجی سیاسی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان سیکرٹری پی ایچ ای ڈپٹی کمشنر مستونگ اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مستونگ شہر میں قلت آب کا نوٹس لیکر شہر میں پانی کی سپلائی یقینی بنائی جائے۔


