اگر میرے کارکنوں کے خلاف سیاسی انتقام کا سلسلہ بند نہ ہوا تو میں آزاد کشمیر میں خود احتجاج کی سربراہی کروں گا،سربراہ پیپلز پارٹی

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں پی پی پی رہنما چوہدری یاسین اور ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلانہ حملہ چوہدری یاسین پر ہوا اور پولیس نے حملہ آوروں پر مقدمہ درج کرنے کے بجائے الٹا چوہدری یاسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی، اگر میرے کارکنوں کے خلاف سیاسی انتقام کا سلسلہ بند نہ ہوا تو میں آزاد کشمیر میں خود احتجاج کی سربراہی کروں گا۔بدھ کو اپنے بیان میں بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ قاتلانہ حملہ چوہدری یاسین پر ہوا اور پولیس نے حملہ آوروں پر مقدمہ درج کرنے کے بجائے الٹا چوہدری یاسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔انہں نے کہاکہ کوٹلی سے میرے نامزد امیدوار چوہدری یاسین نے اپنے خلاف ہوئے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی مگر پولیس نے درج نہیں کی،اگر میرے کارکنوں کے خلاف سیاسی انتقام کا سلسلہ بند نہ ہوا تو میں آزاد کشمیر میں خود احتجاج کی سربراہی کروں گا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان سے کشمیر میں پی پی پی کی جیت ہضم نہیں ہوئی اور انہوں نے امورِ کشمیر میں غیرآئینی مداخلت کرکے جیالے امیدوار سے سیاسی انتقام لینا شروع کردیا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے تحصیل چڑھوئی میں ہوئے دو افراد کے قتل کے افسوس ناک واقعے میں براہ راست جج بن کر پی پی پی امیدوار کو مجرم ٹھہرادیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ کیسی مدینے کی ریاست ہے کہ عمران خان کے خلاف تقریر کرلو تو نیب نوٹس بھیج دیتا ہے، سیٹ جیت لو تو قتل کا مجرم بنادیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ دو افراد کے قتل کے افسوس ناک واقعے میں چوہدری یاسین کے جوڈیشل انکوائری کے مطالبے پر عمل کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی میں عمران خان کے چوہدری یاسین کے خلاف سیاسی انتقام کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی کے اثرات دور رس ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ دو نشستوں سے کامیاب ہونے والے چوہدری یاسین سے عمران خان کا سیاسی انتقام چھوڑی جانے والی ایک نشست کو ہتھیانے کے لئے بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی ایما پر پی پی پی رہنما چوہدری یاسین کے گھر کے محاصرے سے لے کر چادر اور چار دیواری تک کا تقدس پامال کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں